کاروار بند۔ کو ئی ناخوشگوار واقعہ نہیں
03:36PM Thu 6 Nov, 2014
بھٹکلیس نیوز6/نومبر،2014
کاروار(نامہ نگار) گذشتہ اتوار کو ضلعی انتظامیہ کے ذریعہ کاروار ساحلپر بنائی گئی روایتی ماہی گیر وں کے سازوسامان رکھنے کی جھونپڑیوں کو ہٹائے جانے کے خلاف احتجاج کر تے ہو ئے ماہی گیروں نے کل کاروار بند کی اپیل کی تھی اپیل کے مطابق "کاروار بند "کامیاب اور پر امن رہا ،کہیں سے بھی کو ئی ناخوشگوار واقعہ کی خبر نہیں ملی ، بند رہنے کے باوجود تمام سرکاری دفاتر، اسکول اور بینک کھلے رہے ،بعض آٹو رکشا بھی حسب معمول سڑکوں پر گشت کر تے رہے ،کل صبح سینکڑوں ماہی گیر ڈپٹی کمشنر کے دفتر کے سامنے اکٹھا ہو ئے ،انہوں نے ضلعی انتظامیہ کے اس عمل کے خلاف احتجاجی نعرے لگائے ،احتجاجیوں نے ڈپٹی کمشنر بلدیہ اور تحصیلدار کے تبادلہ کی مانگ کی ، ماہی گیروں کی جانب سے ریاستی وزیر اعلیٰ کو ایک اپیل براہ راست بھیجی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کاروار ساحل پر روایتی ماہی گیر ی کئی پشتوں سے چل رہی ہے اور ساحل کے کنارے پر ماہی گیری کر تے آئے ہیں اور یہ ان کا روز مرہ کا عمل ہے ،ماہی گیروں کے بزرگوں کے زمانے سے بھی ماہی گیر ،روایتی ماہی گیر ی کے سازو سامان جیسے جالے کستیاں وغیرہ رکھنے کے لئے بلٹ سرکل کے قریب ،ساگر متالیہ کے پیچھے اور پالی ٹیکنک کالج کے پیچھے جھونپڑیاں بناتے آئے ہیں ، ان جھونپڑیوں میں سازو سامان رکھنے کے علاوہ دھوپ اور بارش سے پناہ لینے کا کام لیا جاتا ہے ،سمندر ست 100/کلومیٹر کے فاصلہ کے اندر ہی یہ جھونپڑی بنائے گئے ہیں ،یہ علاقہ قبضہ کیا گیا علاقہ نہیں ہے اور ہم نے کسی بھی کندایہ زمین یا جنگلاتی زمین پر قبضہ نہیں کیا ہے ، عرصہ دارز سے ہمارے بزرگ اور ہم ماہی گیری سے یہی اپنا گذارہ کرتے آئے ہیں اگر یہ بندہو گیا تو ہمارا جینا دشوار ہو جائے گا ، ہم نے بارہا یہ حقیقت ضلعی انتظامیہ اور تحصیلدار کو سمجھانے کے باوجود اس کے تحصیلدار بار بار ہمیں نوٹس بھیجتے آئے ہیں ،اپیل میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سمندر کے اور ندی کے کنارے کے علاقے میں ماہی گیری اور بسنے کا موقع دینا چاہیئے مگر ضلعی انتظامیہ نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہو ئے بھی ہم سے ہمارا حق چھینا ہے ، ضلعی انتظامیہ سیاحت کے فروغ کے بہانے ماہی گیروں کو ان کے حق سے محروم کر رہی ہے ، اس سے ورایتی ماہی گیری پر اثر پڑے گا ، اپیل کے آخرمیں وزیر اعلیٰسے گذارش کی گئی ہے کہ وہ اس میں مداخلت کریں اور ڈپٹی کمشنر ،بلدیہ کمشنر اور تحصیلدار کا تبادلہ کریں ورنہ آئندہ مسلسل احتجاج کیا جائے گا ، احتجاج کی قیادت پی یم تانڈیل پر سوکار وار کر اور مہا داربانا ولی نے کی۔