میری علمی و مطالعتی زندگی ۔قسط نمبر 5۔۔۔ از : مولانا سید ابو الحسن ندوی
10:32AM Fri 12 May, 2017
یہ زمانہ دارالعلوم ندوۃ العلماء میں عربی کی بہار کا تھا۔ ادھر ہلالی صاحب کا فیض عام تھا، ادھر ہمارے دوست مولانا مسعود عالم ندوی عربی کا رسالہ ’’الضیاء‘‘ نکال رہے تھے، عربی زبان و تحریر، نقد و تبصرہ گویا اوڑھنا بچھونا ہورہا تھا۔ مصری، شامی، عراقی اور مغربی (الجزائری ومراکشی) رسائل و جرائد تبادلہ میں آتے تھے، پڑھے جاتے تھے اور ان پر گفتگو رہتی تھی۔ یہ میری عربی اخبار بینی کی عمر کا بچپن تھا۔ عربی ادب کی کتابیں پڑھ لینے اور عرب اساتذہ کی صحبت میں رہنے کے باوجود اخبارات کا بڑا حصہ سمجھ میں نہ آتا، اس لیے نہیں کہ ہندوستانی علماء کے بقول (جو سراسر غلط فہمی ہے) یہ کسی جدید عربی میں ہوتے تھے، بلکہ طرزِ ادا اور اشتقاق کی ناواقفیت کی وجہ سے سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ بھائی صاحب کی مدد سے میں نے اخبار پڑھنا شروع کیا اور اس سے جتنا فائدہ اور تعبیر اور اظہار خیال میں جتنی قدرت حاصل ہوئی، ادب و زبان کی کسی کتاب یا کتابوں سے نہیں ہوئی۔
مصری و شامی ادباء و فضلاء کے مضامین پڑھ کر ان کی فصاحت، زبان کی قدرت کا سکہ دل میں بیٹھا، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ عربی زبان کے خزانہ عامہ کے نوادر جو صدیوں سے سربمہر تھے وہ اپنے اخبارات و رسائل کے کھلے صفحات میں روزانہ لٹاتے ہیں، اور امیر شکیب ارسلان کے بقول عہد عباسی کا ایک ادیب برسوں میں جتنا لکھتا تھا وہ اس عصر کا ادیب و صحافی چند دنوں میں لکھ لیتا ہے، لیکن معنوی و ذہنی حیثیت سے ذوق و دماغ پر ان مضامین کا کوئی اچھا اثر نہیں پڑا، اور ہمارے ہندی ذوق نے جس نے ہندوستان کے زیادہ سنجیدہ، زیادہ گہرے اور زیادہ طاقتور اسلامی ادبیات اور ماحول میں نشو ونما پائی تھی، عربوں کے قوم پرست اور وطنی افکار، مغرب سے ذہنی مرعوبیت اور خیالات کی سطحیت کے خلاف ہمیشہ احتجاج کیا، اور ذہن نے اس کی پستی اور کمزوری صاف محسوس کی۔ ان مضامین کو میں نے ہمیشہ روحانی اذیت اور ذہنی کوفت کے ساتھ پڑھا، اس حیثیت سے امیر شکیب ارسلان کی تحریروں اور خیالات میں نسبتاً کچھ گہرائی اور پختگی اور اسلامیت معلوم ہوئی، لیکن امت اسلامیہ کے امراض کی تشخیص اور علاج کی تجویز میں اس وقت جس شخص کے خیالات و افکار میں نسبتاً زیادہ بلند نظری اور باریک بینی معلوم ہوئی اور جس کی فراست نے متأثر کیا وہ سید عبدالرحمن الکواکبی کی تخیلی کتاب ’’ام القریٰ‘‘ہے، جو اب پرانی ہوچکی ہے، اور اس کے لائق مصنف کو لوگ بھولتے جارہے ہیں، لیکن بعد میں یہ دیکھ کر کہ وہ قومیت عربیہ کے اولین نقیبوں میں ہیں، اور انہوں نے سب سے پہلے دولت عثمانیہ کے خلاف عربوں میں بیزاری پیدا کرنے کی کوشش کی، دل پھیکا ہوگیا اور عقیدت میں کمی
ء ۱۹۲۷یا ۱۹۲۸ء میں رسالہ ’’توحید‘‘ امرتسر میں جو مولانا داؤد غزنوی مرحوم کی ادارت میں نکلنا شروع ہوا تھا، ’’تیرھویں صدی کا مجدد اعظم‘‘ کے عنوان سے حضرت سید احمد شہیدؒ کے متعلق مولوی محی الدین قصوری مرحوم کا ایک سلسلہ مضمون شائع ہوا۔ بھائی صاحب کے حکم سے ۱۹۲۹ء - ۱۹۳۰ء میں میں نے اس کا عربی میں آزاد ترجمہ کیا جو ہلالی صاحب کی اصلاح کے بعد علامہ سید رشید رضا مرحوم نے ’’المنار‘‘ میں شائع کیا، اور ’’ترجمۃ الامام السید احمد بن عرفان الشھید‘‘ کے نام سے علیحدہ رسالہ کی شکل میں بھی چھاپ دیا، اس موضوع سے یہ میرا پہلا تعلق تھا۔