وزیر اعلیٰ اروند کجریوال سے کل ہند امام ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے مولانا ساجد رشیدی کی قیادت میں 1993کے فیصلے کو لے کر ملاقات کی

01:44PM Tue 7 Mar, 2017

نئی دہلی ۔(بھٹکلیس نیوز)آج مورخہ7؍مارچ 2017کو دہلی کے وزیر اعلیٰ سے کل ہند امام ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے مولانا ساجد رشیدی کی قیادت میں 1993کے فیصلے کو لے کر ملاقات کی۔ وزیر اعلیٰ نے وفد کی باتوں کو غور سے سنا اور ایک دو دن کے اندر ہی سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرنے کے لیے یقین دہانی کرائی۔ ُمولانا محمد ساجد رشیدی نے وفد کی طرف سے وزیر اعلیٰ سے اماموں کی کم تنخواہوں کو لے کر گہرے دکھ کا افسوس کرتے ہوئے کہا کہ آج کے مہنگائی کے دور میں یہ تنخواہ نہایت ہی نا کافی ہے۔اورجبکہ دہلی وقف بورڈ کے تمام امام 24گھنٹے کی ڈیوٹی کرتے ہیں جس کے لئے بھی یہ تنخواہ غیر معمولی ہے اس کی وجہ سے امام نہ اپنے بچوں کی تعلیم کا صیح بندوبست کرپاتے ہیں اور نہ ہی اپنے بچوں کی شادی صحیح سے کر پاتے ہیں اور کیونکہ امام مسلمانوں میں ایک مذہبی حیثیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے ان کا مقام بھی بڑھا ہوا ہے لیکن امت کا یہ طبقہ کم تنخوا ہ کی وجہ سے مفلوک الحالی میں زندگی بسر کر رہا ہے جو مسلمانوں کے لئے بھی اور دہلی سرکار کے لئے بھی باعثِ ندامت ہے اس لئے آپ سے درخواست ہے کہ ہماری درخواست پر جلد از جلد کاروائی کی جائے۔ مولانا محمد ساجد رشیدی نے وزیر اعلیٰ کو یاد دلایا کہ 2015جب آپ کی پہلی سرکار بنی تب بھی ہم نے آپ سے ملاقات کرکے تمام کاغذات دئیے تھے لیکن اُس وقت بھی کوئی کاروائی نہیں ہوپائی تھی اُس کے بعد 2016میں جب آپ دوبارہ سرکار میں آئے تب بھی تمام اماموں نے ملاقات کرکے یہ کاغذات پھر آپ کو دئیے لیکن پھر بھی کوئی کاروائی نہیں ہوئی اُس کے بعد 2017میں اماموں نے دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا سے ملاقات کرکے اُن کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے آگاہ کیا اور اپنی تنخواہوں میں کورٹ کے فیصلے کے مطابق اضافے کی مانگ کی لیکن مایوسی ہاتھ لگی اور انھوں نے کسی طرح کی کوئی کاروائی نہیں کی جس کا ہمیں بے حد افسوس ہے ۔دہلی حکومت سے مسلمانوں اور خاص طور ائمہ کرام کو بہت ساری اُمیدیں ہیں جن پر آپ کی سرکار کو سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے۔ آپ نے ابھی ٹیچرس کی تنخواہ بڑھائی ہمیں خوشی ہوئی۔ مزدوری میں خاطر خواہ اضافہ کیا جو قابل تعریف ہے آپ کی حکومت کے اسی بہتر کارنامے پر تمام ائمہ کرام مبارکباد پیش کرتے ہیں اور اُمید کرتے ہیں کہ آپ ہماری تنخواہ بھی سپرم کورٹ کے مطابق بڑھائیں گے۔ مولانا محمد ساجد رشیدی نے وزیر اعلیٰ سے کہا کہ اگر دہلی میں ہماری 317پروپرٹیزجو مرکزی حکومت اور ڈی ڈی اے ، این ڈی ایم سی، ایم سی ڈی، اور دہلی حکومت کے ناجائز قبضے میں ہے اگر اُن کا سرکل ریٹ کے حساب سے دہلی وقف بورڈ کوکرایہ ہی مل جائے تو وقف بورڈ کو کسی حکومت کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے آپ سے درخواست ہے کہ آپ ان پروپرٹیز کو خالی کرانے یا ان کا کرایہ دہلی وقف بورڈ کو دلانے کے لئے بھی کوشش کریں۔ہمیں امید ہے کہ آپ اس پر سنجیدگی سے غور کریں گے وزیر اعلیٰ نے ہمارے سامنے اپنے OSDسے فون پر بات کی اور کہا کہ مجھے کل ہی اس پر رپورٹ چاہیے اور ہم سے کہا کہ آپ بار بار مجھے پریشان کرتے رہنا تاکہ میں اس کام کو ایک دو دن میں ہی انجام دے سکوں۔ ہمیں امید ہے کہ انشا اللہ اب سپریم کورٹ کے اس فیصلے پرجلد ہی عمل درآمد ہوجائے گا۔