5ویں اور8ویں جماعت کیلئے پبلک امتحان

12:27PM Fri 26 Sep, 2014

بھٹکلیس نیوز/26ستمبر،14 ماہرین تعلیم،اراکین اسمبلی سے تبادلہ خیال کے بعد بنگلور/اگلے تعلیمی سالسے 5ویں اور 8ویں جماعت کیلئے "پبلک امتحان"منعقد کرنے کے متعلقغور کیا جارہا ہے ،وزیر  برائے بنیادی و ثانوی تعلیم کمنے رتناکر نے یہ بات بتائی ،اخباری نمائندوںسے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتا یا کہ تعلیمی ماہرین اور اسمبلی اراکین سے مشورہہ کرنے کے بعدحتمی فیصلہ لیا جائیگا ،لازمی طورپر پبلک امتحان منعقد کرنے کا حکومت کا کو ئی مقصد نہیں ہے ،والدین ،اساتذہ اور طلباء میں ذمہ داری بڑھانے پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے،حکومت طلباء کو خوفزدہ نہیں کرنا چاہتی ،تمام سے منظور ی حاصل کرنے کے بعد ہی اگلے تعلیمی سال سے اس پر عمل کیا جائیگا ،طلباء کی اہلیت کا جائزہ لینے کے غرض سے پبلک امتحان منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ،اس سلسلے میں وزیر برائے مرکزی انسانی وسائل کے ساتھ تبادلہ خیال کیا جا چکا ہے ،انہوں نے اس کیلئے اپنی منظوری ظاہر کردی اس سلسلے میں عوام بحث کرنے کا موقع فراہم کیا گیا ہے ،لیجسلیچر اجلاس میں بھی اس پر تبادلہ خیال جائیگا ،انہوں نے بتا یا کہ کامیاب ،ناکام کا سوال ہی نہیں اٹھتا صرف طلباء کی اہلیت کا اندازہ لگانے کیلئے پبلک امتحان منعقد کیا جائیگا ،تمام کو اگلی جماعت کیلئے ترقی دی جائے گی ،وزیر موصوف نے مزید کہا کہ لسانی پالیسی کے متعلق سپریم کورٹ نے جو فیصلہ سنایا ہے اسکے پیش نظر آئندہ اٹھائے جانے والے قدم کے متعلق تبادلہ خیال کرنے کیلئے دسہرہ کے بعد ادیبوں ،تعلیمی ماہرین ،کنڑانواز تنظیموں کا اجلاس بلب کیا جائے گا ،وزیر اعلی سدارامیا نے 4-3مرتبہ میٹنگ طلب کرکے اس سلسلہ میں تبادلہ خیال کیا ہے ان سے ظاہر ہونے والے خیالات کے پیش نظر سپریم کورٹ میں جدوجہد کی گئی ہے لیکن حکومت کے موقف کیلئے سپریم کورٹ نے منظوری نہیں دی ہے جس کے سبب ایک دوسری میٹنگ طلب کرکے اس میں تبادلہ خیال کیا جائے گا ،ایک سوال کا جواب دیتے ہو ئے وزیر برائے بنیادی و ثانوی تعلیمکمنے رتناکر نے بتایا کہ آئین میں ترمیملانے کے بعد ہی لسانی پالیسی کا تنازعہ حل ہو سکتا ہے ،وزیر اعلی نے اس سلسلہ میں وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کر چکے ہیں ،اس معاملے پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے وزیر اعظم نے وزیر اعلی کو دہلی طلب کیا ہے ،سدارامیا سےوزیر اعظم نے کہا ہے کہ تمام ریاستوں کے وزراء اعلی کی میٹنگ طلب کرکے تمام کی منظوری حاصل کرنی ہو گی ،ایسا کرنے کی صعورت میںتنازعہ حل ہو جائیگا ۔