بھوکے لوگوں کو کم قیمت میں کھانا فراہم کرانا بھی آجکل جرم ہوگیا ہے : راھل گاندھی

03:38PM Wed 16 Aug, 2017

راہل گاندھی کے ہاتھوں بنگلورو میں اندرا اسکیم کا افتتاح بنگلور( بھٹکلیس نیوز ):۔ کانگریس کے نائب صدر راھل گاندھی نے کہا کہ آج کل غریب اور درمیانی طبقہ کے لوگوں کو کھانا کم قیمت میں فراہم کرانا بھی جرم بن گیا ہے اور بی جے پی ہر ایک معاملہ میں سیاست کررہی ہے اور اس معاملہ میں تمام لوگ بی جے پی کو منہ تور جواب دینے کی ضرورت ہے ۔انہوں نے حکومت سے جاری کی گئی اندرا اسکیم کا جئے نگر اسمبلی حلقہ کنکنا پالیہ وارڈ میں افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ سدارامیا حکومت نے خط غربت کے لوگوں کے لئے انا بھاگیہ اسکیم جاری کرنے کے ذریعہ ایک روپیہ میں چاول ، گیہوں اور دیگر رعایتی داموں میں غذائی اجناس تقسیم کررہی ہے اور بہت جلد سبسیڈی میں اور مفت میں ایل پی جی گیس ، اسٹو اور دیگر رسوئی چیزوں کی فراہمی بھی کررہی ہے۔ بی جے پی کو ان اسکیموں کا خیر مقدم کرنے کے بجائے اس میں سیاست کررہی ہے ۔بی جے پی نے الزام لگایا ہے کہ حکومت نے تمام لوگوں کو کاہل اور نکمّہ بنا دیا ہے جس سے ریاست میں روزگاری کا مسئلہ بڑھتا جارہا ہے ۔بی جے پی حکومت سے ایک کامیاب اسکیم بھی جاری نہ ہوسکی اور طلباء کو مفت سائیکلس تقسیم کرنے کے نام پر کروڑوں روپیوں کا گھوٹالہ ہوا تھا۔ اس لئے سدارامیا حکومت نے بہتر ین کوالٹی کی سائیکلوں کی فراہمی کرنے والی کمپنیوں کا انتخاب کیا او رطلباء کو سائیکلوں کی فراہمی کی جارہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت ایک کلو چاول 32روپیوں میں خرید کر بی پی ایل کارڈوں کے ذریعہ فراہم کررہی ہے ۔اب اندرا کینٹن کے نام پر اسکیم شروع کرنے پر اس میں بدعنوانیوں کا الزام لگایا ہے ۔یرقان مرض کا شکار لوگوں کو ہر چیز پیلی دکھائی دیتی ہے اور بی جے پی کے تمام لیڈروں کو یرقان کا مرض ہے اور انہیں حکومت سے جو بھی کامیاب اسکیموں اور پروگراموں کو جاری کیا گیا ہے ۔ان تمام میں بدعنوانیاں نظر آتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کے اس مہنگائی کے دور میں صرف پانچ روپیوں میں ناشتہ اور صرف 10روپیوں میں دوپہر اور رات کے وقت کھانا فراہم کرانا آسان بات نہیں ہے ۔تین وقت کے کھانے کے لئے حکومت نے 32 روپیوں کی سبسیڈی دے رہی ہے ۔اس کے علاوہ ریاستی حکومت کی جانب سے کئی شاندار اسکیموں اور پروگراموں کو جاری کیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا:۔وزیر اعلیٰ سدارامیا نے کہا کہ بی جے پی کے قومی صدر امیت شاہ جیسے سینکڑوں لوگ آئیں تو بھی بی جے پی کی حکومت نہیں بنا سکتے۔ انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے وہ ا س بات کی وضاحت کرناچاہتے ہیں کہ شمالی ہندوستان کے ریاستوں کی بات الگ ہے اور کرناٹک کی ہی الگ بات ہے ۔ کرناٹک کے لوگ تعلیم یافتہ اور حالات کے مطابق مناسب فیصلہ کرتے ہیں۔ شمالی ہندوستان کی ریاستوں اور نارتھ ایسٹ ریاستو ں میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کے ذریعہ اور لوگوں کو ڈرا دھمکا کربی جے پی نے کامیابی حاصل کی تھی اور کئی اراکین اسمبلی کو بلیک میل کیا تھا۔ کئی اراکین اسمبلی کوسی بی آئی اور انکم ٹیکس کے چھاپے کرانے کی دھمکی دی تھی جس سے سیاسی حالات اچانک بدل گئے۔ امیت شاہ کون ہے وہ ایک مجرم ہے اور گجرات میں فرقہ وارانہ فسادات کرائے تھے۔نقلی انکاؤنٹر اور دیگر کئی سنگین معاملات کاملزم ہے۔اگر نریندرمودی وزیر اعظم نہ ہوتے تو شاید امیت شاہ سلاخوں کے پیچھے ہوتا ۔گجرات اسمبلی سے راجیہ سبھا کے تین سیٹوں کیلئے ہوئے انتخابات میں امیت شاہ نے کانگریس کے اراکین اسمبلی کو خریدنے کی کوشش کی تھی اور صرف چھ اراکین اسمبلی کو خریدنے میں کامیاب رہے تھے۔ کانگریس کے اُمیدوار احمد پٹیل نے زبردست کامیابی حاصل کی اور نریندرمودی کے علاوہ امیت شاہ کی تمام سیاسی چالوں کو ناکام کردیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جے ڈی ایس اور بی جے پی کی حکومت لوگو ں کی اُمیدوں پر اترنے میں ناکام رہی ہے۔صر کانگریس ہی عوام کے اعتماد کو حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے اور لوگوں سے کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہی ہے۔اگر امیت شاہ عمر بھر بھی کرناٹک میں قیام کیا تو بھی بی جے پی کو برسراقتدار لانا ممکن نہیں۔ عوام نے بی جے پی پر اعتماد کرکے اسے حکومت بنانے کا موقعہ دیا تھا۔یہ حکومت پانچ سال کی معیاد میں تین وزرائے اعلیٰ بدلے گئے ۔ایک سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یڈ یورپا کو جیل جانا پڑا تھااور کئی سابق وزراء بھی جیل کی ہوا کھا چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کانگریس حکومت کے کارناموں اور اس کے ذریعہ جاری کردہ مختلف اسکیموں اورپروگرامو ں کے ذریعہ تمام فرقہ کے لوگوں کی حمایت حاصل کرچکی ہے۔دوسری طرف احمدپٹیل کی شاندار کامیابی اور وزیر برائے توانائی ڈی کے شیواکمار کے مکان پر محکمۂ انکم ٹیکس کے چھاپوں سے پارٹی مزید مضبوط ہوئی ہے اور ان چھاپوں سے بی جے پی کی امیج کو سخت نقصان پہنچا ہے ۔انہو ں نے اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے ضرورت سے زیادہ بی جے پی کی تشہیر کررہا ہے ۔ان کی حکومت کوئی بھی اچھا کام کرتی ہے تو اس کی تشہیر نہیں ہوتی اور کوئی بھی نیا کام شروع کرتی ہے تو اس کی مخالفت ہوتی ہے۔حکومت نے غریب اور مزدور لوگوں کو کم قیمت میں ناشتہ اور کھانا فراہم کرانا چاہتی ہے تو اس کی مخالفت کی جاتی ہے ۔اندرا کینٹ اسکیم شروع کی گئی تو اس کی مخالفت کی گئی۔ مندروں کے احاطہ، پارکوں اور کھیل میدانوں میں کینٹن کھولے جانے کا الزام لگایا گیا۔ سب سے پہلے سچائی اور حقائق کو جاننے کی ضرورت ہے اور حکومت کو بدنام کرنے کے لئے چند ٹی وی چینل اور اخبارات سرگرم ہیں۔اس موقعہ پر پردیش کانگریس کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور ، کرناٹک میں پارٹی معاملات کے نگران کار کے سی وینوگوپال ، ریاستی کابینہ کے رفقاء رام لنگا ریڈی ، کے جے جارج ، آر روشن بیگ ، تنویر سیٹھ، یوٹی قادر، ایم آر سیتا رام ، رمیش کمار، کرشنا بائرے گوڈا ، ایس ایس ملیکار جن ، ایم کرشنپا ، سابق مرکزی وزیر اور اراکین پارلیمان کے ایچ منی اپا، ایم ویر پا موئلی ، کئی اراکین اسمبلی ، اراکین کونسل ، کئی کارپوریٹرس اور دیگر کئی ڈپارٹمنٹ کے عہدیداران حاضر تھے۔