آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے وفد کی کانگریس پارٹی کے ریاستی مشاہد وینو گوپال سے ملاقات
03:17PM Tue 5 Sep, 2017
بنگلو ر،؍ستمبر(بھٹکلیس نیوز) آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے ایک اعلیٰ سطحی مؤقر وفد نے کوسنل کے مرکزی سکریٹری حضرت مولانا شاہ قادری سید مصطفیٰ رفاعی جیلانی ندوی کی قیادت میں ریاست کرناٹک میں کانگریس پارٹی کے مشاہد و نگران کے سی وینو گوپال سے ملاقات کی اور انہیں ریاست میں مسلمانوں کی حالات اور ان کو درپیش مسائل کے علاوہ ان کے مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں ضروری اقدامات کی طرف متوجہ کیا اور اس تعلق سے ایک تفصیلی یادداشت بھی ان کی خدمت میں پیش کی۔آل انڈیا ملی کونسل کے اس وفد میں آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کے جنرل سکریٹری جناب سید شاہد احمد، ریاستی ملی کونسل کے خازن جناب عاصم سیٹھ افروز،اسسٹنٹ جنرل سکریٹری جناب جمیل احمد، سکریٹری شعبہ برائے تحفظ شریعت و اصلاح معاشرہ مولانا محمد نوشاد عالم قاسمی،ریاستی ملی کونسل کے رکن سید عاقب، ملی کونسل ضلع بنگلور کے صدر مولانا قاری محمد مظفر عمری، جنرل سکریٹری سید مظہر قادری، خازن ضلع بنگلور جناب نصر اللہ شریف آفتاب اور سکریٹری شعبہ برائے تعلیم جناب محمد فاروق شامل رہے۔ریاستی جنرل سکریٹری جناب سید شاہد احمد نے وفد کے اراکین اور آل انڈیا ملی کونسل کا تعارف پیش کیا اور ملک و ملت کی تعمیر و ترقی میں ملی کونسل کی خدمات کا تذکرہ کیا۔حضرت مولانا سید مصطفی رفاعی جیلانی ندوی نے یادداشت میں مذکور تمام امور پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔شری کے سی وینو گوپال نے تمام گفتگو اطمینان کے ساتھ سماعت کی اور یادداشت کو بھی پڑھنے کے بعد کہا کہ یہ تمام امور یقیناً بے حد اہم ہیں اور ریاستی حکومت اور کانگریس پارٹی کو ان باتوں کی طرف توجہ دینا چاہئے اور ایسا ضرور ہوگا۔آل انڈیا ملی کونسل کرناٹک کی جانب سے شری ویپو گوپال کی خدمت میں پیش کردہ یادداشت میں شری وینو گوپال کو ریاست کرناٹک میں پارٹی کے امور کا نگران اور مشاہد مقرر کئے جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی گئی ہے اور ملکی سیاست میں ان کے وسیع تجربات کے پیش نظر اس امید کا اظہار بھی کہ وہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی کو صحیح رخ فراہم کرنے اور آئندہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو شاندار کامیابی سے ہمکنار کرانے میں کامیاب رہیں گے۔ سال 2004 کے بعد سے ریاست میں کانگریس پارٹی کی سیاست میں کمزور کارکردگی اور اس کے بعد سال 2013 میں شاندار انداز میں اس کی اقتدار پر واپسی میں اقلیتی طبقات بالخصوص مسلمانوں کے اہم کردار کا بھی انہیں احساس دلایا گیا ہے اور شری سدارامیا کی قیادت میں اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے سلسلہ میں کئے گئے اقدامات پر اطمینان اور مسرت کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ ریاست میں کانگریس حکومت کے ان تمام اقدامات کا مسلم معاشرہ نے عمومیت کے ساتھ استقبال کیا ہے۔