مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سےڈسٹرک انچارج و برائے وزیر علیٰ تعلیم مسٹر دیش پانڈے کو یادداشت

02:43PM Tue 27 Aug, 2013

بھٹکل (محمد یوسف خان)شہر بھٹکل کا معروف سماجی و سیاسی ادار مجلس اصلاح و تنظیم کی جانب سے برائے وزیر اعلیٰ تعلیم و ڈسٹرک انچارج مسٹر آروی دیش پانڈے صاحب کو یاد داشت پیش کی گی۔ جس میں بھٹکل کے مختلف مسئلہ کو حل کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔یادداشت میں جن مسئلہ کو حل کرنے کی درخاست کی گئی ہے ان میں مسائل نمبر 1) بھٹکل سرکاری اسپتال میں ڈاکٹر و دیگر عملہ کی کمی کو پور کیا جائےاور مناسب سہولتوں کی کمی پر غور کیا جائے جن کی کمی کی وجہ سے مریض اور بالخصوص ناگہانی حادثات کا شکار ہونے والے افراد علاج کے لئے کنداپور و مینگلور وغیرہ کا سفر کرنے کے لئے مجبور ہوجاتے ہے،اور شدید زخمی ہونے والے افراد اس لمبے سفر کے دوران موت کے آگوش میں چلے جاتے ہے۔ بھٹکل سرکاری اسپتال جس قدر ایک بڑی امارت پر مشتمل ہے لیکن اس امارت میں صحیح طور پر سہولت دستیاب نہیں ہے ،اس لئے اسپتال میں ایک فیزیشن ،ماہر اطفال،آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر(ای این ٹی)اوراسسٹنٹ میڈیکل آفسر کی فوری ضرورت ہے۔مسائل نمبر2) تقریباً 30تا 40سالوں سے دویا تین گنٹہ پر مکان تعمیر کرکے اپنا بسر کرنے والی عوام کو اپنی زمین چھین جانے کا خوف ہر دم لگےرہتا ہے۔محکمہ جنگلات کی جانب سے انہیں پریشان کیا جاتا ہے ۔ابھی تک ان لوگوں کو زمین کے لئے پٹہ مہیا نہیں کیا گیا ہے۔مسائل نمبر 3)بھٹکل شہر ایک تاریخی شہر ہے جس کو تقریباً ہزا سال سے زیاد ہوئے ہے۔جس کی وجہ سے یہاں کے کئی مکانات بوسیدہ ہو گئے ہیں اور اس میں کئی مکان تو گرنے کے قریب آگئے ہے۔عوام ایسے مکانوں میں رہنے سے خوف کھارہی ہے کیونکہ ان میں انکی جان کو نقصان کا اندیشہ رہ تھا ہے۔آثار قدیمہ کا بہانا بناکر ان مکانات کی مرمت کرنے اور نئے مکانوں کی تعمیر کی اجازت نہیں ملتی ہے۔اس سلسلہ میں عوام کو انکے مکانات کی مرمت کے موقع مہیا کر کےانہیں سکون سے زندگی گزارنے میں مدد کی جائے۔مسائل نمبر 4) بھٹکل سے گزرنے والی قومی شاہراہ نمبر 17کے آس پاس کئی افراد اپنی چھوٹی موٹی دکانوں و مکانات تعمیر کر کے زندگی بسر کر رہے ہے۔موجودہ قومی شاہراہ کی توسیع سے بہت سے خاندان بے سہارا ہو جائیں گے ۔اس لئے قومی شاہراہ کو بائی پاس کے ذریعہ باہر سے تعمیرکیا جائے۔مسائل نمبر 5)شہر بھٹکل میں ڈرینیج کا صحیح طور پر کوئی نظام قائم نہیں ہے۔بالخصوص شہر کا قدیم محلہ غوثیہ اسٹریٹ ڈرینیج کے خراب نظام سے کافی متاثر ہے۔غوثیہ محلہ میں قائم پمپنگ اسٹیشن کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے آس پاس کے علاقہ میں بد بوپھیل رہی ہے جس کے بناءپر علاقہ میں رہنے والی عوام کو کا فی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ تا ہے۔اس سلسلہ میں مطالبہ ہے کہ اس پمپنگ اسٹیشن کو فوری طور دوسری جگہ منتقل کیا جائے۔