اللہ نے ہمیں ایک انمول تحفہ ماں کی شکل میں دیا ہے :حیا فاطمہ 

03:22PM Sat 13 May, 2017

ماں ایک انمول وراثت ہے جو ہماری زندگی کی بنیاد ہے لکھنؤ۔(بھٹکلیس نیوز)’’مدَرس ڈے‘‘ ہر سال منایا جاتا ہے ۔ یہ سبھی جانتے ہیں کہ ماں ایک ایسا لفظ ہے جو ہر کسی کی زندگی میں ایک اہمیت رکھتا ہے ۔ نزد سٹی اسٹیشن واقع سلطنت منزل ، حامد روڈ، لکھنؤ کی رہنے والی انجنئیر حیا فاطمہ دختر نواب زادہ سید معصوم رضا (ایڈووکیٹ) کا ماننا ہے کہ ان کے لئے ہر دن مدرس ڈے ہے ۔ وہ کہتی ہیں کہ کسی ایک دن مدر یعنی ماں کے نام پر سلیبریٹ (Celebrate)کرنے سے ان کے تئیں جو ہمارا پیا ر و عزت ہے وہ نہیں دکھتا۔ یہ تو صرف اُس پیار کو اظہار کرنے کا دن ہے جو ہم انھیں کرتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں انمول تحفہ ماں کی شکل میں دیا ہے۔ اس انمول رشتے کے آگے سارے تحفے بے معنی ہیں۔ پھر بھی ہمارے پاس ایسا کوئی ذریعہ ہونا چاہئے جس کے ذریعے ہم اپنی ماں کو یہ بتا سکیں کہ ہم انھیں کتنا پیار کرتے ہیں۔ یوں تو ماں اور بچے کا رشتہ ہر پل ، ہر دن ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ مدرس ڈے شائد اسی لئے منایا جا تا ہے کہ انکی اولاد اپنی ماں کو یہ بتا سکے کہ ان کے بچوں کے لئے ان کی ماں کتنی اہمیت رکھتی ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ ماں ایک انمول وراثت ہے جو ہماری زندگی کی بنیاد ہے ۔ اللہ نے ہمیں ماں کی شکل میں ایک انمول تحفہ دیا ہے ۔ حیا فاطمہ آگے بتاتی ہیں کہ جب سے انھوں نے ہوش سنبھالا اپنی ماں کو اپنی آنکھوں کے قریب پایا۔ نہ جانے کتنی تکلیفیں ہمیں پالنے میں ماں کو اُٹھانی پڑی ہوگی۔ اپنی کئی راتیں بنا سوئے ہوئے کاٹی ہوگی۔آج میں جو کچھ بھی ہوں ان کی محنت ، محبت و پیار و اچھی تربیت کی وجہ کر ہوں۔ انھوں نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا اور مجھے تعلیم یافتہ بنایا ۔ حیا فاطمہ نے آگے کہاکہ ہر بچوں کو چاہئے کہ وہ اپنی ماں کے ساتھ ہمیشہ اچھا برتاؤ کرے۔ انھیں کوئی بھی اذیت یا تکلیف نہ پہنچائے اور انھیں ہر طرح سے خوش رکھنے کی کوشش کرے ۔ بچوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے ۔حیا فاطمہ نے مزید کہاکہ وہ اپنی ماں سے بیحد پیار کرتی ہیں ،وہ ایک اچھی دوست کی شکل میں ہمیشہ انکے ساتھ پیڑ کی چھاؤں کی طرح رہتی ہیں ۔وہ ہمیشہ اس کوشش میں رہتی ہیں کہ ایسا کام کروں جس سے انکے والدین کو خوشی و فخر محسوس ہو ۔