سر سید ہال (ساؤتھ) میں سر سید احمد خان کے دو سو سالہ جشن کی مناسبت سے سمپوزیم کا انعقاد
02:18PM Sun 19 Mar, 2017
علی گڑھ ،(بھٹکلیس نیوز)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سر سید ہال (ساؤتھ) میں سر سید احمد خان کی پیدائش کے دو سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک سمپوزیم کا انعقاد عمل میں آیاجس سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو کے شعبۂ قانون کے استاد اور سر سید مشن کمیٹی کے کو آرڈینیٹر پروفیسر شکیل احمد صمدانی نے کہا کہ سرسید کے سوانحی تذکرہ سے ہمیں اپنے مطالبات کو حکمرانوں اور سلاطین کے سامنے صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے کا سلیقہ معلوم ہوتا ہے ۔ ان کے خیالات اور زندگی کے مطالعہ سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح سر سید نے ہندوستانیوں کے خلاف بر طانوی حکمرانوں کی جارحیت پسند اور غلط پالیسی کی وجہ سے ہندوستان میں اٹھنے والی بغاوت کے اسباب کو تحریری شکل’ ’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ میں پیش کرکے انگریزوں کو اپنی پالیسی بدلنے پر مجبور کر دیا۔پروفیسر صمدانی نے سر سید کی معر کتہ الآرا تصنیف’’ آثار الصنادید ‘‘کے حوالے سے کہا کہ ہندوستان میں ہندوستانی آثارِ قدیمہ پر تصنیف کی جانے والی جملہ تصانیف میں آثارالصنادید کو بنیادی ماخذ کی حیثیت حاصل ہے۔ اس سمپوزیم میں خطبۂ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے سر سید ہال (ساؤتھ) کے پرووسٹ پروفیسر محمد اسمائیل نے کہا کہ سر سید نے اس ادارے کے قیام سے قوم و ملت پر عظیم احسان کیا ہے ۔ اس لئے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہال کی سطح پر سر سید سے متعلق مسابقتی پروگراموں اور سمپوزیم کا انعقاد خوش آئیند ہے ۔ سر سید ہال (ساؤتھ) کی ادبی و ثقافتی انجمن کے صدر ڈاکٹر عبد الرؤف نے اے ایم یو کے اقامتی ہالوں کی درخشاں اور حسین روایات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مسلم یونیورسٹی صرف دانش گاہِ علم و فن ہی نہیں بلکہ یہ تہذیب و ثقافت کا مرکز بھی ہے ۔ اقامتی ہالوں میں تربیتِ یافتہ طالبِ علم جب عملی میدان میں قدم رکھتا ہے تو وہ سماج کا ایک ممتاز فرد اور ذمہ دار انسان بنتاہے۔ سمپوزیم میں سر سید کے دو سو سالہ جشن کے تعلق سے انٹر ہاسٹل سطح پر منعقد کئے جانے والے مضمون نگاری اورمباحثہ کے مسابقوں میں کامیاب طلبہ کو انعامات اور سرٹیفکیٹ سے نوازہ گیا۔ اس پروگرام میں کثیر تعداد میں طلبہ و اساتذہ بطور خاص ڈاکٹر محمد اسرائیل ، ڈاکٹر اشاعت محمد خان، ڈاکٹر محمد جاوید خاں، ڈاکٹر ندیم اشرف ، ڈاکٹر زبیر ظفر خان، ڈاکٹر ابو ذر متین اور ڈاکٹر عبد المعید وغیرہ شریک ہوئے۔ پروگرام کا آغاز قاری جنید عالم کی تلاوت سے ہوا اور ڈاکٹر عبد العزیز خاں نے حاضرین کا شکریہ اداکیا ۔