کشمیر میں ہڑتال 46 ویں دن میں داخل، معمولات زندگی بدستور متاثر

04:56PM Thu 19 Sep, 2019

سری نگر: وادی کشمیر میں جمعرات کو مسلسل 46 ویں دن بھی ہڑتال رہی۔ اگرچہ سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ کی آمدورفت کلی طور پر معطل ہے تاہم بڑی تعداد میں نجی گاڑیاں چلتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ جہاں وادی بھر میں دکانیں و تجارتی مراکز دن کے وقت بند رہتے ہیں وہیں گرمائی دارالحکومت سری نگر کے کچھ حصوں میں اب نماز فجر کی ادائیگی کے بعد دکانیں کھل جاتی ہیں اور لوگ بھی یکایک ظاہر ہوکر خریداری کرتے ہیں تاہم نو بجتے ہی دکانیں فوراً بند ہوجاتی ہیں اور بازاروں میں ایک بار پھر اگلے فجر تک ہوکا عالم چھا جاتا ہے۔
ادھر سری نگر میں قائم سبزی منڈیوں میں فجر ہوتے ہی لوگوں کی اس قدر بھیڑ لگ جاتی ہے کہ صرف ایک گھنٹے کے اندر ہی ساری سبزی بک جاتی ہے جو گاہک ایک گھنٹے کے بعد منڈی میں آتا ہے تو اس کو خالی ہاتھ ہی واپس گھر لوٹنا پڑتا ہے۔ یونس احمد نامی ایک عینی شاہد نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ فجر ہوتے ہی سری نگر کے سول لائنز میں بیشتر دکانیں کھل جاتی ہیں اور دکانوں پر خریداروں کی لمبی لمبی قطاریں لگتی ہیں۔
 انہوں نے بتایا کہ 'فجر کے بعد ہی سول لائنز میں دکانیں کھل جاتی ہیں اور ان پر مختلف چیزوں خصوصاً اشیائے خوردنی کی خریداری کے لئے لوگوں کی لمبی لمبی قطاریں لگتی ہیں، گاڑیاں بھی چلتی ہیں اور لوگوں کی گہماگہمی سے بازاروں میں رونق آتی ہے تاہم نو بجتے ہی دکانیں بھی یکایک بند ہوجاتی ہیں اور لوگ بھی غائب ہوجاتے ہیں۔ بعد ازں اگلے فجر تک بازاروں میں ہوکا علم طاری رہتا ہے'۔ ادھر محمد یوسف نامی ایک شہری نے کہا کہ سری نگر میں قائم سبزی منڈیاں بھی فجر کے وقت کھل جاتی ہیں لیکن وہاں محض ایک گھنٹے میں ہی ساری سبزی بک جاتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 'سری نگر میں قائم سبزی منڈیاں بھی بازاروں کی طرح فجر کے وقت کھل جاتی ہیں لیکن وہاں لوگوں کی بھیڑ کا یہ عالم ہے کہ ایک گھنٹے کے اندر ہی ساری سبزی بک جاتی ہے، جو گاہک ذرا دیر سے آتا ہے اس کو خالی ہاتھ ہی واپس لوٹنا پڑتا ہے'۔ محمد یوسف نے کہا کہ 'میں سبزی خریدنے کے لئے بتہ مالو میں واقع اقبال سبزی منڈی جایا کرتا ہوں، میں نماز فجر کی ادائیگی کے فوراً بعد جایا کرتا ہوں اور سبزی لاتا ہوں لیکن ایک دن میں ذرا دیر سے وہاں پہنچا تو دیکھا کہ سبزی کا نام و نشان تک موجود نہیں ہے'۔