میانمار حکومت پر روہنگیا کے 55 گاووں مسمار کرنے اور مظالم کے شواہد مٹانے کا الزام
01:00PM Sat 24 Feb, 2018
برما۔ میانمار حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے کم از کم 55 گاووں مسمار کر دئیے ہیں اور اسی کے ساتھ روہنگیا مسلمانوں پر ڈھائے گئے مظالم کے شواہد بھی ختم کر دئیے ہیں۔ اس کا انکشاف حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں کیا ہے۔
ہیومن رائٹس واچ نے جمعہ کو سٹیلائٹ سے لی گئیں تصاویر جاری کی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ دسمبر 2017 اور نصف فروری کی مدت کے درمیان وہ علاقے جو کبھی عمارتوں اور سرسبز وشادابی سے بھرے پڑے تھے، انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے۔ حقوق انسانی کی عالمی تنظیم نے برما کی سیکورٹی فورسیز کی ان کارروائیوں کو نسلی صفایا کی مہم سے تعبیر کیا ہے۔ تنظیم نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس انہدامی کارروائی کو روکنے کے لئے آگے آئے۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، گزشتہ سال اگست میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار فوج کی جانب سے چھیڑی گئی مہم کے بعد سے اب تک 362 دیہات کلی یا جزوی طور پر مسمار کر دئیے گئے ہیں۔ الجزیرہ ڈاٹ کام کے مطابق، ہیومن رائٹس واچ ایشیا ریجن کے ڈائریکٹر بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے کہ مسمار کیے گئے دیہات روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جاری بربریت کا واضح ثبوت ہیں۔
خیال رہے کہ میانمار کی حکومت اور فوج بنگلہ دیش سے متصل سرحدی علاقے میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہیں اور گزشتہ سال اگست سے اب تک ہزاروں افراد کو قتل اور خواتین کی بے حرمتی کی جاچکی ہے۔ میانمار میں جاری سرکاری مظالم سے تنگ آ کر 7 لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے ہیں۔