نماز جمعہ کے بعد وادی کے کئی علاقوں میں پُر تشدد احتجاجی مظاہرے

05:50PM Sat 15 Apr, 2017

ترال میں 7نوجوان گرفتار ،2پیلٹ گولیاں لگنے سے زخمی ،حاجن میں پولیس و فورسز نے ہوا میں گولیاں چلائیں سرینگر ۔(بھٹکلیس نیوز)ٍٍٍٍٍٍٍٍٍعام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد وادی کے کئی علاقوں میں تشدد بھڑک اٹھا حاجن میں پولیس و فورسز نے مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے ہوا میں گولیاں چلائیں جبکہ ڈاڑہ سرہ ترال میں پولیس و فورسز نے احتجا ج کرنے والے نوجوانوں میں سے 7کو گرفتار کر لیا جبکہ پیلٹ گولیوں لگنے سے 2نوجوان زخمی ہوئے ،نٹی پورہ ،سوپور، بارہمولہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد پُر تشدد واقعات رونما ہوئے ،بڈگام چلو کی کال کو ناکام بنانے کیلئے انتظامیہ نے حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھا ئے تھے ، مزاحمتی قیادت کے بیشتر لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا ۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف نماز جمعہ کے بعد وادی کے کئی علاقوں میں پُر تشدد احتجاجی مظاہرے ہوئے ، ترال قصبے میں اسوقت سنسنی اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا جب خانقاہ مولیٰ ترا ل میں نماز جمعہ ادا کرنے کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد نے عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی اور ترال قصبے کی طرف پیش قدمی شروع کر دی تاہم پہلے سے تعینات پولیس وفورسز نے احتجاج کرنے والوں کو روک دیا جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور بس اسٹینڈ ترال میں نوجوانوں اور فورسز کے مابین تصادم آرائیوں کا سلسلہ شروع ہوا ۔ نمائندے کے مطابق تشدد پر اتر آئی بھیڑ کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پاوا شل اور پیلٹ گولیوں کا بے تحاشا استعمال کیا جس کی وجہ سے 7نوجوان زخمی ہوئے جن میں 2کو علاج کیلئے اسپتال منتقل کیا گیا ۔ نمائندے کے مطابق پیلٹ گولیاں لگنے سے 2نوجوان شدید طور پر زخمی ہوئے جبکہ تعاقب کے دوران پولیس و فورسز اہلکاروں نے 7نوجوانوں کی گرفتاریاں بھی عمل میں لائیں ۔ ادھر ڈارہ سرہ ترال میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی ریلی نکالی گئی جو مزار شہداء تک پہنچ گئی جہاں اسلام، تنظیم آزادی کے سربراہ عبدالصمد انقلابی نے احتجاجی ریلی سے خطاب کیا ۔ ادھر نٹی پورہ کے علاقے میں اس وقت حالات بے قابو ہوئے جب نماز جمعہ کے بعد عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف لوگوں نے احتجاجی ریلی نکالی اور ریلی میں شامل لوگوں نے جونہی بڈگام کی طرف پیش قدمی شروع کر دی پولیس و فورسز نے انہیں روک دیا جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے خشتباری شروع کر دی ۔ سنگباری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے گولے داغے ،پیپر گیس کا بے تحاشا استعمال کیا جس سے نٹی پورہ اور اس کے ملحقہ علاقوں میں افراتفری اور خوف و دہشت کا ماحول پھیل گیا ۔ ادھر حاجن بانڈی پورہ میں نماز جمعہ کے بعد عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی اور ریلی میں شامل لوگوں نے جونہی پیش قدمی کی ،پولیس و فورسز نے انہیں اس کی اجازت نہیں دی جس پر نوجوان مشتعل ہوئے اور انہوں نے سنگباری شروع کر دی ۔تشدد پر اتر اائی بھیر کو منتشر کرنے کیلئے پولیس و فورسز نے اشک آور گیس کے ولے داغے ۔ صورتحال اس وقت سنگین ہوئی جب مشتعل نوجوانوں نے آرمی گڈول اسکول پر سنگباری شرع کر دی تاہم پولیس وفورسز نے سنگباری کرنے والے نوجوانوں کو تتر بتر کرنے کیلئے ہوا میں گولیوں کے کئی راؤنڈ چلائیں ،پیلٹ گولیوں اور پاوا شل کا بے تحاشااستعمال کیا ۔ ادھر صفا پورہ ،اجس علاقوں میں بھی نماز جمعہ کے بعد عام شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف پُر احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں اور اس دوران ان علاقوں میں کوئی ناخوشگوار واقع رونما نہیں ہوا ۔ دریں اثناء بڈگام چلو کی کال کو ناکام بنانے کیلئے انتظامیہ نے حفاطت کے غیر معمولی اقدامات اٹھا ئے تھے ، بڈگام کے کئی علاقوں میں بڑی تعداد میں پولیس و فورسز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور مزاحمتی قیادت کے بیشتر لیڈروں اور کارکنوں کو گھروں میں نظر بند کر دیا گیا تھا ۔نمائندے کے مطابق نماز جمعہ کے بعد وادی کے بیشتر علاقوں میں حالات بہتر رہے اور کسی بھی علاقے سے مزید ناخوشگوار واقعے کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی ۔