پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ پیش، عوامی پالیسیوں اور پروگراموں کے اثر کو بہتر بنانے کے لئے تجویز

02:10PM Thu 4 Jul, 2019

خزانہ اور کارپوریٹ معاملوں کی وزیر نرملا سیتارمن نے آج پارلیمنٹ میں اقتصادی جائزہ 19-2018 پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ عملی اقتصادیات ہندوستان جیسے ملک میں تبدیلی لانے کے لئے ایک موثر طریقہ ہوسکتا ہے۔جہاں سماجی اور مذہبی رسم و رواج انسانی برتاؤ کو متاثر کرنے میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ سال 20-2019 کے لیے ملک کی جی ڈی پی ترقی 7 فیصد رہ سکتی ہے۔ قابل غور ہے کہ اقتصادی سروے چیف اقتصادی مشیر کرشن مورتی سبرامنیم نے تیار کیا ہے اور اس میں دنیا کی پانچویں سب سے بڑی معیشت بننے کے راستے میں ملک کے سامنے موجود چیلنجز کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اقتصادی جائزے میں عوامی پالیسیوں اور پروگراموں کے اثر کو بہتر بنانے کے لئے تجویز دی گئی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انسانی برتاؤ کے نفسیات کو توجہ رکھتے ہوئے عملی اقتصادیات لوگوں کو من چاہے برتاؤ کی تحریک دیتا ہے۔حالیہ وقت میں بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ (بی بی بی پی) اور سوچھ بھارت مشن سرکاری منصوبوں کی کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے جائزے میں کہا گیا ہے کہ ان منصوبوں نے پالیسی کے اثر کو وسیع بنانے کےلئے عملی تعلیم کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا ہے۔
 مثال کے طور پر سوشل میڈیا پر ’سیلفی ود ڈاٹر‘(بیٹ کے ساتھ تصویر) دنیا بھر میں مقبول ہو گیا اور بچیوں کی پیدائش پر خوشیاں منانا جلد ہی ایک اصول بن گیا۔ حال میں مختلف منصوبوں جیسے نمامی گنگے،اجولا، پوشن مہم جیسے سماجی اور ثقافتی شناخت والے ناموں کے منصوبوں نے عوام کے درمیان اپناپن قائم کرنےمیں مدد دی۔اقتصادی جائزے کے مطابق،عملی اقتصادیات کے بنیادی اصول ’فائدے مند سماجی اصولوں پر زور دینے‘ ،’روایتی متبادل میں تبدیلی‘ اور ’ہدف پر مسلسل زور دینا ‘ ہے۔ ملک میں ان پروگراموں کے اثر کو وسیع شکل دینے کے لئے اس قسم کی تعلیم سے فائدہ اٹھانے کی ابھی بھی کافی گنجائش بچی ہوئی ہے۔ اس لئے اقتصادی جائزہ نیتی آیوگ عملی اقتصادیات اکائی قائم کرنے کی سفارش کرتی ہے۔ جائزہ کمیٹی اس کی بھی سفارش کرتی ہے کہ ہر پروگرام کی عمل درآمدگی سے پہلے اس کا ’عملی اقتصادی آڈٹ امتحان‘ سے گزرنا ضروری ہے۔
 اقتصادی جائزہ کی اہم باتیں
خزانہ اور کارپوریٹ معاملات کی وزیر نرملا سيتارمن کی جانب سے جمعرات کو پارلیمنٹ میں پیش اقتصادی جائزہ 2018-19 کی اہم باتیں یہ ہیں:۔ *نجی سرمایہ کاری ترقی، روزگار، برآمدات اور مانگ کا اہم سر چشمہ۔ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران امیروں کو ملنے والے فوائد کی راہ اب غریبوں کے لئے بھی کھولے گئے ہیں۔ ترقی اور وسیع معیشت کے استحکام کا فائدہ آخری صف کے شخص تک پہنچا۔2024-25 تک پانچ لاکھ کروڑ ڈالر کی معیشت کے لئے آٹھ فیصد کی مسلسل حقیقی جی ڈی پی کی ترقی کی شرح کی ضرورت ۔ نجي سرمایہ کاری - مانگ، صلاحیت، لیبر پیداوری، نئی ٹیکنالوجی روزگار کے اہم عناصر۔ .. بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاو 'سے تبدیلی، بیٹی آپ کی’ دھن لكشمي اور وجئے لكشمي‘، صاف ہندوستان سے خوبصورت ہندوستان ، ایل پی جی سبسڈی کے لئے ’گو اٹ اپ‘ سے ’تھنک اباؤٹ دی سبسڈی‘۔.. 2018-19 میں ہندوستان اب بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی اہم معیشت ہے۔ .. جی ڈی پی کی ترقی کی شرح سال 2017-18 میں 7.2 فیصد کے مقابلے میں سال 2018-19 میں 6.8 فیصد رہی۔. 2018-19 میں افراط زر کی شرح 3.4 فیصد تک محدود رہی۔. 2017-18 کے بعد سے سرمایہ کاری میں بہتری آ رہی ہے۔ .. کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2.1 فیصد تک ایڈجسٹ کرنے کے قابل۔ .. مرکزی حکومت کا مالی خسارہ 2017-18 میں جی ڈی پی کے 3.5 فیصد سے گھٹ کر 2018-19 میں 3.4 فیصد رہ گیا۔ .. این پی اے تناسب میں کمی آنے سے بینکنگ سسٹم میں بہتری۔ .. دیوالیہ اور دیوالیہ پن ضابطہ میں پھنسے ہوئے قرضوں کا تدارک ہوا اور کاروبار کے طریقے بہتر ہوئے۔