راہل گاندھی کا دارالعلوم دیوبند کا دورہ ، علما سے کی ملاقات

03:18PM Wed 5 Oct, 2016

  • کانگریس کے نائب صدر سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان مشہور اسلامی تعلیم ادارہ دارالعلوم دیوبند پہنچے اور ادارے کے مہتمم مفتی ابو قاسم نعمانی سے گیسٹ ہاؤس میں ملاقات کی۔ اس دوران ادارے کے نائب مہتمم مولانا عبدالخالق مدراسی اور دیگر اہم علماء بھی موجود تھے۔ دارالعلوم کے ترجمان کے مطابق راہل گاندھی اور مہتمم کی ملاقات غیر سیاسی رہی۔ تاہم ادارے کے طالب علموں میں راہل کو لے کر انتہائی جوش و خروش نظر آیا۔ مسٹر گاندھی نے بھی گرم جوشی کے ساتھ ان کے سلام کا جواب دیا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل راہل گاندھی 2007 میں اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے دوران دیوبند دارالعلوم میں آئے تھے۔ انہوں نے ادارے کے اس وقت کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمان سے ملاقات کی تھی۔ اس سے قبل دیوریا سے دہلی کسان یاترا پر نکلے راہل گاندھی نے وزیر اعظم مودی پر ایک بار پھر حملہ بولا ۔ روڈ شو کے دوران راہل نے کہا کہ اس ملک میں سب دکھی ہیں، صرف 15 لوگ ہی خوش ہیں، جن کا مودی جی نے قرض معاف کردیا ہے۔ راہل گاندھی نے مودی کو نفرت پھیلانے والا قرار دیتے ہوئے ان پر مذہب اور ذات کی بنیاد پر ملک کو تقسیم کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ راہل نے کہا کہ مودی نے غریبوں کا بھلا نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ صنعت کاروں کا 1.10 لاکھ کروڑ معاف کردیا گیا، لیکن وزیر اعظم مودی نے کسانوں کا ایک بھی روپیہ قرض معاف نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم مودی نے گجرات میں پاٹیداروں کے ساتھ مار پیٹ کی گئی۔ کانگریس نائب صدر نے لوگوں سے اپیل کی کہ اگر کانگریس کی حکومت بنی ، تو 10 دن میں کسانوں کا قرض معاف کردیا جائے گا اوربجلی کے دام بھی آدھے ہوجائیں گے۔ خیال رہے کہ دارالعلوم کی مجلس شوری کے سابق رکن مرحوم مولانا اسد مدنی اور راہل گاندھی کی دادی آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے انتہائی قریبی تعلقات تھے۔