میری علمی و مطالعتی زندگی ۔ قسط نمبر 4

06:08PM Thu 4 May, 2017

تحریر : مولانا سید ابو الحسن ندوی

میری مکرر خوش قسمتی تھی کہ حدیث میں مولانا حیدر حسن خان صاحب جیسا متبحر استاد نصیب ہوا، جو غلام احمد صاحب لاہوری، مولانا لطف اللہ صاحب کوٹکی، مولانا احمد حسن صاحب کانپوری اور شیخ الاسلام شیخ حسین یمنی کے شاگرد اور حضرت حاجی امداد اللہ صاحب مہار مکیؒ کے مجاز تھے۔ یہ بھی خوش قسمتی تھی کہ حدیث کی تعلیم شروع ہوئی توکوئی دوسرا فن اور موضوع مزاحم نہ تھا، صرف حدیث کے اسباق تھے، مولانا کی محبت تھی، دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلبہ تھے، اور ندوۃ العلماء کا نادر علمی ذخیرہ اور مولانا کے علمی مآخذ تھے۔

مولانا کے یہاں تعلیم کی دوسری خصوصتیں تھیں جن کی وجہ سے فن کا ذوق اور اس کا کچھ (بہ قدر استعداد و توفیق) عملی ملکہ حاصل ہوجایا کرتا تھا، ایک یہ کہ تعلیم بالکل ناقدانہ اور محدثانہ اصول پر تھی، مولانا کو مذہب حنفی پر کلیۃ اطمینان تھا، اور وہ اس کے زبردست وکیل و ترجمان تھے، لیکن ان کا درس حدیث محدثانہ طرز اور نقد حدیث و رجال کی بحثوں پر مبنی تھا، اور اس میں ہندوستانی طرزِ تدریس حدیث سے زیادہ یمنی طرزِ حدیث اور شوکانی کے طرزِ تالیف کا اثر تھا۔ شوکانی کی تصنیف ’’نیل الأوطار‘‘ اس کا ایک نمونہ ہے۔ محدثین میں خصوصاً (محمد بن )ابراہیم الوزیر اور محمد بن اسمٰعیل الامیر، اور علامہ مقبلی کی تالیف، اور اصول حدیث کے بعض نوادر ان کے خاص مآخذ تھے، جن میں ’’تنقیح الانظار‘‘ اور ’’توضیح الافکار‘‘ کے قلمی متن و شرح کے مسودات خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ دوسری چیزوں کے مقابلہ میں علامہ ابن الترکمانی کی ’’الجوہر النقي‘‘، امام زیلعیؒ کی ’’نصب الرایہ‘‘ سے بہت مدد لیتے تھے، اور حدیث صحیح کا جوا ب حدیث صحیح سے اور نقد حدیث کے مسلمہ اصول و مجتہدانہ مباحث سے دیتے تھے، دوسری چیز یہ کہ ان کا درس عملی تھا، جس میں طالب علم استاد کے ساتھ شریکِ عمل ہوتے تھے۔ مولانا طلبہ ہی سے کتابوں کے نقول، مذاہب کے دلائل، رجال پر نقد و جرح کی بحثیں نکلواتے تھے، اس طرح تدریس و تالیف کا سلیقہ سکھاتے تھے۔

درسِ حدیث میں عملی طور پر سب سے زیادہ فائدہ امام نوویؒ کی ’’شرح مسلم‘‘ سے ہوا، جو ایک مبتدی طالب علم کے لیے بڑا اچھا استاد ہے۔ شروحِ حدیث سے فائدہ اٹھانے اورذہن پر زور ڈالنے کا ملکہ اسی سے پیدا ہوا، ’’فتح الباری‘‘ سے استفادہ کی اصل نوبت تدریس کے زمانہ میں آئی، اس وقت حافظ ابن حجر کی وسعت نظر، فن حدیث پر ان کی قدرت، اور اس کے وسیع ذخیرہ پر ان کا احتواء دیکھ کر آنکھیں کھل گئیں۔ یہ کتاب مسلمانوں کا ایک علمی کارنامہ ہے جس کی نظیر سے دوسری ملتوں کا مذہبی ذخیرہ خالی ہے۔ اس کتاب کے مطالعہ سے کہیں وجد و سرور کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، قلبی طور پر سب سے زیادہ اثر ابوداؤد کی ’’کتاب الأدعیہ‘‘ اور ترمذی کی ’’کتاب الزہد‘والرقاق‘ نے ڈالا۔

اسی زمانے میں ’’احیاء العلوم‘‘ دیکھنے کا شوق ہوا اور اس نے دل پر بجلی کا سا اثر کیا، مگر یہ مطالعہ جاری نہ رہ سکا۔ اس میں بڑے بھائی صاحب کی بصیرت کو دخل تھا جن کے نزدیک اس کے مطالعہ کے شغف سے بعض غیر معتدل رجحانات کے پیدا ہونے کا اندیشہ تھا۔

