سپریم کورٹ جج تنازعہ۔ہے کوئی راز جس کی پردہ داری ہے؟
12:49PM Mon 15 Jan, 2018
بنگلورو۔15 جنوری(تجزیاتی رپورٹ) گذشتہ دو دن قبل سپریم کورٹ کے چیف جسٹس دیپک مشرا کے طریقۂ کار پر وہیں کے چار سینئر ججوں نے جس طرح کے سنگین الزامات لگائے ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔ ہندوستان کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سینئر اور جونیئر ججوں کی لڑائی سڑک پر آگئی ہے ۔اس سے ہندوستان کا ہر باشندہ واقف ہوگیا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں بھی سب کچھ ٹھیک نہیں چل رہاہے ۔ سپریم کورٹ پر عوامی اعتماد کو ضرور جھٹکا لگا ہے لیکن جمہوریت ایک بار پھر زندہ ہوئی ہے ۔ عدالت عظمیٰ کے چاروں سینئر ججوں نے میڈیا کے سامنے جن الزامات کو سنگین بتاتے ہوئے رکھا ہے ان میں سے سہراب الدین انکاؤنٹر کے علاوہ تمام الزامات اتنے سنگین نہیں ہیں کہ اس کے لئے پریس کانفرنس کی نوبت آجائے ۔جن الزامات کی نشاندہی کی گئی ہے اسے آپس میں مل بیٹھ کر حل کیا جاسکتا ہے کیونکہ روز مرہ کی زندگی میں اس طرح کے حالات سینئر اور جونیئر کے درمیان، بڑے اور چھوٹوں کے درمیان، مالک اور نوکر کے درمیان پیش آتے رہے ہیں ۔ سوال یہی اٹھ رہا ہے کہ آخر چار سینئر ججوں کو پریس کانفرنس کی نوبت کیوں آئی ۔ یہ اب بھی ایک راز ہے جس کی پردہ داری جاری ہے ۔ گذشتہ دنوں ہی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جگدیش سنگھ کیہر نے ہندوستان کی موجودہ انتہائی فرقہ واریت کی حالت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ ملک جیسے کو تیسے کی راہ پر چل پڑا ہے یعنی ہندوتوا کے فروغ میں اس ملک میں رہنے والے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو شک کی نظر سے دیکھنے پر مجبور کردیا ہے ۔ اگر ایسا ہے تو یقیناً فرقہ پرستانہ بیانات کے اثرات ہندوستان کے تمام اداروں پر پڑرہے ہیں ۔ کیونکہ آر ایس ایس نے تعلیمی، سماجی اوردیگر اداروں کے بڑے بڑے عہدوں پر اپنے ہم خیال لوگوں کو بٹھارکھا ہے ۔آج ہر کلیدی ادارے میں سنگین نظریات کے حامل افراد کا تقرر کرکے اس کو اپنی مٹھی میں جکڑنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان پیدا ہوئے تنازع کے بہانے کیا آر ایس ایس کی کوکھ سے جنم لینے والی بی جے پی اپنے لوگوں کو کلیجیم سسٹم کو ختم کرکے عدالتوں میں بٹھانا چاہتی ہے ۔ اس کا بہانہ یا اس سسٹم کو ختم کرنے کا بہانہ مودی سرکار کو مل گیا ہے ۔کلیجیم سسٹم میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے علاوہ چار سب سے سینئر ججوں کا پینل ہو تا ہے ۔ یہی کلیجیم ہی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری اور ٹرانسفرکی سفارشات کرتا ہے ۔ یہ سفارشات منظوری کے لئے صدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو بھیجی جاتی ہیں اور جج کا تقرر کردیا جاتا ہے ۔ لیکن مودی حکومت نے 2014 میں ججوں کے تقرر میں حکومت کی بھی مداخلت کا ایک قانون بنایاتھا جسے نیشنل جوڈیشل اپائنٹمنٹ کمیشن کہاجاتا ہے جس کے تحت ججوں کی تقرری کے لئے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کے علاوہ دو سینئر جج اوردوماہرین قانون کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ۔