دینی مدارس اسلام کی بقاء دین کی اشاعت میں مصروف بکار ہیں
02:11PM Wed 3 May, 2017
مولانا پی ۔ایم۔ مزمل عمرفاروق بنگلور و دیگر علماء کا مدرسہ اسلامیہ تجوید القرآن کے26 واں سالانہ جلسہ عام سے خطاب
نظام آباد۔(بھٹکلیس نیوز)کسی نے کیا خوب کہا ہے ۔۔۔’’یہ مدرسہ ہے میکدہ نہیں ساقی ۔۔۔ یہاں کی خاک سے انسان بنائے جاتے ہیں۔۔‘‘آج سیہونی طاقتیں اسلام کے نام کو مٹانیں کے در پر ہیں ہندوستانی زعفران ز زار حکومت ان ہی کے حکم پر بار بار اسلام پر مسلم پر سنل لاء میں مداخلت کے نام پر ،یکساں سیول کوڈ کے نفاظ کے نام پر، دینی مدارس میں مداخلت کے نام پر وقفہ قفہ سے حملہ کرتے آرہے ہیں، آج موجودہ صورتحال یہ بنی ہوئی کہ تین طلاق کے مسئلہ کو چھیڑ رکھا ہے،یہی وہ دینی مدارس ہیں یہی وہ اکابرین ملت ہیں جنہوں نے اسلام دشمنوں کا مقابلہ بڑی ہی جانفشانی سے کر تے آرہے ہیں، ان خیالات کا اظہارمولانا پی ۔ایم مزمل عمرفاروق بنگلور، مفتی غیاث الدین رحمانی قاسمی، مولانا محمد معین الدین قاسمی،ناندیڈ، مفتی تنظیم عالم قاسمی، مولانا قدیر حُسامی و دیگر علماء کابرین نے نظام آباد میں منعقدہ 26 واں سالانہ جلسہ عام و دستار بندی مدرسہ اسلامیہ تجوید القرآن نظام آباد ،سے کثیر مجموع کومخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ دینی مدارس ہیں جو اسلام کی بقاء ،حفظ قرآن ، کے علاواہ دین اسلام کی اشاعت میں مصروف بکار ہیں ان ہی مدارس کی بدولت آج مساجدیں آباد ہیں اگر ہندوستان میں اسلام پروان نہ چھڑتا تو سار ا کاسارا ملک تاریکیوں میں بھٹکتا۔؟ انہوں نے حاضرین کرام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آدمی سفر میں اسوقت تک چل سکتا ہے جب تک وہ اس سفر میں چلنے کی طاقت رکھتا ہے آج کا سفر نہایت آرام دہ سفر ہے، راستے قریب ہو گئے ہیں مگر انسان آج بھی منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ اس بے چین انسان کو چین اسی وقت آسکتا ہے جب تک وہ آغوش اسلام میں داخل نہ ہو جائے یہی ایک وہ واحد مذہب ایک سیدھا راستہ ہے جہاں بنی انسان کامیاب منزل تک پہنچ سکتا ہے ، اسی لئے تو اللہ تعالی قرآن میں فرما یا پورے پورے اسلام میں داخل ہو جاؤ تاکہ تمہارے بے چین دل کو قرار آجائے۔ مسلمانوں سے انہوں نے اپیل کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہو جائیں گناہوں سے بچیں۔ نوجوان گھوڑے جوڑے کی لعنت ،بدعات و خرافات کو ختم کریں ،نکاح کو آسان بنائیں۔اسلامی تعلیمات کو عام کریں ابنائے وطن تک اسلام کے پیغام کو پہنچائیں یہ ہماری ذمہ داری ہے۔ مساجد کو نمازوں سے آباد کریں دنیا کو اپنی ضرورت کے مطابق حاصل کریں جس طرح میں ہم سفر میں زادِ سفر کی ضرورت ہوتی ہے، انسان کی زندگی بھی ایک سفر کے مانند ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے ۔رہیتی دنیا تک انسان اس پر عمل پیرا ہو کر کامیابی کی زندگی کو حاصل کر سکتا ہے اور یہ مدارس اسی کی تعلیم میں مصروف ہیں دینی مدارس اسلامی قلعہ ہیں جہاں پر انسانیت امن بھائی چارہ کا درس دیا جاتا ہے۔ اسلام کی روشنی ہی کی بدولت ہی آج ملک میں امن و بھائی چارہ کا نظام چل رہا ہے مسلمانوں نے عدل و انصاف کے ساتھ ہزارا سال اس ملک پر حکمرانی کی ہے کبھی بھی اسلام کو مسلم پرسنل لاء کو دیگر اقوام پر مسلط نہیں کیا مسلم حکمرانوں نے مکمل آزادی دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج برسرے اقتدار حکومت کو صرف مغرب نواز چار فیصد مسلمانوں کی فکر بقیہ مسلمانوں کو حکومت کی فکر نہیں ہے ۔اس لئے کہا دینی مدارس میں انگریز تعلیم نہیں دیجاتی ہے۔امریکہ نواز مسلمانوں کو ہماری حکومت کی بڑی فکر ہے صرف چار فیصد مسلمانوں کو ہمارے حکمرانوں کو ہمارے دینی مدارس کے بچوں کی بڑی فکر ہے صرف چار فیصد مسلمان ان دینی مدارس میں تعلیم دلواتے ہیں لیکن باقی مسلمان جو بھوک مر ی کی وجہ سے دنیوی تعلیم میں مصروف اب ان حکمرانوں کو ان 96فیصد مسلمانوں کو فکرنہیں ان کی تعلیم اور روزگار کی فکر نہیں۔ان دینی مدارس کے اساتزہ معمولی اجرتوں پر ان بچوں کو تعلیم میں مصروف ہیں۔ ان کابرین نے کہا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ پر حکومت کوئی اقدام نہیں کرتی تعلیم یافتہ مسلمانوں کو حکمرانوں کی فکر نہیں انہیں صرف ہے تو دینی مدارس کے بچوں کی فکر مسلم خواتین کی فکر ہے۔ ؟انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری موجودہ حکومت منصوبہ بند طریقہ سے اسلام کے خلاف میڈیا کے ذریعہ ابنائے وطن میں مسلمانوں کی چھبی کو متاثر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔حکومت کے منصبوں کو عملی جامہ پہنانے میں امریکی نواز مسلمان بھی ملوث ہیں۔؟ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ وہ انسان کو بلند ترین مرتبہ عطاء کرتے ہیں جسے اللہ تعالیٰ کی ذات کا علم حاصل ہو جاتا ہے۔ ہندوستان کے علماء کابرین کی جماعت نے مسلم پرسنل لاء کے وجود کیلئے اپنی جانوں کو قربان کیا۔یہی وہ مدارس کے پڑھنے پڑھانے والے لوگ اسلام دشمنوں طاقتوں کا مقابلہ کر رہے ہیں انہوں نے کہا کہ مساجد میں نماز کون پڑھا رہا ہے امامت کو ن کر رہا ہے تراویح کی نماز کون پڑھا رہا ہے،آج یہی حکومت نورانی قاعدہ،قرآن کو پڑھنے پڑھانے والوں کو دہشت گرد اور دہشت گردی کے اڈے قرار دے رہے ہیں۔ یہی علماء نے ملت اسلامیہ کی خدمت کیلءئے شرعیت کی حفاظت کے لئے ،مسلم پرسنل لاء کے نفاظ کیلئے اپنے وجود کو قربان کیا ہے۔ یہی نہیں ملک کی آزادی میں اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہوئے ملک کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کروانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اسلام دشمن چاہتے ہیں کہ ہندوستان سے مدارس کا نظام ختم ہوجائے ،انکا وجود ختم ہو جائے ۔آج یہ مدارس کے وجود خطرہ میں ہے ہیں، ان مدارس کے تحفظ کیلئے ہمیں متحدہ طور پر آگے آنے کی ضرورت پر زور دینا چاہئے ،اس موقع پر حفظ کرنے والے طلباء میں اسنادات کی تقسیم عمل میں لائی گئی پروگرام کا اختتام ناظم مدرسہ قاری حافظ ہاشم کے شکریہ پر عمل میں آیا۔