سپریم کورٹ کے فیصلہ سے کئی اعلیٰ افسران کو تنزلی کا سامنا
03:23PM Thu 14 Dec, 2017
بنگلورو:14؍دسمبر( سالار نیوز) سرکاری اعلیٰ عہدوں میں ترقی کے لئے ریاست میں جاری ریزرویشن کو منسوخ کرنے کے سپریم کورٹ کے فیصلے سے ایس سی؍ایس ٹی طبقہ سے تعلق رکھنے والے کئی اعلیٰ عہدہ داروں کو اپنے عہدوں میں تنزلی کا سامناہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کئے جانے پر لیجسلیٹر سکریٹریٹ میں کام کررہے تمام 7؍ایڈیشنل سکریٹریز اپنے عہدوں میں دو درجہ کی تنزلی کے ساتھ ڈپٹی سکریٹری کے مقام پر پہنچ جائیں گے۔ محکمہ عملہ اور انتظامی سدھار(ڈی پی اے آر) کے افسران کے مطابق ان کے علاوہ مزید 13؍جوائنٹ سکریٹری اور 12؍ڈپٹی سکریٹریز کو عہدوں میں تنزلی کا خطرہ ہے۔ ریاستی حکومت نے اپنے ملازمین کے مفاد کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کو نافذ کرنے سے گریز کی تدبیر کے طورپر ریزرویشن کی برقراری کے لئے اسمبلی میں ایک بل پیش کیا تھا جسے گورنر واجوبھائی دودا بھائی والا مسترد تو نہیں کیا لیکن انہوں نے بل کو صدر ہند کے پاس بھیجاہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کو 15؍جنوری 2018ء تک نافذ کیا جاناہے۔ اس کے نفاذ سے محکمہ کے علاوہ تعلیم، تجارت وصنعت، سیاحت، مویشی پالن اور مالیات کے محکموں کے کئی ایڈیشنل سکریٹریز سمیت کرناٹک پاورٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ کے 36، کرناٹک پاور کاپوریشن کے 24؍اور بنگلور واٹرسپلائی بورڈ کے 12؍چیف انجینئروں کے عہدوں میں تنزلی کا خطرہ ہے۔