وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لیکر ابھی سے سدارامیا او رپرمیشور کے درمیان اختلافات
03:53PM Sat 30 Sep, 2017
بنگلور(بھٹکلیس نیوز ):۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر ڈاکٹر جی پرمیشور اور وزیر اعلیٰ سدارامیا کے درمیا ن وزیر اعلیٰ کے عہدے کو لیکر ابھی سے ہی اختلافات پیدا ہوگئے ہیں اور یہ بات آنے والے اسمبلی انتخابات کو لیکر خطرہ ثابت ہوسکتی ہے ۔ایک طرف کانگریس کو دوبارہ برسراقتدار لانے کے لئے ابھی سے ہی تیاریاں شروع کردی ہیں اور گھر گھر کانگریس کے نام پر ایک شاندار مہم شروع کی گئی ہے جس کے تحت پارٹی لیڈرس اور کارکن سدارامیا حکومت کے کارناموں اور مرکزی حکومت کی ناکامی کے تعلق سے جانکاری دینے لگے ہیں۔کانگریس کے جنرل سکریٹری اور کرناٹک میں پارٹی معاملات کے نگران کار کے سی وینوگوپال نے ہر دن ایک نئی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ کانگریس کو مضبوط کرنے اور کارکن میں نیا جوش اور طاقت پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسی درمیان پرمیشور اور سدارامیا کے درمیان حال ہی میں شر وع ہوئے اختلافات کی وجہ سے پارٹی کی امیج کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس ناراضگی اور اختلافات کو جلد ختم کرنے کی ضرورت ہے مگر اس کا فائدہ دوسری سیاسی پارٹیوں کو پہنچ سکتا ہے پرمیشور نے حال ہی میں پارٹی دفتر کا دورہ کیا اور انہوں نے الیکٹرانکس شعبہ کا دورہ کیا۔جہاں وائس ایپ اور ایس ایم ایس کے ذریعہ سدارامیا کو ہی اگلا وزیر اعلیٰ قرار دئے جانے پر ناراضگی جتائی ہے اور اس شعبہ میں کام کرنے والوں کو حکم دیا ہے کہ وہ ابھی سے ہی سدارامیا کو وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش نہ کیا جائے اور وزیر اعلیٰ کون ہوگا اس تعلق سے اعلیٰ کمان اور کرناٹک لجس لیٹیو پارٹی کے اجلا س میں ہوگا اور اس سے قبل کانگریس کو حکومت بنانے کے لئے سب سے زیادہ سیٹوں کو دلانے کی ضرورت ہے ۔پرمیشور نے کئی سالوں سے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر نظر رکھی ہے اور انہیں گذشتہ اسمبلی انتخابات میں ایک سازش کے تحت ہرایا گیا ہے اور انہیں ہرانے میں خود کانگریس لیڈروں کا ہاتھ تھا۔ لیکن اس معاملہ کو زیادہ فوقیت نہیں دی گئی اور معاملہ کو رفع دفع کردیا گیا تھا۔جب سدارامیا نے وزیر اعلیٰ کے طورپر ڈھائی سال مکمل کرنے پر پرمیشور کو وزیر اعلیٰ بنانے کی مانگ کی گئی اور انہیں رکن کونسل بھی بنایا گیا تھا۔پرمیشور کی ناراضگی کو ختم کرنے کے لئے وزیر اعلیٰ عہدے کے بعد سب سے طاقتور قلمدان محکمۂ داخلہ کی ذمہ داری پرمیشور کو دی گئی ۔دوسری طرف پرمیشور کو صدر کے عہد ے سے ہٹانے کی کوشش کی گئی۔ مگر پرمیشور نے وزیر داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے کر پارٹی کے صدر بنے کی خواہش ظاہر کی تھی اور کانگریس اعلیٰ کمان نے اس کی منظوری دی ۔اب تک کانگریس میں یہی رواج چلا آرہا ہے کہ جو صدر سب سے زیادہ سیٹیں دلوائے گا اسے ہی وزیر اعلیٰ بنایا جاسکتا ہے ۔پرمیشور نے پارٹی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھنے کے ساتھ ہی ٹمکور ضلع کے رنگیرے اسمبلی حلقہ میں زیادہ دکھائی دے رہے ہیں جس سے اندازہ لگایا جاسکتاہے پرمیشور کی نظر وزیر اعلیٰ کی کرسی پرہے۔پرمیشور نے سدارامیا کے تمام طرفداروں کو وارننگ دی ہے کہ وہ سدارامیا کو وزیر اعلیٰ کے امیدوار کے طور پر پیش کیا تو ان کے خلا ف تادیبی کاروائی کی جاسکتی ہے۔