وزیر اعظم مودی کی تقریر سے ملک میں کروڑوں ہندو رو رہے ہیں: توگڑیا

03:38PM Sun 14 Aug, 2016

توگڑیا کی مود ی پر سخت تنقید، قصائیوں کو کلین چٹ اور جنہوں نے انہیں وزیر اعظم بنایا ان کو اب کچلنا چاہتے ہیں مودی اب گایوں کی حفاظت انتہائی مشکل، ملک بھر کے سادھو سنتوں میں غصہ کی لہر نئی دہلی :اب تو یہ بات روز بروز واضح ہوتی جارہی ہے کہ شدت پسند و تنظیمیں مودی کو صرف گجرات فسادات کے لباس میں ہی پسند کرتی ہیں ۔وزیراعظم مودی کی تقریر ٹائون ہال میں پس منظر اور کوئی بھی ہو لیکن انہیں بھی اب یہ حملے برے لگنے لگے ہیں ۔ ان حملوں کی وجہ سے ملک و بیرون ملک وزیر اعظم کی زبردست کرکری ہورہی ہے۔اسی بیان کے پس منظر میں شو ہندو پریشدنے ٹائون ہال پروگرام میں گؤ رکشکوں کے سلسلے میں دئے گئے بیان کے لئے آج وزیر اعظم نریندر مودی پر سخت حملہ کیا اور کہا کہ انہوں نے دلتوں پر زیادتی اور گؤ رکشک سنگھٹن کو آپس میں جوڑ کر ہندو سماج کو تقسیم کرنے اور گائیوں کا قتل کرنے والے قصائیوں کو کلین چٹ دی ہے ۔ وی ایچ پی کے بین الاقوامی صدر پروین توگڑیانے یہاں منعقد ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ گؤ رکشکوں کے بارے میں وزیر اعظم کی تقریر کے بعد ملک میں کروڑوں ہندو رو رہے ہیں۔ بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے کھانا پینا چھوڑ دیا ہے ۔ ملک بھر میں سادھو سنت غصہ میں ہیں۔ لوگوں کو محسوس ہورہا ہے کہ ملک میں گؤ ونش کی حفاظت ا ب اور مشکل ہوگئی ہے ۔ وزیر اعظم نے گؤ رکشکوں کو کچلنے کا حکم دیا ہے جس سے قصائیوں کو کلین چٹ مل گئی ہے اور اب مزید گایوں کا قتل ہوگا۔ مسٹر توگڑیا نے کہا کہ اچھا ہوتا کہ وزیر اعظم مسئلہ کی جڑ میں جاتے اور گؤ ہتیا رکوانے کے لئے ٹھوس قدم اٹھاتے ۔ کئی ریاستوں میں گؤ ہتیاغیر قانونی ہے پھر بھی گایوں کو کاٹا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر گایوں کا غیر قانونی طور پر قتل نہیں ہوتا اور قانون اپنا کام کرتا تو گؤ رکشکوں کا کام ہی کیا رہ جاتا۔ ملک میں آزادی کے وقت فی ہزار آبادی پر 444گائیں تھیں جو اب چالیس رہ گئی ہیں۔ یہ ثبوت ہے کہ گایوں کی اسمگلنگ اور غیر قانونی طورپر ان کے قتل کی وجہ سے گؤ ونش ختم ہونے کے دہانے پر ہے ۔ وی ایچ پی لیڈر نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان سے بات کرنے کے حق میں ہیں تو گؤ رکشکوں سے بھی بات کرلیتے ۔ جن گؤ رکشکوں نے الیکشن میں انہیں کامیاب بنانے کے لئے جی جان لگادیا وہ آج بہت دکھی ہیں۔ اگر مسٹر مودی گائے کو بچانے کے لئے پہل کرتے تو گؤ رکشک بھی قانون پر عمل کرتے ہوئے تعاون کرتے لیکن اس کے بجائے وزیر اعظم نے کہہ دیا کہ گؤ رکشک فرضی ہیں اور رات کے اندھیرے میں گورکھ دھندے کرنے والے سماج دشمن عناصر دن میں گؤ رکشک بن جاتے ہیں۔ ڈاکٹر توگڑیا نے کہا کہ اونا کے واقعہ کے بعد وی ایچ پی نے فوراً کارروائی کی تھی اور اس واقعہ کی مذمت کی تھی۔ وی ایچ پی چاہتی ہے کہ ہر شیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ذات کے فرد خواتین ،غریب ، پسماندہ طبقات کے لوگوں کو مکمل تحفظ اور عزت کو یقینی بنایا جائے لیکن اس کے ساتھ ہی گؤ ماتا کی بھی حفاظت یقینی بنائے جائے ، لیکن دونوں معاملات کو ایک ساتھ جوڑ کر مسٹر مودی نے ہندو سماج کے سامنے سوالیہ نشان کھڑا کردیا ہے ۔ا نہوں نے کہا کہ اگر ان کے بیان کے بعد گؤ ہتیا میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری مودی پر ہوگی۔انہوں نے دہرایا کہ وی ایچ پی د لتوں کی سلامتی کے لئے عہد بند ہے اور اگر حکومت اور سماج مل کر کام کرے تو دلتوں پر ہونے والی زیادتی کو روکا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم حکم دیں تو وہ ملک کے گؤ رکشکوں کو ان کے سامنے کھڑا کرنے کے لئے تیار ہیں تاکہ وہ انہیں سچ بتا سکیں۔ اگر وزیراعظم مانتے ہیں کہ اسی فیصد گؤ رکشک سماج دشمن عناصر ہیں تو انہیں اپنے الزام کی تائید میں اعدادو شمار پیش کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ پلاسٹک کے کھانے سے گائیں زیادہ مرتی ہیں اور قصائیوں کے ہاتھوں سے کم تو انہیں اس کے بارے میں بھی سرکاری اعدادو شمار کو عام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے وزیر اعظم کے سامنے اپنے چند مطالبات بھی رکھے اور کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ ان کے بچپن کے دوست ضرور انہیں تسلیم کریں گے ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مسٹر مودی الیکشن کے دوران کئے گئے اپنے وعدے بیف کے ایکسپورٹ کو فوراً بند کرائیں۔ لوک سبھا او رراجیہ سبھا کا مشترکہ اجلاس بلا کرگؤ ہتیا کا مرکزی قانون بنائیں۔ جب تک قانون نہ بنے اس وقت وزیر اعظم کے دفتر کے تحت ایک گؤ رکشا ہیلپ لائن بنائی جائے اور اس سے جوڑ کر کوئک رسپانس ٹیم قائم کی جائے ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گائے کی اسمگلنگ اور گؤ ہتیا کے معاملے کو دیکھیں تو اس کا ویڈیو بناکر وزیر اعظم اور انہیں ٹوئٹر پر بھیجیں۔اسی طرح بنگلہ دیش کی سرحد پر گایوں کی اسمگلنگ کی ویڈیو بھی وزیر اعظم اور انہیں بھیجیں ۔مسٹر توگڑیا نے کہاکہ انہیں امید ہے کہ وزیر اعظم اپنی تقریر واپس لیں گے اور ان کے مشوروں کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