اسکارپین آب دوز ڈاٹا لیک معاملہ: منوہرپریکر نے بحریہ سے رپورٹ طلب کی
03:55PM Wed 24 Aug, 2016
نئی دہلی۔ وزیر دفاع منو ہر پریکر نے فرانس کے تعاون سے بننے والی اسکارپین آب دوز کی صلاحیت سے منسلک خفیہ ڈاٹا کے چوری ہونے کی رپورٹ پر بحریہ چیف ایڈمیرل سنیل لامبا کو تفتیش کا حکم دیا ہے۔ بحریہ نے بھی بتایا کہ وزارت دفاع کے مشترکہ ہیڈکوارٹر نے اس ضمن میں تفتیش شروع کردی ہے اور متعلقہ ماہرین معاملے کا جائزہ لے رہے ہیں۔
خبررساں ایجنسی یواین آئی نےکل رات پونے بارہ بجے یہ خبر دی تھی۔ وزیردفاع نےآج نامہ نگاروں کو بتایا کہ انہیں اس رپورٹ کے بارے میں رات 12بجے پتہ چلا تھا۔انہوں نے بحریہ چیف کو اس پورے معاملے کی تحقیق کرنے کو کہا ہے کہ کون سا ڈاٹا لیک ہوا ہے ،اس میں کیا باتیں سامنے آئی ہیں اور کس حد تک نقصان ہوا ہے۔ مسٹر پریکر نے کہا،جہاں تک میرا خیال ہے کہ کہیں کوئی ہیکنگ ہوئی ہے،اس لئے اس کا پتہ لگائیں گے۔‘‘
بحریہ نے بھی اس بیان پر فوراً ردعمل ظاہر کیا ہے اور ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسکارپین آب دوز کے دستاویزات کے مشتبہ طور پر افشاں ہونے کے معاملے کی اطلاع ایک غیر ملکی میڈیا ہاؤس کے ذریعہ دی گئی ہے۔ دستیاب اطلاعات کی تفتیش مشترکہ ہیڈکوارٹر ،وزارت دفاع (بحریہ) کے ذریعہ کی جارہی ہے اور متعلقہ ماہرین کے ذریعہ جائزہ لیا جارہا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس لیک کا ذرائع ہندوستان سے نہیں بلکہ بیرون ملک سے حاصل ہوا ہے۔ اسکارپین ڈاٹا کے افشاں ہونے کی خبر سب سے پہلے آسٹریلیا میڈیا سے آئی تھی۔
نیوز پورٹل دی آسٹریلین نے اپنی رپورٹ میں کہاکہ لیک دستاویزات 22ہزار 400صفحات پر مشتمل ہے اور ان میں چھ اسکارپین آب دوزوں کی جنگی صلاحیتوں کی خفیہ تفصیلات ہیں۔اس آب دوز کو ڈیجاو اینڈ فرانس کی جہازرانی کمپنی ڈی سی این ایس نے تیار کیا ہے۔ نیوز پورٹل نے کہا کہ اس لیک سے آسٹریلیا اور امریکہ کے اسٹریٹجک حلقوں میں سخت تشویش پیدا ہوگئی ہے۔ بحریہ کے سینئر افسروں نے فرانس کے پاس موجود اس بے حد خفیہ ڈاٹا کی سکیورٹی کے سلسلے میں ذاتی طورپر خدشات ظاہر کئے ہیں۔ دی آسٹریلین نے اس بات کی تصدیق نہیں کی ہے کہ آیا دستاویز کا افشاں ہندوستان کی جانب سے ہوا ہے۔لیکن یہ بھی کہا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسکارپین کا یہ ڈاٹا فرانس میں 2011میں ایک سابق فرانسیسی بحریہ افسر نے مٹا دیا تھا جو اس وقت ڈی سی این ایس میں سب کنٹریکٹر تھا۔