شام: خودکش حملے میں القاعدہ کا سینیئر کمانڈر ہلاک
12:32PM Mon 24 Feb, 2014
بھٹکلیس نیوز 24فروری14
(ایجنسی)
شام کے شہر حلب میں ایک خود کش حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر کمانڈرابو خالد السوری سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔کارکنوں کے مطابق شدت پسند گروپ احرار الاشام کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں سینیئر کمانڈر ابو خالد السوری سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حملہ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ فی العراق والاشام (آئی ایس آئی ایس) نامی ایک دوسرے شدت پسند گروپ نے کیا ہے۔
آئی ایس آئی ایس گروپ شام میں مخالف دھڑوں کے ساتھ طاقت کی خونریز رسہ کشی میں برسرِ پیکار ہے۔
احرار الاشام سخت گیر باغی گروپ ہے جو سات تنظیموں کے مضبوط اتحاد اسلامی فرنٹ کا حصہ ہے۔
باغیوں اور کارکنوں کے ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر یہ حملہ ایک یا دو خودکش حملہ آوروں نے حلب میں احرارالاشام کے ہیڈکوارٹر میں گھس کر کیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ خالد ا لسوری عالمی القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے شام میں مرکزی نمائندے تھے۔
خالد ا لسوری کا اصل نام محمد بہیہ بیان کہا جاتا ہے۔ وہ القاعدہ کے سرکردہ جنگجو تھے جو اطلاعات کے مطابق افغانستان اور عراق میں امریکہ کے خلاف لڑے اور جنھوں نے اسامہ بن لادن کے ساتھ بہت قریب سے کام کیا۔ابو خالد کی موت سے آئی ایس آئی ایس اور دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جانے کے امکان ہیں۔خالد ا لسوری کا اصل نام محمد بہیہ بیان کیا جاتا ہے۔ وہ القاعدہ کے سرکردہ جنگجو تھے جو اطلاعات کے مطابق افغانستان اور عراق میں امریکہ کے خلاف لڑے اور اسامہ بن لادن کے بہت قریب تھے۔ادھر اتوار کو شمالی شام میں ترکی کی سرحد کے قریب ایک کار بم دھماکے میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ بم حملہ باغیوں کے قبضے، اطمہ ،قصبے میں ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں جنگی مہاجرین کیمپوں میں رہتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک تقریباً 65 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 25 لاکھ افراد کا مہاجرین کے طور پر اندراج کیا گیا ہے۔سب سے زیادہ مہاجرین لبنان میں گئے ہیں جبکہ مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک میں اْردن دوسرے اور ترکی تیسرے نمبر پر ہے۔
شام کے شہر حلب میں ایک خود کش حملے میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے سینیئر کمانڈرابو خالد السوری سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔کارکنوں کے مطابق شدت پسند گروپ احرار الاشام کے ہیڈکوارٹر پر خودکش حملے میں سینیئر کمانڈر ابو خالد السوری سمیت متعدد افراد ہلاک ہوئے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ حملہ عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ فی العراق والاشام (آئی ایس آئی ایس) نامی ایک دوسرے شدت پسند گروپ نے کیا ہے۔
آئی ایس آئی ایس گروپ شام میں مخالف دھڑوں کے ساتھ طاقت کی خونریز رسہ کشی میں برسرِ پیکار ہے۔
احرار الاشام سخت گیر باغی گروپ ہے جو سات تنظیموں کے مضبوط اتحاد اسلامی فرنٹ کا حصہ ہے۔
باغیوں اور کارکنوں کے ذرائع کے مطابق ممکنہ طور پر یہ حملہ ایک یا دو خودکش حملہ آوروں نے حلب میں احرارالاشام کے ہیڈکوارٹر میں گھس کر کیا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ خالد ا لسوری عالمی القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کے شام میں مرکزی نمائندے تھے۔
خالد ا لسوری کا اصل نام محمد بہیہ بیان کہا جاتا ہے۔ وہ القاعدہ کے سرکردہ جنگجو تھے جو اطلاعات کے مطابق افغانستان اور عراق میں امریکہ کے خلاف لڑے اور جنھوں نے اسامہ بن لادن کے ساتھ بہت قریب سے کام کیا۔ابو خالد کی موت سے آئی ایس آئی ایس اور دیگر شدت پسند گروپوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ جانے کے امکان ہیں۔خالد ا لسوری کا اصل نام محمد بہیہ بیان کیا جاتا ہے۔ وہ القاعدہ کے سرکردہ جنگجو تھے جو اطلاعات کے مطابق افغانستان اور عراق میں امریکہ کے خلاف لڑے اور اسامہ بن لادن کے بہت قریب تھے۔ادھر اتوار کو شمالی شام میں ترکی کی سرحد کے قریب ایک کار بم دھماکے میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔
کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ بم حملہ باغیوں کے قبضے، اطمہ ،قصبے میں ہوا جہاں ہزاروں کی تعداد میں جنگی مہاجرین کیمپوں میں رہتے ہیں۔ تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ حملہ کس نے کیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق شام میں جاری کشیدگی کی وجہ سے اب تک تقریباً 65 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ 25 لاکھ افراد کا مہاجرین کے طور پر اندراج کیا گیا ہے۔سب سے زیادہ مہاجرین لبنان میں گئے ہیں جبکہ مہاجرین کو پناہ دینے والے ممالک میں اْردن دوسرے اور ترکی تیسرے نمبر پر ہے۔