جامعہ اسلامیہ میں الوداعی تقریب کا انعقاد؛ امسال 53/طلبہ ہوئے فارغ
04:04PM Thu 7 Mar, 2019
بھٹکل: 7 مارچ،2019 (بھٹکلیس نیوز بیورو) جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں طلبائے عالیہ ثالثہ کی طرف سے امسال عالمیت کے درجے سے فارغ ہونے والے 53/طلبہ کے لیے سجائی گئی خوبصورت الوداعی تقریب دو نشستوں میں مکمل ہوئی، پہلی نشست کل منعقد ہوئی جب کہ دوسری نشست آج صبح 9:30 بجے شروع ہوکر قریب پونے دو بجے ختم ہوئی، ان نشستوں میں طلبہ نے جامعہ میں گزری خوشگوار یادیں اور باتیں نیز اپنے قلبی احساسات وجذبات کو حاضرین کے سامنے رکھا۔
واضح رہے کہ مولوی عبداللہ دامدا ابو ندوی کے منظوم تہنیتی الوداعی کلمات نصیر طاہر باپو نے پڑھے جب کہ مولوی سید سالک احمد برماور ندوی کی فارغین کے نام الوداعی نظم سید نبیغ برماور نے پڑھی۔
اس موقع پر صدر جامعہ مولانا اقبال صاحب ملا ندوی نے فارغین کو مبارکباد دی اور فرمایا کہ اصل خوشی اور اعزاز اس وقت ہوگا جب قیامت کے دن علماء کی فہرست میں نام پکارا جائے گا، صدر جامعہ نے اپنے صدارتی خطاب میں علم دین کی اہمیت، دینی ماحول کے اثرات پر پُرمغز خطاب فرماتے ہوئے موجودہ نصاب تعلیم و نظام تعلیم کے ذریعہ بگڑتے حالات کو اخلاقی گراوٹ کے اسباب و محرکات قرار دیا، نیز مختلف واقعات کی روشنی میں دینی تعلیم کی کمی کے نقصانات بیان کرتے ہوئے علم دین کی نعمت عظیم پر شکر خداوندی بجالانے کی تلقین کی، اور فرمایا کہ اپنے ایمان کو بچانے کے لیے علم دین کا سیکھنا ہر ایک پر ضروری ہے، نیز فرمایا دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم میں وہی نسبت ہے جو دین کو دنیا سے ہے، علم آخرت سمندر ہے اور علم دنیا قطرہ ہے، دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔دنیا ایک ذریعہ ہے اور دین مقصد زندگی۔
مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے ندوی نے تمام فارغین کو، ان کے سرپرستوں اور رشتہ داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ بہت اونچا ہے، اس کی صحیح قدر کریں، دنیا کی طرف للچائی نظر سے نہ دیکھیں، اپنے علم پر خود اعتمادی کے ساتھ باقی رہیں، سرپرستوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری نیتیں خالص ہو، دنیا کمانا نہ ہو، اگر ہم اپنے بچوں کے دین کی فکر کریں گے، ان کے لیے سہولیات فراہم کریں گے تو اللہ ہمیں دونوں جہاں کی سعادتوں سے نوازے گا، بچوں کے حق میں دعا کرتے رہیں اس لیے کہ بچوں کا مستقبل سرپرستوں کی دعاؤوں سے نکھرتا ہے، جیسا کہ انھوں نے اپنے تاثرات میں اظہار کیا، اور اخیر میں جامعہ و احباب جامعہ کے حق میں دعائیں کرنے نیز اپنا ہر طرح کا تعلق جامعہ سے رکھنے کی درخواست کی۔
ملحوظ رہے کہ کلمات تشکر عبدالحفیظ (عالیہ ثالثہ) نے پیش کیے اور عالیہ ثالثہ کے مختلف طلبہ نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئے۔ اس تقریب میں ذمہ داران جامعہ و اساتذہ وسرپرستان طلبہ کے علاوہ شہر و اطراف سے تشریف فرما علماء و عوام الناس کی کثیر تعداد شریک رہی۔
اس موقع پر صدر جامعہ مولانا اقبال صاحب ملا ندوی نے فارغین کو مبارکباد دی اور فرمایا کہ اصل خوشی اور اعزاز اس وقت ہوگا جب قیامت کے دن علماء کی فہرست میں نام پکارا جائے گا، صدر جامعہ نے اپنے صدارتی خطاب میں علم دین کی اہمیت، دینی ماحول کے اثرات پر پُرمغز خطاب فرماتے ہوئے موجودہ نصاب تعلیم و نظام تعلیم کے ذریعہ بگڑتے حالات کو اخلاقی گراوٹ کے اسباب و محرکات قرار دیا، نیز مختلف واقعات کی روشنی میں دینی تعلیم کی کمی کے نقصانات بیان کرتے ہوئے علم دین کی نعمت عظیم پر شکر خداوندی بجالانے کی تلقین کی، اور فرمایا کہ اپنے ایمان کو بچانے کے لیے علم دین کا سیکھنا ہر ایک پر ضروری ہے، نیز فرمایا دینی تعلیم اور دنیاوی تعلیم میں وہی نسبت ہے جو دین کو دنیا سے ہے، علم آخرت سمندر ہے اور علم دنیا قطرہ ہے، دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔دنیا ایک ذریعہ ہے اور دین مقصد زندگی۔
مہتمم جامعہ مولانا مقبول احمد صاحب کوبٹے ندوی نے تمام فارغین کو، ان کے سرپرستوں اور رشتہ داروں کو مبارکباد دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے وہ بہت اونچا ہے، اس کی صحیح قدر کریں، دنیا کی طرف للچائی نظر سے نہ دیکھیں، اپنے علم پر خود اعتمادی کے ساتھ باقی رہیں، سرپرستوں کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہماری نیتیں خالص ہو، دنیا کمانا نہ ہو، اگر ہم اپنے بچوں کے دین کی فکر کریں گے، ان کے لیے سہولیات فراہم کریں گے تو اللہ ہمیں دونوں جہاں کی سعادتوں سے نوازے گا، بچوں کے حق میں دعا کرتے رہیں اس لیے کہ بچوں کا مستقبل سرپرستوں کی دعاؤوں سے نکھرتا ہے، جیسا کہ انھوں نے اپنے تاثرات میں اظہار کیا، اور اخیر میں جامعہ و احباب جامعہ کے حق میں دعائیں کرنے نیز اپنا ہر طرح کا تعلق جامعہ سے رکھنے کی درخواست کی۔
ملحوظ رہے کہ کلمات تشکر عبدالحفیظ (عالیہ ثالثہ) نے پیش کیے اور عالیہ ثالثہ کے مختلف طلبہ نے نظامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دئے۔ اس تقریب میں ذمہ داران جامعہ و اساتذہ وسرپرستان طلبہ کے علاوہ شہر و اطراف سے تشریف فرما علماء و عوام الناس کی کثیر تعداد شریک رہی۔