مظفر نگر میں اس وقت تک الیکشن نہ کرائے جائیں جب تک مسلمان اپنے اپنے گھر نہ پہنچ جائیں: ڈاکٹر ظفر محمود

01:43PM Tue 29 Oct, 2013

اس وقت پوری قوم وملت کو ایک آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے: مولانا مقصود عمران رشادی نئی دہلی، (راست) زکٰوۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے زیر اہتمام  گزشتہ روز اسلامک کلچرل سینٹر میں مساجد کے ائمہ، خطبا، علماء، اساتذہ اور دانشوروں کا ایک عظیم الشان اجلاس منعقد ہواجس میں آئندہ لوک سبھا الیکشن کے پیش نظر مسلمانوں کے ۲۰ نکاتی مطالبات کو پوراکرنے کے لئے مسجدوں کے ممبروں سے مہم چلانے کا تہیہ کیا گیا۔ اجلاس کی صدارت جامعہ بیت العلوم سرائے میر اعظم گڑھ کے شیخ الحدیث مولانا عبداللہ پھولپوری صاحب نے کی اور مالیر کوٹلہ پنجاب کے مفتی فضیل الرحمان ہلال عثمانی صاحب، جامع مسجد کلکتہ کے امام مولانا ابوطالب رحمانی، بنگلور کی جامع مسجد کے امام مقصود عمران رشادی، تحریک رجوع الی القرآن کے امیر مفتی عادل جمال وغیرہ کے علاوہ زکوٰۃ فائونڈیشن آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر سید ظفرمحموداور ڈائرکٹرہنری مارٹن انسٹی ٹیوٹ ، حیدرآباد فادر پیکم سیموئل نے خطاب کیا۔ اجلاس میں مسلمانوں کے 20/نکاتی پروگرام کی وضاحت زکوٰ ۃ فائونڈیشن کے صدرجناب ڈاکٹر ظفر محمود صاحب نے پاور پوائنٹ کے ذریعہ کی اور ملک کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے نمائندوں کو حکومت کی آنا کانی سے واقف کراتے ہوئے ان سے اپیل کی کہ اپنی مسجد کے ممبروں سے ان نکات کے حق میں ایسا زور دار ماحول بنائیں کہ الیکشن سے پہلے پہلے یو پی اے حکومت ان مطالبات کو پورا کرنے کے لئے مجبور ہوجائے۔ تمام حاضرین نے ایک آواز ہوکر ان کی اس اپیل کو منظور کرنے کا پرجوش اعلان کیا۔جناب ظفر محمود صاحب نے20/ نکاتی اس ایجنڈے میں مندرجہ ذیل مطالبات کو پیش کیا ہے: ۱۔ دہشت گردی کے الزام میں ماخوذ مسلمانوں کے مقدموں کا تصفیہ کرنے کے لئے میعاد بند فاسٹ ٹریک کورٹ تشکیل دی جائے۔ ۲۔ دہشت گردی کے الزام سے بری کردئے گئے ہر شخص کو ۵۰ لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے، ۳۔ شیڈولڈ کاسٹ کی تعریف کولا مذہبی بنایا جائے، (۴) مسلمانوں کے غلبہ والے ان انتخابی حلقوں کو جنہیں شیڈولڈ کاسٹ کے لئے ریزرو کردیا گیا ہے، انہیں ریزرویشن سے آزاد کرنے کے لئے فوراً حد بندی کمیشن تشکیل دیا جائے، (۵)اختیارات والے عوامی عہدوں پر مسلمانوں کو نامزد کرنے کے لئے طریقہ کار وضع کیا جائے، (۶)اقلیتوں کے لئے کئے جانے والے ریزرویشن بندوبست میں مسلمانوں کا ۶۷ فیصد حصہ مختص کیا جائے، کیوں کہ کل اقلیتوں میں مسلمانوں کا تناسب ۷۳ فیصد ہے، (۷)صلاحیتوں کو فروغ دینے کے پروگرام اور دیگر اقتصادی مواقع سے متعلق قومی بجٹ میں مسلمانوں کے لئے حصہ مختص کیا جائے، (۸)اقلیتوں کے لئے ۱۵ نکاتی پروگرام کا بجٹ بڑھاکر کل منصوبہ بندی بجٹ کا ۱۹ فیصد کیا جائے، (۹)مسلمانوں کی ترقی کے لئے بنائی جانے والی اسکیموں اور ان کے نفاذ کے لئے دیہی علاقوں میں گائوں کو شہروں میں وارڈ کو اکائی بنایاجائے۔(۱۰)۱۴۰۰ اضافی آئی پی ایس افسروں کی خصوصی تقرری کے لئے محدود مسابقتی امتحان(ایل سی ای) کی پالیسی ختم کی جائے کیوں کہ اس طریقہ سے مسلمانوں کی راہ مسدود ہوتی ہے ،(۱۱)انڈین وقف سروس قائم کی جائے، (۱۲) حکومتوں کے قبضوں والی وقف املاک کو خالی کرنے سے متعلق سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ذریعہ وزرائے اعلیٰ کو لکھے گئے خط پر کارروائی کی جائے، (۱۳)مدارس کے لئے بنائی گئی اسکیم( ایس پی کیو ای ایم) کی تشہیر اردو اور دیگر زبانوں میں کی جائے، (۱۴)مدارس کے سرٹی فکیٹ و ڈگریوں کا اسکول و کالج کے سرٹی فکیٹ و ڈگریوں سے تال میل بٹھانے کے لئے میکانزم قائم کیا جائے، (۱۵) بینکوں کو غیر سودی مالیات کی اجازت دی جائے، (۱۶)ریاستوں میں سینٹرل اردو ٹیچرس اسکیم کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے، (۱۷)مساوی مواقع کمیشن تشکیل دیا جائے،(۱۸) تنوع پر مبنی مراعات کی اسکیم نافذ کی جائے، (۱۹)مسلمانوں کے مفاد کے لئے کی جانے والی منصوبہ بندی اور ا س کی نگرانی میں مسلم طبقہ کو شامل کیا جائے، اور(۲۰)مسلمانوں میں کچھ افراد کو فائدہ پہنچانے کے لئے بجائے پورے مسلم فرقہ کو مجموعی طور سے مستفید کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔ جناب ظفر محمود صاحب نے کہا کہ حکومت نے وقف ایکٹ تو بنادیا ہے لیکن اس میں سچر کمیٹی اور جے سی پی کی کئی اہم تجاویزات ابھی بھی شامل نہیں کی ہیںاور قانون کے کچھ نکات تشنہ چھوڑ دئے ہیں جنہیں ’’وقف رولس۔