لیکن مودی سرکار کے اس قانون کو سپریم کورٹ کی بنچ نے یہ کہتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا کہ اس میں ججوں کی تقرری میں حکومت کو بھی دخل دینے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ ایسا کرکے حکومت کلیجیم سسٹم کو ختم کرنے کی کوشش میں لگ گئی ہے ۔ذرائع کا ماننا ہے کہ مودی کے لئے یہ ایک بہترین موقع ہے ۔ موجودہ وقت میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تقرری کلیجیم سسٹم کے مطابق ہوتی ہے ۔ایک موقع پر سپریم کورٹ نے کلیجیم سے جن ناموں کی سفارش کی تھی ان میں ملک کے سابق سالیسٹر جنرل اور سرکردہ وکیل گوپال سبرامنیم بھی شامل تھے ۔ اطلاعات کے مطابق انٹلی جنس بیورو اور سی بی آئی کی جانب سے ناموافق رپورٹ ملنے کے سبب حکومت نے ان کا نام کلیجیم بھیجنے سے روک دیا جس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سابق سالیسٹر جنرل گوپال سبرامنیم نے اس وقت کے چیف جسٹس کے نام ایک مکتوب میں لکھا کہ چونکہ انہوں نے گجرات میں سہراب الدین اور ان کی اہلیہ کوثربی کے فرضی انکاؤنٹر کے معاملہ میں وزیر اعظم کے قریبی معاون امیت شاہ کے خلاف مقدمے میں سپریم کورٹ کی مدد کی تھی اوراس مقدمہ کو گجرات سے ممبئی منتقل کروایا تھا اس لئے بقول ان کے ان کی مخالفت کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے ۔ واضح رہے کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ کا مجرمانہ ریکارڈ بہت پرانا اورگہرا ہے ۔ انہیں میں سے سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر بھی ہے اس معاملہ میں امیت شاہ کے رول پر تقریباً فرد جرم ثابت ہوچکی تھی اوریہ طے ہوچکا تھاکہ انہیں اب سزا ہوکر رہے گی اور قانونی بالادستی ثابت ہوگی۔ اسی درمیان 30 نومبر 2014 کو فرضی انکاؤنٹر معاملہ کی سماعت کررہے جج برج گوپال ہری کرشن لویا کی موت ہوجاتی ہے ۔ موت کی وجہ دل کا دورہ بتائی جاتی ہے ، برج گوپال کی آخری رسومات کے ساتھ سہراب الدین انکاؤنٹر معاملہ کو بھی دبا دیا گیا ۔ اس واقعہ کے ایک مہینے کے بعد سی بی آئی عدالت کے نئے جج ایم بی گوساوی نے امیت شاہ کو سہراب الدین انکاؤنٹر سے بری کردیا اور وہ آزاد ہوگئے۔ مقتول کے مظلوم اہل خانہ نڈھال ہوگئے اور جج برج گوپال کا منصفانہ ٹرائل دم توڑ گیا اس درمیان اکا دکا آوازیں اٹھیں کہ جج کی موت مشکوک ہے لیکن طاقتور مجرموں نے پروپیگنڈے سے اس آواز کو ابھرنے نہیں دیا جبکہ اس کے بعد کئی ایسے انکشافات ہوئے جنہوں نے سی بی آئی جج برج گوپال کی موت کو پورے طورپر منصوبہ بند ثابت کردیا جس کی تفصیلات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سہراب الدین انکاؤنٹر کے تعلق سے فیصلہ سنانے والے جج برج گوپال کا قتل ہوا تھا۔ آج ایک بارپھر سپریم کورٹ میں سہراب الدین انکاؤنٹر پر سماعت جاری ہے ۔قریب ہے کہ جج فیصلہ سنادے ایسے میں سپریم کورٹ کے ججوں کے درمیان ہونے والے تنازعات سے کسے فائدہ پہنچے گا اس کا فیصلہ آپ قارئین خود کریں ۔