اب مدھیہ پردیش میں بجرنگيوں نے عیسائیوں کو درخت سے باندھ کر پیٹا

01:16PM Sun 24 Jul, 2016

بھوپال: مبینہ گئوركشا کے نام پر گجرات کے اونا میں دلتوں کے ساتھ کی گئی مارپیٹ کا معاملہ ابھی ٹھنڈا بھی نہیں ہوا تھا کہ اب مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں بجرنگ دل کے کارکنوں کی طرف سے عیسائی کمیونٹی کے لوگوں کو درخت سے باندھ کر پیٹنے کا معاملہ سامنے آیا ہیں۔ بجرنگ دل کے کارکنوں نے عیسائی سماج کے پاسٹر اور ان کے ساتھی پر مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں اغوا کر کے جنگل میں لے گئے اور جم کر مار پیٹ کرنے کے بعد پیڑسے باندھ دیا۔ ایسی حالت میں ان دونوں کو پوری رات جنگل میں گزارنی پڑی۔ جمعہ کی صبح جب پولیس کو واقعہ کی طلاع ملیتو انہوں نے پادری اور ساتھی کو ڈھونڈتے ہوئے جنگل سے چھڑایا۔ متاثر پادری رام لال کوری نے بتایا کہ وہ مئوگج میں نندلال کے گھر پر خداوند یسوع کی دعا کرتے ہیں۔ جمعرات کی رات نندلال کے سسر کے انتقال کی خبر آنے پر دونوں موٹر سائیکل سے گڈرا گاؤں گئے، رام لال اور نندلال دونوں اس علاقے میں تھے، تبھی بجرنگ دل سے وابستہ لوگ آ گئے اور ان سے مار پیٹ کرنے لگے۔ کوری کا کہنا ہے کہ بجرنگ دل کے کارکنان انہیں گھسیٹتے ہوئے جنگل میں لے گئے، مار پیٹ کی اور پیڑسے باندھ دیا۔ رات کو دیر سے ان کی بیوی نے پولیس کو اغوا کی اطلاع دی تو پولیس فورس نے موقع پر پہنچ کر انہیں اور نندلال کو چھڑایا۔ مئوگج کے افسر، پولیس (ایس ڈی او پی ) کملیش شرما نے بتایا کہ پولیس ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ابھی تک صرف 13 افراد کی نشاندہی کی گئی ہے۔