نور توحید کا اتمام امت مسلمہ سے ہوگا :ڈاکٹر تنویر احمد

01:51PM Mon 19 Jan, 2015

بھٹکلیس نیوز / 19 جنوری، 15 نئی دہلی/(پریس ریلیز )"آپ تاریخ کے اس دور میں کھڑے ہیں جہاں اجالا ہونے والا ہے تاریکی ختم ہونے والی ہے ،ایک نیا سورج طلوع ہونا چاہتا ہے ۔نظام کہن اب جانے کیلئے بے قرار ہے ۔آپ تاریخ کے ذریں دور سے گزر رہے ہیں اس کی پیشن گوئی نبی کریم ﷺ نے کی ہے ۔ اللہ کا دستور ہے وہ دنیا کو چلانے والا ہے ۔اللہ نے نبوت عطا کیا اور پھر آخری نبی محمد ﷺ پر اس کا سلسلہ ختم کر دیا ،اس کے بعد خلافت قائم ہوئی ،پھر اللہ نے اسے بھی اٹھا لیا اور بادشاہت قائم ہوئی اور اللہ نے اُسے بھی اٹھا لیا اوراب جبر کی حکومت پوری دنیا میں قائم ہے جسے ہم جمہوریت کہتے ہیں ۔بدترین جبر وہ ہے جو آزادی کے پیرائے میں کیا جائے آج پوری دنیا میں مغربی طاقتوں کے ذریعے آزادی کے نام پر ظلم ہو رہا ہے ۔اس کے بعد نمبر خلافت کا ہے یہ اللہ تبارک تعالی کا دستور ہے وہ اسے قائم کر کے رہے گا اللہ کی مشیت یہی چاہتی ہے کہ خیر قائم ہو اور باطل مٹ جائے ۔اس کیلئے جماعت کی ضرورت ہے اس کیلئے نظم کی ضرورت ہے اور اسی نور توحید کیلئے جماعت اسلامی ہند کوشش کر رہی ہے ۔یہ دنیا بھی جنت بنے گی اور و ہ دنیا بھی ۔جماعت اسلامی ہند یہی آذان دے رہی ہے" ۔ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر تنویر احمد نے سیرت کانفرنس بعنوان ’’سیرت محمد ؐ فلاح و نجات کی ضامن ‘‘کے تحت ملی ماڈل اسکول دعوت نگر دہلی میں کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم فلاح و نجات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں دعوت دین کے فریضہ کو ادا کرنا ہوگا یہ ہمارے لئے ابتدا کی حیثیت ہے اور اقامت دین انتہا ہے جس کے بدولت دنیا و آخرت میں ہم کامیاب ہونگے ۔اب اس امت کے ذریعے پوری دنیا میں نظام قائم ہونا ہے عمومی بعثت ابھی باقی ہے اس نور توحید کا اتمام امت مسلمہ سے ہوگا ۔انہوں نے جہاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اپنے دل کو جیتنا ہی جہاد ہے جہاں کشاکش کی کیفیت ہو یہ پہلا جہاد ہے اس کا دوسرا مرحلہ معاشرہ ہے اور آخری مرحلہ نظام باطل کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہے ۔زبان ،قلم اور تلوار کے ذریعے اللہ کے دین کو غالب کرنے کیلئے جہاد فرض ہے ،اللہ کی کبریائی اور اس کے پرچم کو بلند کرنے کیلئے منکرات کو مٹانے کیلئے تیار ہو جائیں اور جہاد کو اپنے دل سے شروع کریں۔اللہ کے رسول اللہ ؐ نے کہا کہ وہ شخص جہنمی ہے جو جماعت سے کام نہیں کرتا ہے چاہے وہ نماز بھی پڑھے اور روزہ بھی رکھے ۔ حضرت محمد ؐ کی سنت ایک تعارف موضوع پر رضوان رفیقی فلاحی مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سنت مکمل ہے اللہ تعالی نے سند دے دی ہے جس کے پیچھے چلا جائے وہ نبیؐ کی شخصیت ہے،نبی کی زندگی انسانیت کیلئے راستہ ہے اس کی حفاظت کی ذمہ خود اللہ تعالی نے لی ہے ۔جو لوگ رسول کی شان میں گستاخی کرتے ہیں ان سے زیادہ قصور وار یہ امت مسلمہ ہے جس نے اس کے دین کو اسکی سنت کو اس تک پہنچانے کا کام نہیں کیاجو فرض منصبی ہم پر عائد ہے اس کو ادا کرنے میں ہم نے کوتاہی کی ہے ۔ حضرت محمد ﷺ سے عقیدت کے تقاضے موضوع پر مولانا انعام اللہ فلاحی نے خطاب میں کہا کہ سچائی اختیار کرو یہی جنت کی طرف لے کر جائے گی امانت میں خیانت نہ کرو پڑوسیوں کا حق ادا کرو اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو یہاں تک کہ ان کے ساتھ احسان کا رویہ اختیار کرو ۔تقاضے کا مطلب یہ ہے کہ اس دنیامیں وہ کس لئے آئے تھے ان کا مقصد کیا تھا ۔وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول کو دین حق کے ساتھ بھیجا تاکہ تمام ادیان پر اس کے دین کو غالب کرے ۔جبکہ باطل اس دین کو اپنی پھونکوں سے بجھانا چاہتے ہیں لیکن یہ دین تو غالب ہو کر رہے گا یہ اللہ کا وعدہ ہے ۔تم غم نہ کرو تم ہی غالب ہو گے اگر تم مومن ہو ۔قاری عبدالمنان کی تلاوت قرآن مجید اور محب اللہ رفیق قاسمی کی نعت پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا اورابوالاعلی سبحانی فلاحی نے نظامت کافریضہ انجام دیا۔ہزاروں کی تعداد میں شرکاء موجود تھے۔ Jamat-e-islami-02 Jamat-e-islami-03