زبانوں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کیلئے علاقائی زبانوں میں موجود شاعری کے ترجموں کو عام کرنے کی ضرورت: گلزار

03:50PM Mon 7 Aug, 2017

بنگلور(:بھٹکلیس نیوز ) آج ملک کو تجربہ کار مترجموں کی ضرورت ہے جو علاقائی زبان کی شاعری کو دوسری زبانوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں اہم رول ادا کر سکے ۔ تاکہ ایک دوسرے کے کلچر کو جاننے کا موقع فراہم ہو ، یہ بات فلمی دنیا کے مشہور شاعر گلزار نے کل بنگلورو میں منعقدہ بنگلورو پوئیٹری فیسٹول 2017 کے دوسرے دن ان خیالات کا اظہار کیا ، جناب گلزار سابق ڈپلومیٹ پون ورما کے ساتھ شریک رہے ، گلزار نے ان یک دو کتابیں ‘‘یودھشٹر‘‘ اور ’’دروپدی‘‘ کا انگریزی سے ہندی میں ترجمہ کیا ہے ۔ جناب گلزار نے بتایا کہ اس کتاب کا ترجمہ کرنے کے سلسلے میں انہوں نے پون ورما سے رابطہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ کتاب کے ترجمہ کے سلسلے میں ملاقات کرنا چاہتے ہیں ۔ جب دونو ں کے د رمیان ملاقات ہوئی تو تمام تفصیلات جاننے کے بعد ترجمے کا کام شروع کیا ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پون ورما نے کہا کہ ترجمہ جو ں کا توں کر دینا بڑی بات نہیں ہے بلکہ اس کیلئے مترجم کو چاہئے کہ جس زبان میں کلام کا ترجمہ کر رہے ہیں اس سے واقفیت بھی ضروری ہے تاکہ ترجمہ ایسا ہو جسے پڑھنے والا دونوں زبانوں کے د رمیان کوئی فرق نہ محسوس کر سکے ۔ گلزار نے اب تک ہندی میں 300؍ نظموں کا ترجمہ 32؍ زبانوں کے کلام سے کیا ہے ۔ انہو ں نے بتایا کہ اگر میں ملیالم نظم کا ترجمہ کر رہا ہوں تو مجھے چاہئے کہ اس زبان کے ماہرین کے ساتھ ملاقات کرکے اس کے بارے میں معلومات حاصل کر سکوں پھر کہیں جاکر میں صحیح ڈھنگ سے متعلقہ زبان کی شاعری کا ترجمہ ہندی میں کر سکوں گا ۔ملک کے جنوبی مغربی علاقوں میں اچھے شاعر موجود ہیں مگر انکے کلام کا ترجمہ کرنے کیلئے اسی انداز کے مترجموں کی ضرورت ہے جو کامیابی کے ساتھ ترجمہ کر سکیں ، ورنہ دونوں زبانو ں کے درمیان جس طرح کی ہم آہنگی آنے کی ضرورت ہے وہ نہیں آ پائے گی ۔ جناب گلزار نے آخر میں شمالی ہندوستان کے باشندوں سے گزارش کی کہ وہ جنوبی ہندوستان کی زبانوں کو سیکھیں ۔