مسائل نمبر 6)ریوینیو ڈپارٹمنٹ میں بھٹکل کے کئی جگہوں کے اسکیچ موجود نہیں ہے ۔،درخواست ہے کہ اسکیچ کا انتظام ہو نا چاہئے اور سند کے سلسلہ میں بھی عوام کو کافی دشواریاں ہوتی ہے۔مسائل نمبر 7)ایک اور اہم مسئلہ راشن کارڈ جس کے لئے کئی عمر رسیدہ لوگ وخواتین ایک وقت سے لمبی قطارمیں انتظار کرتے ہوئے نظر آتے ہے۔اس سلسلہ میں کوئی ٹھوس قدم اُٹھاکر عوام کو اس مسئلہ سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔مسائل نمبر 8) ممبئی سے مینگلور جانے والی ٹرین نمبر CSTM12133-12134 کو بھٹکل میں اسٹاپ دیا جائے ۔اس ٹرین کو بیندور میں اسٹاپ دیا گیا ہے حالانکہ بھٹکل سے کئی تاجر افراد روزانہ گوا اور ممبئی کا سفر طئے کرتے ہے ۔لیکن اسے بیندور میں اسٹاپ دیا گیا جب کہ بیندور کے مقابل بھٹکل سے مسافر کی کثیر تعداد ہوتی ہیے۔جس کی وجہ مسافروں کو کافی پریشانی ہو تی ہے۔جبکہ بیندور اُڈپی ضلع میں شامل ہے اور بھٹکل اُتر کنڑا ڈسٹرک میں لہٰذا اس ٹرین کو بھٹکل میں اسٹاپ دیا جائے اور اسکے علاوہ ہبلی ریلوے لائن کو جلد ازجلد شروع کئے جانے کی درخواست ہے۔مسائل نمبر9)شہر بھٹکل کو اکثر کچھ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا نے دہشت گردانہ تنظیم کے ناموں کے ساتھ جوڑ کر بدنام کرنے کی کوششیں کی ہے۔جس کی وجہ سے بھٹکل شہری کو ہر جگہ شک کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے اور اس بناءپر بھٹکل کے شہری کو دیگر مقامات پر سفر کرنے کے لئے خوف محسوس ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں ایسے شرپسند میڈیا کے خلاف کاروائی کرنے کی درخواست ہے۔مسائل نمبر 10) بھٹکل میں اکثر بجلی کی آنکھ مچھولی کا سلسلہ جاری و ساری رہتھا ہے باالخصوص تہواروں کے دوران۔یہاں ایک سو دس کلو ہٹس کے پاور اسٹیشن کو منظوری ملی ہے لیکن اسکی ابھی تک کوئی شروعات نہیں کی گی ہے۔کیونکہ اسٹیشن کی جگہ کو محکمہ جنگلات سے منظوری حاصل کرنی ضروری ہے۔تاہم جلد ازجلد ایک سودس کلو ہٹس کا پور اسٹیشن کو عمل میں لایا جائے تاکہ عوام الناس کو بار بار بجلی گل ہونے سے راحت ملے۔مسائل نمبر 11)یہاں غرباءکے لئے ایک ہاﺅزنگ کالونی کو عمل میں لایا جائے تاکہ بے گھر غریبوں کو رہنے کے لئے چھت نصیب ہوسکیں۔مسائل نمبر 12) بھٹکل کو ایک انڈسٹرئیل زون میں تبدیل کر کے حکومت کی طرف سے ایک فیکٹری تعمیر کی جائے تاکہ بے روزگار کو روزگار نصیب ہو جس سے دو وقت کی روٹی حاصل ہو جائے۔اسکے علاوہ شہر بھٹکل کے اقلیتی طبقہ کو ایک ایم ایل سی کی سیٹ اور حکومت کے ماتحت کسی بورڈ کی چیر مین شب دئے جانے کی درخواست کرتے ہے۔تاہم مجلس اصلاح و تنظیم بھٹکل کی جانب سے شہر بھٹکل کے مسائل کو حل کرنے کی ڈسٹر انچارج و برائے وزیر اعلیٰ تعلیم مسٹر آر وی دیش پانڈے صاحب سے اس یادداشت میں درخواستیں کی گئی ہے اور اُمید کی جاتی ہے کہ بھٹکل کے مسائل کو جلد ازجلد حل کیا جائے گا۔ deshpande