‘‘ اور ’’محکمہ جاتی ہدایات‘‘ کے ذریعہ وہ پورا کرے۔انھوں نے مزید اس بات پر زور دیا کہ مظفر نگر میںفساد کے بعد چوںکہ مسلمان خوف و ہراس میں ہیں اور ان کی بڑی تعداد کیمپوں میں پڑی ہوئی ہے اس لئے مظفر نگر میں اس وقت تک الیکشن نہیں کرائے جائیں جب تک ہر آدمی محفوظ طریقہ سے اپنے گھر میں نہ رہنے لگے۔ نیز انھو ں نے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے لمبے عرصہ تک ملٹری کو وہاں تعنیات کیا جائے۔ جناب ظفر محمود صاحب کے اس ایجنڈے کی پھرپور تائید کرتے ہوئے مفتی فضیل الرحمان ہلال عثمانی صاحب نے کہا کہ یہ سارے نکات آئین کے دائرے میں ہیں اور مضمرات کے اعتبار سے مفید ہیں انہیں منوانے کے لئے ہمیں حکومت پر اسی طرح دبائو بنانا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کا آئین تو شہریوں کے درمیان فرق نہیں کرتا لیکن آئین کو نافذ کرنے والوں میں یہ اتفاق رائے ہے کہ مسلمانوں کو برابری کا درجہ ہر گز نہ دیا جائے۔ انھوں نے متناسب نمائندگی کا قانون بنانے کا مطالبہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر مسلمانوں کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں متناسب نمائندگی نہیں مل پائے گی اور جب تک مسلمانوں کی نمائندگی قانون ساز ایوانوں میں نہیں ہوگی تو ان کے ساتھ ظلم و زیادتی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بنگلورکی جامع مسجد کے امام وخطیب مولانا مقصود عمران رشادی نے بنگلور میں گزشتہ سال گرفتار کئے گئے چھ بے قصور نوجوانوں کی گرفتار ی کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان نوجوانوں کو بری اور رہا کردئے جانے کے باوجود انہیں ان کی نوکریوں پر بحال نہیں کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اس کے لئے قانونی کارروائی کرنے پر زور دیا نیز آپ نے کہا کہ اس وقت پوری قوم وملت کو ایک آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آنے والے انتخابات سے پہلے ہی ہم اپنا حق حاصل کر سکیں آپ نے کہا کہ مساجد کے مقدس منبر و محراب سے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لئے جزوی اختلافات پر گفتگو کرنے کی بجائے ایک پلیٹ فارم میں لانے کی سعی وجد جہد کرنا چاہئے۔ جناب عبداللہ پھولپوری نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ مسلمانوں کو مکمل طور پر اسلام کے پورے نظام کو اپنانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ جب ہماری پوری زندگی اللہ کے احکامات کے تابع ہوگی تبھی ہم فلاح پاسکیں گے۔ انھو ںنے زکوٰۃ فائونڈیشن کی تجاویز کی تائید کرتے ہوئے کہا ائمہ مسائد اور خطباء کو اس کام میں زکوٰۃ فائونڈیشن کی مدد کرنے میںکوئی جھجھک نہیں ہونا چاہئے۔ اس پروگرام میں زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی جن میں علماء کرام اور ائمہ مساجد نمایاں طور پر موجود تھے۔ اس جلسہ میں مظفر نگر کے مصیبت زدہ لوگوں کی ایک جماعت بھی خصوصی طور پر آئی تھی ، جن کے ساتھ راحت رسانی کا کام کرنے والے سماجی کارکن بھی تھے۔ ان لوگوں نے مظفر نگر میں زکوٰۃ فائونڈیشن کی سرگرمیوں سے متعارف ہوکر یہاں شرکت کی۔ اس موقع پر زکوٰۃ فائونڈیشن کے نائب صدر جناب اسرار احمد، سکریٹریز جناب عرفان بیگ وجناب ممتاز نجمی ، خازن جناب قیام الدین، رکن جناب مفتی عادل جمال، ادارہ اصحاب الصفہ کے ڈائرکٹر جناب امتیاز صدیقی، سر سید کوچنگ اینڈ گائڈنس سینٹر کے ڈائرکٹر جناب عتیق الرحمان صدیقی اور اسٹاف کے دیگر ممبران بھی موجود تھے۔ zakath-foundation