سعودی عرب: 55 القاعدہ دہشت گردوں کے لیے پھندہ تیار!

04:13PM Sat 21 Nov, 2015

سعودی عرب میں دہشت گردی اور ملک دُشمن مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث 55 القاعدہ جنگجو اور دیگر دہشت گردوں کو تختہ دار پر لٹکانے کے لیے تحقیقات کا عمل آخری مراحل میں ہے۔ ان پر 71 پولیس اہلکاروں اور 100 عام شہریوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں میں قتل کرنے کا الزام تھا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سنہ 2003ء کے بعد گذشتہ بارہ سال کے دوران سعودی پولیس نے القاعدہ سے وابستہ عناصر کی دہشت گردی کی کئی سازشوں کو ناکام بنایا۔ اس دوران دہشت گرد حملوں میں متعدد سیکیورٹی اہلکار اور عام شہری شہید ہوئے۔ سنہ 2003ء کے بعد القاعدہ کے دہشت گردوں کی کارروائیوں میں مجموعی طور پر 100 عام شہری شہید اور 569 زخمی ہوئے۔ سیکیورٹی حکام نے اپنی جانوں پر کھیل کر دہشت گردوں کی 250 خطرناک سازشیں ناکام بنائیں۔ دہشت گردوں سے مقابلے کے دوران 71 سیکیورٹی اہلکاروں کو بھی اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنا پڑے۔ دہشت گردوں کے حملوں میں 407 مقامی اور غیر ملکی شہری شہید ہوئے جب کہ پولیس کی کارروائیوں میں 176 دہشت گرد بھی ہلاک ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق عدالتوں میں پیش کیے گئے دہشت گردوں کے خلاف ملک میں افراتفری پھیلانے کے لیے القاعدہ جیسی تنظیم کے قیام، حکومت کا تختہ الٹ کر اپنی مرضی کی حکومت کےقیام کی سازشوں، بجلی گھروں اور تیل کی تنصیبات پرحملوں، مسافر طیارے اغواء کرکے دوسرے ملکوں میں دہشت گردی پھیلانے، سعودی عرب کی اہم شخصیات کو قاتلانہ حملوں میں ہلاک کرنے، مملکت میں غیر ملکی سفارت خانوں میں دھماکے، اہم ترین فوجی اڈے میں دہشت گردی، سرکاری قافلوں پر حملے، دھماکہ خیز مواد تیار کرنے اور اسے دہشت گردوں تک پہنچانے اور دیگر ممنوعہ ہتھیاروں کے حصول کی سازشوں کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔ انہی الزامات کے تحت ان دہشت گردوں کے خلاف مقدمات جاری ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جن 55 دہشت گردوں کےجلد تختہ دار پر لٹکائے جانے کا امکان ہے ان پر سعودی رب میں بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود جمع کرنے، کلاشنکوف، دستی بموں، پستولوں اور دیسی ساختہ"اکواع" نامی بم تیار کرنے کے ساتھ ساتھ غیر روایتی ہتھیاروں کے حصول کی کوشش کرنے، "سام 7" اور "آر پی جی" راکٹ حاصل کرنے اور اس تمام اسلحے کو ملک میں دہشت گردی کے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات عاید ہیں۔ بعض دہشت گردوں پر یمن سے جوہری مواد سے بھرے تین بیگ 1.5 ملین ڈالر کی رقم سے خرید کر سعودی عرب پہنچانے اور دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔ براہ دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے علاوہ کچھ دہشت گرد عناصر پر حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اشتعال انگیز تقاریر کرنے، حکومت وقت کے خلاف سازشوں کے تانے بانے تیار کرنے کا مشورہ دینے، جلیل القدر صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے، پڑوسی ملک بحرین کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر اکسانے، سعودی عرب میں فرقہ واریت کی آگ کو ہوا دینے، سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کی ترغیب دینےاور پولیس پر بم پھینکنے کی حمایت کرنے جیسے الزامات عاید کیے گئے ہیں اور انہی الزامات کے تحت انہیں سنگین سزائوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