ملک میں مسلمانوں کی تعلیمی حالت تشویشناک، حالات بہتر بنانے کیلئے ماہرین کمیٹی کی طرف سے مرکز کو رپورٹ پیش 

02:28PM Wed 12 Jul, 2017

بنگلورو(بھٹکلیس نیوز): ہندوستان کے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کا اعتراف کرتے ہوئے ماہرین کی ایک کمیٹی نے مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی ہے۔ دسمبر 2016کے دوران مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے سکریٹری افضل امان اللہ کی قیادت میں مرکزی حکومت نے گیارہ رکنی کمیٹی تشکیل دی، جس کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ اقلیتوں کی تعلیمی صورتحال کاجائزہ لیں۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کے مالی تعاون سے اس کمیٹی نے مسلمانوں کی تعلیمی حالت کے جائزے کا کام شروع کیا، کمیٹی نے جو جائزہ لیا ہے اس کے نکات اب منظر عام پر آچکے ہیں۔ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کیلئے زیادہ تعلیمی اداروں کی شروعات کی جائے، سنٹرل یونیورسٹیوں اور کمیونٹی کالجس کے ریاستی سطح پر قیام کو منظوری ملنی چاہئے۔ اسی طرح تعلیمی نظام کو سہ درجاتی بناکر مسلمانوں کیلئے مختلف درجوں پر تعلیمی ادارے مہیا کرائے جائیں۔بنیادی وثانوی سطح پر اقلیتوں کیلئے ملک بھر میں 211 ایسے اسکولوں کے قیام کی سفارش کی گئی ہے جو کیندریہ ودیالیہ کے طرز پر چلتے ہوں، اس کے علاوہ ہر ریاست میں 25کمیونٹی اسکول اور اعلیٰ تعلیم کیلئے مرکزی سطح کی یونیورسٹی کے قیام کا بھی مشورہ دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے حکومت کو بتایا کہ ملک میں 167 علاقے ایسے ہیں جہاں پر مسلمانوں کی آبادی اکثریت پر مشتمل ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے چالیس اہم شہر ایسے ہیں جہاں مسلمانوں کا دبدبہ ہے۔ ان علاقوں میں تعلیمی اداروں اور مرکزی یونیورسٹیوں کے قیام پر زور دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرکز کی طرف سے جو اسکول اور کالج مسلمانوں کیلئے قائم کئے جائیں ان میں سی بی ایس سی نصاب کے ساتھ تجارتی تعلیم کا بھی بندوبست کیا جانا چاہئے۔ 25 ریاستوں میں مسلمانوں کو فروغ ہنر سے آراستہ کرنے کیلئے مختلف کورسوں کی شروعات پر بھی زور دیا گیا ہے۔ کمیٹی نے محکمہء اعداد وپلاننگ سے سفارش کی ہے کہ جن علاقوں میں اقلیتوں کی آبادی ہے وہاں بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی کیلئے مقامات کی نشاندہی کے ساتھ فنڈز کی فراہمی کی طرف بھی توجہ دی جائے۔ کمیٹی کی طرف سے مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کو سفارشات پر مشتمل رپورٹ پیش کی جاچکی ہے، تاہم اس رپورٹ پر مرکزی حکومت کا ردعمل کیا ہوگا اب تک کچھ بھی سامنے نہیں آیا ہے۔ یڈیورپا نے حکومت کرناٹک کوقاتل قرار دیا بنگلورو12(بھٹکلی نیوز) سابق وزیراعلیٰ اور ریاستی بی جے پی صدر بی ایس یڈیورپا نے منگلور میں آر ایس ایس کارکن کے قتل کیلئے وزیراعلیٰ سدرامیا اور وزیر جنگلات رمناتھ رائے کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ ترویکیرے میں بی جے پی کارکنوں کی میٹنگ سے خطاب سے قبل اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ رمناتھ رائے اگر ایک مہینہ دکشن کنڑا ضلع نہ جائیں تووہاں کے حالات دوبارہ پرامن ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانے والے اراکین پارلیمان نلن کمار کٹل اور شوبھا کارند لاجے کے خلاف مقدمہ درج کرکے وزیراعلیٰ سدرامیا نے اپنی ذہنیت کا ثبوت دیا ہے۔ سدرامیا کو ریاست کی نظم وضبط کی صورتحال کی نگرانی میں نااہل قرار دیتے ہوئے یڈیورپا نے کہاکہ اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو کچلنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ دکشن کنڑا ضلع میں فرقہ وارانہ منافرت کو ہوا دے کر حکومت بی جے پی کے حق میں اٹھنے والی لہر کو دبانے کی کوشش کررہی ہے۔ پچھلے چار سال کے دوران کانگریس حکومت میں 25سے زائد بی جے پی اور آر ایس ایس کارکنوں کا قتل ہوا ہے، اس سلسلے میں مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ سے بات چیت کی گئی ہے اور ان سے کہا گیا ہے کہ ریاستی حکومت کو سخت ہدایت دی جائے کہ نظم وضبط کی نگرانی میں جانبداری نہ برتے۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی حکومت کی طرف سے بی ؤجے پی کے ساتھ انتقامی سیاست کی جارہی ہے۔وزیر اعلیٰ سدرامیا سے انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیر جنگلا ت رمناتھ رائے کے خلاف کارروائی کریں۔