فاروق عبداللہ کا بیان چوکا دینے والا ہے؛ونکایا نائڈو
03:12PM Sun 26 Feb, 2017
نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز)ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ کی جانب سے پارٹی کنونشن سے خطاب کے دوران دئیے گئے بیان پر سیاسی پارٹیوں نے ملا جلا ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد خبروں میں رہنے کیلئے اور اپنی روٹیاں سیکنے کیلئے ایسے بیانات دے رہے ہیں جو ملک دشمنی پر مبنی ہیں اور نیشنل کانفرنس ریاست میں عدم استحکام پھیلا کر اقتدار پر قابض ہو نا چاہتی ہیں ۔ ذرائع کے مطابق نوجوانوں کی جانب سے بندوق اٹھا نے اور سنگباری کرنے کی حمایت کرنے بیان پر ملک کی مختلف سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ۔مرکزی وزیر ایم ونکایا نائڈو نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے بیان کو غیر مہذبانہ اور چوکا دینے والا کہتے ہوئے کہا کہ بیان کی کاپیاں حاصل کی جا رہی ہیں اور مرکزی حکومت اس سلسلے میں خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتی ہیں ۔ وزیر اعظم کے دفتر میں تعینات وزیر مملکت ڈاکٹر جتندھر سنگھ نے سابق وزیر اعلیٰ کے بیان کو ملک دشمنی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 1996سے لے کر 2014تک فاروق عبداللہ ہی سب سے زیادہ وقت ریاست کے وزیر اعلیٰ کی کرسی پر برائے جمان تھے تب اسے کشمیر کا مسئلہ یاد کیوں نہیں تھا ،کیا تب سنگباری نہیں ہوا کرتی تھی ،گولیاں نہیں چلتی تھی ، عام شہری اور پولیس و فورسز کے اہلکار نہیں مارے جا تے تھے ۔ فاروق عبداللہ کے دور میں ہی نہیں ان کے بیٹے کے دورِ اقتدار میں 120افراد نہیں مارے گئے ،8ہزار افراد زخمی نہیں ہوئے ۔ریاست خاصکر وادی کشمیر میں سنگباری ایجاد کرنے والے نیشنل کانفرنس کے ہی لیڈران ہے اور وہ ایک دفعہ پر ریاست میں عدم استحکام پھیلا کر لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کر کے اقتدار کی مسنند پر جلوہ افروز ہونا چاہتے ہیں ۔پنتھرس پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر ہرش دیو سنگھ نے فاروق عبداللہ کے بیان کو مزاقہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسے اپنے ماضی پربھی نظر دوڈانی چاہیے کہ اس نے کیا گل کھلائے ہیں ،آج علیحدگی پسند کے خاکوں میں رنگ بھر کر کیا وہ ریاست کو تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں ۔جنتا دل کے لیڈر نے کہا کہ کشمیریوں کے ساتھ بات چیت کرنے کا فاروق عبداللہ کا بیان حقیقت پر مبنی ہیں اور مرکزی حکومت کی ہڑدھرمی سے ریاست کے حالات تیزی کے ساتھ بدل رہے ہیں ۔ کانگریس نے فاروق عبداللہ کے بیان کو ذاتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو ش کے ساتھ ہوش رکھنے کی بھی ضرورت ہے۔