۱۹۳۰ء میں شیخ خلیل عرب کی تجویز اور بھائی صاحب کی دعوت پر دارالعلوم ندوۃ العلماء میں تدریسِ ادب کے لیے ایک فاضل و محقق صاحب زبان مراکشی عالم تشریف لائے، یہ علامہ شیخ تقی الدین ہلالی تھے جن کو اگر نہ دیکھا ہوتا تو عربی زبان و ادب کے بہت سے مبادی و بدیہات، زبان کی تعلیم کے ست حقائق و اصول نظر سے ہمیشہ اوجھل رہتے، اور عجمیت و ہندیت کے اثر سے کلیۃ آزادی نصیب نہ ہوتی۔ ان کو اگر نہ دیکھا ہوتا تو قرن ثانی و ثالث کی زبان کو مردہ اور صرف کاغذ کے نقش و نگار سمجھتے، اس ایک شخص میں سلف کی احتیاط اور علمی  تورع (عدمِ تحقیق کی حالت میں بے تکلف لااوری کہہ دینا)، مغربِ اقصیٰ خصوصاً اہل شنقیط کا حفظ و استحضار، اہل لغت کا اتقان، علمائے نحوکی پختگی اور اہل زبان کی شیریں نوائی او خوش گفتاری جمع تھی، بات کرتے تھے تو منہ سے پھول جھڑتے تھے، ہر جملہ ادب کی جان ہوتا تھا جس کو آدمی جس ادب کی کتاب کے حاشیہ پر چاہے لکھ لے، ’’اغانی‘‘ اور جاحظ کی کتابوں کی زبان بولتے ہوئے ان کے سوا کسی کونہیں سنا، جو لکھتے تھے، وہی بولتے تھے، اور جو بولتے تھے وہی عربی زبان کا روزمرہ اور محاورہ ہے۔

ہلالی صاحب سے عربی ادب و شعر کی کتابیں پڑھنے کی بھی سعادت حاصل ہوئی، لیکن اس سے زیادہ مفید ان کی صحبت اور مجالس و سفر کی رفاقت تھی، ان کی صحبت و افادات سے دو حقیقتیں پہلی بار منکشف ہوئیں، ایک تو یہ کہ زبان و ادب میں فرق ہے۔ زبان وہ ہے جو ادب کی بنیاد ہے، ادب زبان کی بنیاد کے کاخ و ایوان اور زبان کی دیوار کے نقش و نگار ہیں، ادب خیالات کے اظہار کا بلند اور فنی اور ترقی یافتہ ذریعہ ہے، جو تمدن و تخیل کی ترقی سے پیدا ہوتا ہے۔ زبان کی تعلیم و تربیت ادب کی تعلیم پر مقدم ہے، اگر زبان نہیں آتی تو ادب نہیں آسکتا اور اس کی قبل از وقت تعلیم دی جارہی ہے، جو اکثر اوقات بے بنیاد اور بے نتیجہ ثابت ہوتی ہے۔ ہلالی صاحب کہتے تھے کہ ’’حریر‘‘ اور ’’متنبی‘‘ و ’’حماسہ‘‘ ادب عربی کی اعلیٰ کتابیں ہیں جو بلاد عربیہ میں زبان کی طویل اور مسلسل تعلیم اور زبان کی مشق کے بعد پڑھائی جاتی ہیں، اور عربی ادب کی تکمیل کرنے والے فضلاء ان کو پڑھتے ہیں، لیکن ہندوستان میں یہی کتابیں ادب کا کل سرمایہ اور جمع خرچ ہیں۔ ضرورت ہے کہ ان سے پہلے زبان کو ایک زندہ زبان کی طرح پڑھا جائے، ان کا یہ بھی اصرار تھا کہ زبان کو انسانی زبان کی طرح بغیر ترجمہ کی مدد کے پڑھنا چاہیے، اس پر شیخ نے دارالعلوم میں مسلسل تقریریں کیں، اور اپنے مدعا کو دلائل سے ثابت کیا۔

دوسری حقیقت یہ منکشف ہوئی کہ صرف و نحو کے قواعد زبان کی تشکیل کے اصول ہیں، جن کا درجہ زبان کے بعد ہے۔ زبان کا ذخیرہ اگر کچھ نہ ہو تو صرف و نحو کے قواعد بے کار ہیں۔ مفردات، الفاظ و جمل مکان کی اینٹیں ہیں، اور نحو کا علم اصول تعمیر کے قواعد اور انجینیئری کا فن۔ اگر سرے سے اینٹیں نہ ہوں تو انجینیئرنگ اور اصولِ تعمیر کا بڑے سے بڑا علم ناکارہ اور فضول ہے۔

ہلالی صاحب سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ زبان کا بہترین نمونہ تاریخ کی مستند کتابیں اور عہد عباسی کے ادباء کی غیر مصنوعی تصنیفات ہیں، اس کے لیے انہوں نے ابنِ قتیبہ کی ’’الامامۃ والسیاسۃ‘‘، ابن المقفع کی ’’کلیلہ و دمنہ‘‘، ابوالفرج الاصبہانی کی ’’کتاب الاغانی‘‘ اور جاحظ کے رسائل کی سفارش کی۔