اقلیتی قیادت کے اتحاد کے نتیجہ میں بجٹ میں اضافہ:تنویر سیٹھ

03:01PM Thu 16 Mar, 2017

بنگلور میں عنقریب اردو ہال کی تعمیر کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا بنگلورو۔(بھٹکلیس نیوز)وزیر برائے اوقاف ، اقلیتی بہبود وتعلیمات عامہ تنویر سیٹھ نے ریاستی بجٹ میں اقلیتوں کیلئے افزود فنڈ فراہم کرنے پر وزیراعلیٰ سدرامیا اور مسلم قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایاکہ گزشتہ سال کی بہ نسبت اس مرتبہ کے بجٹ میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کیلئے ریاست کی مسلم قیادت کا اتحاد ذمہ دار ہے۔ اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ سدرامیا کے ذریعہ پیش کردہ بجٹ اقلیتوں کیلئے بے حد کارآمدہے، اور مسلم قیادت نے نومبر سے ہی بجٹ کی تیاریوں کا آغاز کردیاتھا، اور مسلم لیجسلیچرس فورم کے تحت تمام قائدین نے متحد ہوکر وزیراعلیٰ کے روبرو متفقہ تجویز پیش کی ، جس کے نتیجہ میں اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایاکہ 2013میں 80فیصد مسلمانوں نے کانگریس کا ساتھ دیا ، جس کے نتیجہ میں ریاست میں سدرامیا قیادت والی حکومت کو اقتدار حاصل ہوا۔ جب بی جے پی حکومت تھی اس وقت 2013-14میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 412کروڑ تھا۔ آج سدرامیا کے ذریعہ پیش کردہ بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 8 گنا زیادہ فنڈ فراہم ہوا ہے، جس میں کئی نئی اسکیمیں جاری کی گئی ہیں۔ اب تک ریاستی بجٹ میں سے اقلیتی بہبود کیلئے فراہم ہونے والا فنڈ صرف 0.26 فیصد تھا، جو اب 1.21 فیصد ہوگیا ہے۔تنویر سیٹھ نے بتایاکہ مرکزی حکومت نے اقلیتی امور کیلئے پورے ملک کیلئے 4417 کروڑ روپیوں کا بجٹ مختص کیا ہے، جبکہ صرف ریاست کرناٹک میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 2750کروڑ ہے، جو پورے ملک کی واحد ریاست ہے جس نے اتنا بڑا فنڈاقلیتوں کو فراہم کیا ہے۔اسی طرح بجٹ میں اوقافی املاک کے تحفظ وترقی کے علاوہ محکمۂ آثار قدیمہ کے تحت آنے والے اوقافی اداروں کی نگرانی کیلئے بھی اقدامات کئے گئے ہیں۔ اردو اسکولوں سے متعلق انہوں نے بتایاکہ ریاست میں 7950 اردو اسکول تھے، مگر انگریزی اور کنڑا کے جنون کے سبب طلبا اردو اسکولوں سے دور ہوتے گئے ، جس کے سبب پہلی مرتبہ مولانا آزاد پبلک اسکول قائم کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے، جہاں پر صرف پہلی زبان کے طور پر اردو تعلیم دی جائے گی، جبکہ ذریعہ تعلیم کنڑا یا انگریزی ہوگی۔ اسی طرح مرارجی دیسائی رہائشی اسکولوں میں دینی تعلیم کا نظام شروع کیاگیا ہے۔بجٹ میں مسلم نوجوانوں کو دفاعی شعبہ اور پولیس میں شامل ہونے کے اہل بنانے کیلئے تربیت فراہم کرنے کا فیصلہ لیاگیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایاکہ پری میٹرک اور پوسٹ میٹرک اسکالر شپ کیلئے جن لوگوں نے عرضیاں داخل کی تھیں انہیں 31؍ مارچ تک اسکالر شپ کی رقم فراہم کردی جائے گی۔ جناب تنویر سیٹھ نے بتایاکہ ائمہ اور موذنین کو فراہم ہونے والے اعزازیہ میں بھی اضافہ کا فیصلہ لیا گیاہے جو خوش آئند ہے۔ گزشتہ سال 3169 اوقافی اداروں کوامداد فراہم کی گئی تھی، جن میں 1430قبرستان اور 212 عیدگاہوں کی حصار بندی شامل ہے ،تاکہ ان اوقافی اداروں کا تحفظ ہوسکے۔ شہر بنگلور میں مسلمانوں کی تعلیمی اور ادبی سرگرمیوں کیلئے مخصوص عمارت نہ ہونے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر موصوف نے بتایاکہ بجٹ میں 2000نشستوں پر مشتمل آڈیٹوریم کے علاوہ محکمۂ اقلیتی بہبود کے دفاتر کیلئے 20کروڑ کے تخمینہ سے مولاناابوالکلام آزاد بھون تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا گیاہے، جس کیلئے جگہ کی تلاش جاری ہے، اسی طرح رواں سال کے دوران وہ کسی بھی حال میں شہر کے مضافات میں اردو ہال کی تعمیر کے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی کوشش کررہے ہیں ، جس کیلئے جگہ کی نشاندہی کا مرحلہ جاری ہے، اور دس کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔ جناب تنویر سیٹھ نے بتایاکہ ریاست میں 39ہزار اوقافی اداروں کی ایک لاکھ سے زائد املاک موجود ہے۔ جن کے دستاویزات جمع کرنے کے ساتھ حساب کتاب رکھنے کے ساتھ قانونی چارہ جوئی کے مراحل سے واقف کرانے کیلئے اوقافی اداروں کے عہدیداروں کے علاوہ وقف عملے کو تربیت دینے کیلئے شہر بنگلور میں وقف ٹریننگ سنٹر کے قیام کا اعلان کیاگیا ہے۔ اسی طرح اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والی لڑکیوں اور ملازمت پیشہ خواتین کیلئے دس مقامات پر ورکنگ ویمنس ہاسٹل تعمیر ہوں گے۔ بدائی اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایاکہ اب تک 33؍ ہزار عرضیاں زیر التواء تھیں، جس کیلئے 50کروڑ روپے درکار تھے، یہ فنڈ جاری کردیا گیا ہے، جس سے تمام زیر التواء عرضی گذاروں کو رقم جاری ہوجائے گی۔ آئی آئی ٹی ، آئی آئی ایم اور آئی آئی ایس سی میں داخلہ حاصل کرنے والے اقلیتی طلبا کو ایک مرتبہ دولاکھ روپیوں کی اسکالر شپ فراہم ہوگی، لائبریری اور تعلیمات کا قلمدان رکھنے کے سبب مرارجی دیسائی اسکولوں میں ڈجیٹل لائبریری کے ساتھ کنڑا اور اردو ڈی ٹی پی ٹریننگ کی سہولت فراہم ہوگی۔ اور گیارہ مرارجی دیسائی رہائشی اسکولوں میں امسال سے پی یو کورس شروع کرنے کی اجازت فراہم کی گئی ہے۔ وزیر موصوف نے بتایاکہ میسور کے مجلس رفاہ المسلمین یتیم خانہ میں تعلیمی ادارہ وہاسٹل کے قیام کیلئے دو کروڑ روپے اور مرغ ملہ میں باز آباد کاری مرکز کیلئے دو کروڑ روپے فراہم کئے جائیں گے۔اسی طرح تمام مسابقتی امتحانات کیلئے اقلیتی امیدواروں کو تربیت فراہم کرنے کیلئے 20؍ کروڑ روپے مختص ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ خصوصی فنڈ کے تحت مسلم کالونیوں کی ترقی کیلئے مسلم اراکین اسمبلی کی نمائندگی والے حلقوں کیلئے فی کس 3.75کروڑ اور دیگر حلقوں کیلئے فی کس 1.5کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔ تلنگانہ میں میکانک اور دیگر فنی مہارت رکھنے والے اقلیتی افراد کیلئے مکان دکان اسکیم رائج ہے ، اسی طرز پر ریاست کرناٹک میں اس اسکیم کا اعلان ہوا ہے، جس کے ذریعہ سبسیڈی کے ساتھ دکان کے ساتھ مکان فراہم کیا جائے گا اور تین لاکھ روپے سبسیڈی پر 500 ٹیکسی فراہم کئے جائیں گے۔ان کے مطابق کرناٹکا اردو اکاڈمی کیلئے 2.15کروڑ روپے فراہم ہوں گے۔انہوں نے واضح طور پر بتایاکہ پہلی تا دسویں جماعت میں جو زعفرانی رنگ تھا اسے پوری طرح سے ہٹانے میں انہوں نے کامیابی حاصل کرلی ہے، اور پہلی جماعت سے انگریزی تعلیم کے لزوم کے ساتھ طالبات کیلئے چوڑیدار کی فراہمی کا فیصلہ لیا گیا ہے، اور پہلی تا بارھویں جماعت ایک ہی عمارت میں تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے 176ایجوکیشنل کامپلکس تعمیر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے، جس کے تحت شیواجی نگر کے وی کے عبیداﷲ اسکول میں پی یو کالج کے قیام کی منظوری دی جائے گی۔ اس موقع پر مسلم لیجسلیچرس فورم کے سکریٹری عبدالجبار نے بتایاکہ وزیراعلیٰ سے فورم نے جو نمائندگی کی اسی کے نتیجہ میں فنڈ میں اضافہ ہوا ہے، جس کیلئے وہ مسلم وزراء آر روشن بیگ، تنویر سیٹھ ، یوٹی قادر اور تمام مسلم لیجسلیٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے اقلیتوں سے درخواست کی کہ جو سیاسی جماعت ان کا ساتھ دیتی ہے وہ بھی اس کا ساتھ دیں۔ بلگاوی کے رکن اسمبلی فیروز نورالدین سیٹھ نے بتایاکہ فی الحال کابینہ میں تین اہم قلمدانوں پر مسلم وزراء مامور ہیں اور تینوں کافی تجربہ کار ،دانشور اور ملت کا درد رکھنے والے ہیں۔ ٹمکور کے رکن اسمبلی ڈاکٹر رفیق احمد شیخ نے بتایاکہ اس مرتبہ نومبر سے ہی مسلم لیڈروں نے بجٹ کی تیاریوں سے متعلق کام شروع کردیاتھا، جس کے بعد کئی میٹنگس ہوئی ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ آج اقلیتوں کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔اس موقع پر محکمۂ اقلیتی بہبود کے سکریٹری محمد محسن ، کے ایم ڈی سی چیرمین ایم اے غفور، ریاستی وقف بورڈ کے سی ای او ذوالفقار اﷲ ، اقلیتی ڈائرکٹریٹ کے ڈائرکٹر اکرم پاشاہ ،کے ایم ڈی سی منیجنگ ڈائرکٹر این ٹی آبرو ، کرناٹکا بیت الحجاج ممبئی کے اڈمنسٹریر سید اعجازاحمد ، مجیب اﷲ ظفاری کے علاوہ کئی لیڈران موجود تھے۔