ان امور کے ساتھ ہی یادداشت میں درج ذیل مزید مطالبات پیش کئے گئے ہیں۔یونیورسٹیوں اور تقرراتی کمیٹیوں میں مسلمانوں کی نمائندگی:کانگریس پارٹی کے انتخابی منشور کے صفحہ نمبر پندرہ میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ریاست کی تمام یونیورسٹیوں اور تقرراتی کمیٹیوں میں اقلیتوں کو مناسب نمائندگی دی جائے گی، لیکن موجودہ حکومت نے تاحال ریاست کی تیس سے زائد یونویرسٹیوں میں سے کسی ایک میں بھی (ٹمکور یونیورسٹی کو چھوڑ کر)کسی مسلمان کو وائس چانسلر مقرر نہیں کیا ہے۔اس کے علاوہ تقرراتی کمیٹیوں میں بھی مسلمانوں کو کوئی نمائندگی نہیں دی گئی ہے۔قلیتوں کے تعلیمی اور تربیتی اداروں کے قیام کی حوصلہ افزائی:انتخابی منشور 2013 میں یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ اقلیتی تعلیمی اور تربیتی اداروں کے قیام کے سلسلہ میں حکومت ہر طرح کی حوصلہ افزائی کرے گی اور اس کے لئے این او سی کے اجراء کے علاوہ ہر طرح کا تعاون فراہم کیا جائے گا۔لیکن اس کے برعکس ریاستی حکومت نے اقلیتوں کو اپنے تعلیمی ادارہ جات کے قیام کے سلسلہ میں 11 نومبر 2014 کو جاری کردہ اپنے ایک حکم نامہ کے ذریعہ مشکلات پیدا کر دئے ہیں، اس حکم نامہ میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی تعلیمی ادارہ کے قیام کے لئے کارپوریشن کی حدود میں آدھا ایکڑ اور کارپوریشن سے باہر کے علاقوں میں ایک ایکڑ کی زمین ادارہ کی ملکیت میں ہونا ضروری ہے تاکہ اسکول کے قیام کی اجازت حکومت سے حاصل ہو سکے۔کئی اقلیتی ادارہ جات ، اس لازمی شرط کی وجہ سے اپنے تعلیمی ادارے قائم کرنے سے قاصر ہیں۔نام نہاد دہشت گردی اور فرقہ وارانہ فسادات کے شکار معصوم نوجوانوں کو انصاف:انتخابی منشور میں یہ بھی وعدہ کیا گیا تھا کہ پارٹی اگر برسر اقتدار آجاتی ہے تو دہشت گردی اور دوسرے معاملات کی سماعت کے لئے خصوصی فاسٹ ٹراک عدالتیں قائم کی جائیں گی۔اس کے علاوہ یہ بھی کہا گیا تھا کہ دہشت گردی کے الزامات اور دوسرے جرائم میں ملوث ہونے کے الزام پر گرفتار معصوم افراد کے معاملات کی تحقیقات کے لئے ہر ضلع میں کسی وظیفہ یاب ہائی کورٹ جج کی قیادت میں نظر ثانی کمیٹیوں کا قیام عمل میں لایا جائے گا، لیکن یہ وعدے بھی ابھی تک پورے نہیں کئے جا سکے ہیں۔سال 2000 کے بعد سے ریاست بھر میں کئی اقلیتی نوجوانان جن میں بڑی تعداد مسلمانوں کی ہے ، انہیں دہشت گردی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔حالانکہ ان میں سے بعض کو ضمانت پر رہا کیاگیا ہے لیکن اکثر افراد ابھی بھی جیلوں میں سڑ رہے ہیں اور یہ رپورٹیں بھی آرہی ہیں کہ انہیں جیلوں میں سخت اذیتیں دی جاتی ہیں۔’’دہشت گردی‘‘ کے مبینہ ملزمین کے مقدمات کی تیز رفتار کارروائی کے لئے ’’خصوصی فاسٹ ٹراک عدالتوں‘‘ کا قیام وقت کی اہم ترین ضرورت ہیجاتا ہے اور اس کا اثر و رسوخ بھی پایا جاتا ہے۔