پلازما کے ذریعہ کورونا متاثرین کی زندگیاں بچارہے ہیں تبلیغی جماعت کے لوگ؛ کیا ہوتا ہے یہ پلازمہ؟

04:18PM Mon 27 Apr, 2020

نئی دہلی: ملک  میں کورونا وائرس کا سب سے زیادہ شکار ہوئی تبلیغی جماعت کے لوگ اب کورونا متاثرین کی مدد کےلئے آگے آئے ہیں۔ تبلیغی جماعت سے منسلک افراد نے اپنا پلازما عطیہ کرنا شروع کردیا ہے۔ دہلی کے سلطانپوری کوارنٹائن سینٹر میں موجود 4 تبلیغی جماعت سے منسلک افرادنے اپنا پلازما عطیہ کیا ہے۔ کوئی ویکسین اور دوائی نہ ہونےکی پریشانی جھیل رہی دنیا میں پلازما تھیریپی کو اپنایا جارہا ہے۔ تبلیغی جماعت سے منسلک افرادکے پلازما کو ٹرائل میں کام میں لایا جائےگا اور اس تھیریپی کے ذریعے کورونا وائرس سے متاثر مریضوں کی مدد کی کوشش کی جائےگی۔ تفصیلات کے مطابق تبلیغی جماعت کےلوگ رمضان المبارک کے پاک مہینے میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی مدد کےلئے آگے آئے اور دہلی کے اسپتالوں میں اپنا روزہ کھولنےکے بعدجانچ کےلئےخون کے نمونے دیئے، جن میں سے تقریباً  300 تبلیغی جماعت کے افراد منفی پائے گئے، نریلا میں تبلیغی جماعت کے 190 مریض ہیں، سلطان پوری میں 51 اور منگلول پوری میں تبلیغی جماعت سے وابستہ  42 افراد موجود ہیں۔ معلومات کے مطابق  دہلی کے اسپتالوں میں 1068 کورونا سے متاثر تبلیغی جماعت کے افراد موجود ہیں، جن میں سے تقریباً 300 جماعت کے افراد کی دوبارجانچ کے بعد منفی رپورٹ  آئی ہے، جس کے بعد یہ تمام افراد کورونا سے متاثر مریضوں کی مدد کےلئے تیار ہیں۔  کل رات تبلیغی جماعت کے 4 افراد نے خون کا پلازما عطیہ کیا۔
محمد عثمان جو نریلا کوارنٹاین سینٹر میں ہیں، انھوں نےکہا کہ "میں 31 مارچ سے ہی کوارنٹاین میں ہوں اور اسی جگہ کے قریب خون پلازما سینٹر بنایا گیا ہے اور مجھے آج خون پلازما عطیہ کرنے کے لئےلایا گیا ہے۔ مولانا سعد نے ہمیں پلازما کا عطیہ کرنےکےلئے کہا تھا۔ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ لوگ جو کورونا وائرس سے متاثر ہیں، ان کےلئےخون کا پلازما عطیہ کریں تاکہ انہیں فائدہ ہو سکے، چاہے وہ ہندو ہوں یا مسلم"۔
تمل ناڈو کے فاروق بادشاہ نے بھی اپنےخون کا پلازما سلطان پوری کوارنٹائن سینٹر میں عطیہ کیا۔ غور طلب ہےکہ تبلیغی جماعت کے افراد کےکورونا سے بڑی تعداد میں متاثر ہونےکی وجہ سے اس معاملےکو لےکر تنازعہ ہوتا رہا اور تبلیغی جماعت پر ملک میں کورونا کی وبا پھیلانےکا الزام بھی عائدکیا جاتا رہا، لیکن اس پورے معاملےکا عجیب پہلو یہ ہےکہ کرونا متاثرین کی زندگیاں بچانےکےلئے اب تبلیغی جماعت ہی سب سے آگے نظر آرہی ہے۔
کیا ہوتا ہے پلازمہ؟ کورونا کے مریضوں کا پلازما کے ذریعے علاج کا طریقہ کار بالکل ویسا ہی ہے جیسے سانپ کے زہر سے ہی سانپ کے کاٹے کا علاج کیا جاتا ہے۔ اگر خون میں سے خون کے خلیے نکال دئیے جائیں تو جو باقی ہلکے زرد رنگ کا مائع بچتا ہے اسے پلازما کہتے ہیں۔ جو مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں ان کے خون میں کورونا وائرس کے خلاف اینٹی باڈیز بن جاتی ہیں۔ ان کے خون کے پلازمہ میں موجود یہ اینٹی باڈیز اگر کسی بیمار مریض کو انجیکٹ کی جائیں تو وہ جلد صحت یاب ہو سکتا ہے۔ میڈیکل سائنس میں اس Artificial passive immunity کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ایک بلڈ گروپ والے شخص کا خون دوسرے بلڈ گروپ والے شخص کو بعض اوقات نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ تخصیص پلازما میں نہیں۔ کسی بھی شخص کے خون کا پلازما کسی بھی دوسرے شخص میں انجیکٹ کیا جاسکتا ہے۔