نما میٹرونے قیام کے6 سال پورے کرلئے مزید کوچ بڑھانے کا فیصلہ عنقریب، دسمبر سے خواتین کے لئے خصوصی ڈبہ

06:40AM Sun 22 Oct, 2017

بنگلور:22 ؍اکتوبر(ایجنسی) نما میٹرو کی مقبولیت اور افادیت میں اضافہ ہوا ہے، جمعرات تک اس کے پھیروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ6 سال تقریباً7 گنا اضافہ ہوا ہے، یہ جنوبی ہندوستان کی پہلی میٹرو ٹرین ہے، جو20 اکتوبر 2011 کو ایم جی روڈ سے شروع کی گئی تھی، یہ ہمارے ملک کا دوسرا بڑا آپریشنل نیٹ ورک ہے، جبکہ دہلی میٹرو پہلے نمبرہے، فی الوقت پرپل لائن پر23 ہے اور گرین لائن پر27 ریل گاڑیاں چل رہی ہیں، پہلے ان کو کھلونا ریل گاڑیاں کہہ کر کا مذاق اڑایا گیا بعدازاں مختلف علاقوں سے ان ٹرینوں کو چلانے کی مانگ کی گئی، جولائی کے مہینہ سے ان ٹرینوں میں مزید کوچس کو بڑھایا گیا ہے، نما میٹرو کی مقبولیت اور افادیت میں اضافہ ضرور ہوا ہے، عوامی مقبولیت سے بنگلور میٹرو ریل کارپوریشن لمٹڈ کو 2017 میں مختلف چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑا تھا، ٹرینوں میں کام کرنے والے عملہ نے جولائی کے مہینہ میں آدھا دن ٹرینوں کو چلانے سے انکار کردیا تھا، کنڑا تنظیموں کے کارکنان نے ڈسپلے پر ہندی بورڈوں کے سلسلہ میں تھوڑی ٹرینوں کی سرویس میں خلل ڈال دیا تھا، اورنیز لائن جو ناگوارا سے گوٹی کیرے کے لئے بھی مخالفت کی گئی تھی۔مقررہ ٹرینوں کے پھیروں سے تقریباً3:50 لاکھ مسافر مصروف اوقات میں سفر کرتے ہیں اور تقریباً3.2 لاکھ مسافر ہر ہفتہ کے آخر میں سفر کرتے ہیں، اور یہ تعداد مستقبل میں بڑھ سکتی ہے، جب ساری ٹرینوں کو سکس کار میں 2018 تک تبدیل کردیا جائے گا، ایک اعلیٰ افسر نے اس کی اطلاع دی، بہت دنوں سے انتظار کئے جانے والی لیڈ لیس کوچ کا اسی سال دسمبر سے آغاز کردیا جائے گا، اس کے لئے دو ٹرینوں میں تجربہ کیا جائے گا، جس میں افزود کوچوں کو جوڑا جائے گا، نما میٹرو دہلی کے بعد جس کی 50 ٹرینیں چلتی ہیں، ہندوستان کی دوسری بڑی آپریشنل نیٹ ورک ہے، نئے سال کے آغاز کے لئے اور حال ہی میں ہوئی بارشوں سے بی ایم آر سی ایل نے بھی ٹرینوں کے اوقات کے بارے میں تعاون کرنے کا وعدہ کیا ہے، اپنے فیز2 لائن کا اور اس میں جو نقصانات ہوئے ہیں، اس پر بی ایم آر سی ایل خود ایک تفصیلی پراجکٹ رپورٹ تیار کرے گی، اور اس پراجکٹ میں نان فیز روینیو جیسے اسٹیشنوں میں پارکنگ، اشتہارات، کمرشیل آوٹ لیٹ کاکرایہ سب شامل کیا جائے گا۔مسافروں کو گھر سے ملازمتوں کی جگہ اور ملازمتوں کی جگہوں سے گھر تک رات دیر گئے پہنچانے کے لئے ٹرانسپورٹیشن اور پارکنگ جیسے مسائل ابھی باقی ہیں۔