دہلی حکومت بمقابلہ ایل جی معاملہ :سپریم کورٹ نے پوچھا ، حکومت کے پاس کون سی طاقت ہو
02:06PM Fri 3 Feb, 2017
نئی دہلی، (بھٹکلیس نیوز)دہلی حکومت بنام لیفٹیننٹ گورنر معاملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے تبصرہ کیا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ منتخب حکومت کے پاس اختیارات ہونے چاہیے ، لیکن کیا؟ اس حساب سے جو ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں کہا ہے، یا پھر جس کا دہلی حکومت مطالبہ کر رہی ہے؟ ہم سب سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ گورنر کے پاس کتنے اختیارات ہیں اور وہ اس کا استعمال کس طرح کرتے ہیں؟دہلی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں وکیل گوپال سبرامنیم نے کہا کہ اگر مرکزی حکومت یہ کہے کہ آپ کے پاس اختیارات ہیں، آپ اپنے حساب سے حکومت چلا سکتے ہیں، تو میں اپنے موکل کو کہہ کر معاملہ کو واپس لے لوں گا،لیکن یہاں ایسا نہیں ہے،یہاں تو نہ ہمارے پاس اختیارات ہیں اور نہ ہی حقوق ۔انہوں نے کہا کہ اگر کونسل آف منسٹر منتخب حکومت نہیں ہے، تو آخر کون ہے؟ایسا کہیں نہیں لکھا ہے کہ لیفٹیننٹ گورنر حکومت چلائیں گے، حکومت کونسل آف منسٹر ہی چلائیں گی ، لیفٹیننٹ گورنر کو قانون کے مطابق ہی کام کرنا چاہیے اور وہ کونسل آف منسٹر کا مشورہ ماننے کے پابند ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر کو آئین کے تحت کام اور تعاون کرنے کے لیے مقرر کیا گیا ہے نہ کسی ریاستی حکومت کے کام کاج میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ۔دہلی حکومت نے کہا کہ آل انڈیا سروس کے حکام کے ٹرانسفر اور تقرری کا حق بھی دہلی حکومت کے پاس ہونا چاہیے ، معاملے کی اگلی سماعت 8؍فروری کو ہوگی۔