چین میں بیک وقت ہزاروں ٹماٹر اُگانے والا پودا
05:50PM Thu 14 Jul, 2016
بیجنگ۔ 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) ٹماٹر کے ان پودوں کو ’’آکٹوپس ٹوماٹو ٹریز‘‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کی چھتری 40 سے 50 مربع میٹر تک پھیلائی جاسکتی ہے جب کہ ایسے ایک پودے سے 40 ہزار تک ٹماٹر حاصل کیے جاسکتے ہیں۔یہ پودے والٹ ڈزنی ورلڈ ریزورٹ میں آنے والوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور دنیا کے مختلف ممالک سے یہاں تفریح کیلئے آنے والوں کو حیرت زدہ کررہے ہیں لیکن ٹماٹر کے یہ ’’آکٹوپس درخت‘‘ نہ تو کسی تجربہ گاہ میں تیار کیے گئے ہیں اور نہ کسی زرعی تحقیق کا نتیجہ ہیں۔ اس کے برعکس یہ چین میں بیجنگ کے نواحی علاقوں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے ٹماٹروں کے پودے ہیں۔ دیگر معلومات کے مطابق، ٹماٹر کے اسی پودے کا دوسرا نام ’’ہائیرلوم ٹوماٹو ٹری‘‘ بھی ہے جس کے بیج کچھ سال پہلے والٹ ڈزنی ورلڈ ریزورٹ، فلوریڈا کے ’’لینڈ پویلین‘‘ میں زراعت کا مینیجر بیجنگ سے اپنے ساتھ لے گیا تھا۔ ٹماٹر کا یہ پودا 13 سے 18 مہینوں میں مکمل نشوونما پاتا ہے، جبکہ چھٹے سے ساتویں مہینے کے دوران اس سے ٹماٹروں کی پہلی فصل حاصل کی جاسکتی ہے۔ایک مکمل نشوونما پانے والے آکٹوپس ٹماٹو ٹری سے اوسطاً (ایک مرتبہ میں) 14 ہزار ٹماٹر حاصل کیے جاسکتے ہیںجبکہ زیادہ سے زیادہ پیداوار کا ریکارڈ 32 ہزار ٹماٹروں کا ہے جن کا مجموعی وزن 522 کلوگرام تھا۔ ان پودوں کی چھتری چوکور ہوتی ہے جس کا پھیلاؤ 40 سے 50 مربع میٹر تک ہوتا ہے۔