زندگی کے تجربات اور تہذیب وتمدن کی نئی نسل میں منتقلی کا عمل کم سے کم ہے

05:16PM Sat 15 Apr, 2017

نئی ایجادات اور تحقیقات نے انسانی زندگی کارخ بدل دیاہے:پروفیسر یونس فہمی بیدر۔(بھٹکلیس نیوز)پروفیسر یونس فہمی ایک بے نیاز ماہرتعلیم کانام ہے۔ آپ ان سے بہت سے موضوعات پر جواب سنیں گے کہ ’’مجھے نہیں پتہ‘‘ ،اردو کے پروفیسر رہے ہیں اور اردوسے بے نیازانہ عشق ہے ۔ اردو کو ایک تہذیب اور ثقافت مانتے ہیں جس کو نئی نسل تک منتقل نہ کرنے کاانہیں غم بھی ہے۔اور مزاح کی اہمیت کے قائل ہیں بلکہ بات بات پر کوئی پھڑکتاہواجملہ کہنا جیسے عادت میں شامل ہے۔ ناندیڑ(مہاراشٹر) سے تعلق رکھنے و الے پروفیسر یونس فہمی اِن دِنوں بیدر میں اپنے فرزند ڈاکٹر نجیب فہمی کے ہاں چند دنوں کے لئے قیام پذیر ہیں ۔ ان سے لیا گیا تازہ ترین انٹرویو کے اقتباسات ملاحظہ فرمائیں۔پہلا سوال اردو کی جامع تعریف سے متعلق تھا ۔جواب میں فرمایاکہ اردو تہذیب کانا م ہے ۔ ویسے زبان تو ہے ہی ۔ اس زبان کو زیادہ تعداد میں مسلمانوں نے اختیار کیا ۔ ویسے یہ ہندوستان کی زبان ہے۔ ماضی میں بھی اور آج بھی غیرمسلم شعراء نے اردو میں شاعری کی اور آج بھی اردو میں شاعری کرتے ہیں۔ اگلا سوال یہ تھاکہ اردو کو غیرمسلمین نے کیوں چھوڑا؟ جواب میں پروفیسر یونس فہمی نے صاف طورپر کہاکہ کوئی وجہ نہیں بتائی جاسکتی ۔ خود اردو والوں نے اردو کو چھوڑا ہے۔ منشی پریم چند اردو کے مصنف رہے۔ لیکن بعد میں ہندی سیکھی۔ ان کی تمام تصانیف اردو میں ہیں۔ ان کے افسانوں میں زیادہ تر مسلمانوں کے تہواروں کاذکر ملتاہے۔ سیاسی حالات سے متعلق کئے گئے سوال کا جواب بھی غیرمتوقع رہا۔ کہاکہ سیاست سے میری دلچسپی نہیں ہے ۔ شعرا ء سے متعلق بتایاکہ میں غالب ؔ کو مانتاہوں ۔ غالب کی شاعری میں جو انوکھا پن ہے وہ دوسروں میں نہیں ۔اقبال کاتقابل میں یہاں غالب ؔ سے نہیں کروں گا۔ اقبال کے ناصح ہونے کو پسند کرتاہوں ۔اردو ادب کیوں پڑھیں اور کتنا پڑھیں ؟ سوال کے جواب میں بتایاکہ ادب میں انسانی زندگی کی پرچھائیاں نظر آتی ہیں ۔ جتنا زیادہ پڑھئے گا لطف آئے گا۔ اور زندگی کا لطف بھی ملے گا ۔اب رہی یہ بات کہ کتناادب پڑھا جائے ،تو مقدار طئے نہیں کی جاسکتی نا؟موصوف مانتے ہیں کہ ایک نسل سے دوسری نسل میں زندگی کے تجربات ،اور تہذیب وتمدن کی منتقلی کا عمل کم سے کم ہے۔ نئی ایجادات اور تحقیقات نے انسانی زندگی کارخ بدل دیاہے۔ نئی دنیا کی صورت گری اورنئی ایجادات دراصل اقدار، تہذیب وتمدن کو نئی نسل میں منتقل ہونے میں مانع ہیں۔زبان کے حوالے سے اس کی مثال پیش کرتے ہوئے کہاکہ نئی نسل انگریزی میڈیم سے علم حاصل کررہی ہے ۔ اسی لئے ہماری تہذیب، ہماراتمدن اور ہماری زبان ان میں منتقل نہیں ہوپارہی ہے۔ ہاں ! البتہ بیماریاں ضرورمنتقل ہورہی ہیں۔ نثر اور شاعری کے حوالے سے بتایاکہ دونوں کی اہمیت مسلم ہے۔ اور دونوں کالکھنا مشکل ہے۔ شعر کہنے کی صلاحیت میری نظر میں سیکھنے سے نہیں آتی۔ علمِ عروض کے پڑھ لینے سے شاعری نہیں آتی ۔ یہ ایک خداداد صلاحیت ہے جس کا ہرایک میں ہوناممکن نہیں۔ نثر ہرکوئی لکھنے کی سعی کرتاہے لیکن ایسی نثر جو شعر کی طرح دل میں اُتر جائے وہی لکھ سکتاہے جس کا مزاج شاعرانہ ہو۔ لسانی تبدیلیوں سے متعلق ان کی کتاب عنقریب منظر عام پر آرہی ہے۔ انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایاکہ ہمزہ کا غائب کیاجانا غلط نہیں ہے۔ مجتبیٰ اور عیسیٰ پر الف مقصورہ لازمی ہے۔ لسانی تبدیلیوں کے حوالے سے جو نئے مشورے دئے جارہے ہیں وہ قابل قبول ہیں ، اسی کے ساتھ بہت سارے الفاظ کو سابقہ شکل میں رکھنا بھی ضروری ہے۔ اردو اکاد می سے متعلق دریافت کئے گئے سوال کے جواب میں بتایاکہ اردو اکادمی مہاراشٹر اکا میں کبھی ممبر نہیں رہا۔ اسلئے کہ مزاج میں خوش آمد نہیں ہے۔ آج کے ماحول میں یہ اور سفارش دونوں ضروری ہیں۔ایک سوا ل کے جواب میں بتایاکہ مہاراشٹراردو اکادمی کیاکررہی ہے مجھے نہیں معلوم ۔ ویسے جزوی امداد وغیرہ کے تعلق سے اعلانات آتے رہتے ہیں۔ اس وقت کوئی ڈھانچہ نہیں ہے۔ سیاسی وجوہات ہوسکتی ہیں جس کامجھے پتہ نہیں ہے۔ اس انٹرویو کے اختتام پر مولوی محمدکمال الدین شمیم ، اور محمدمعظم امیرمقامی جماعت اسلامی ہند بیدر بھی آشامل ہوئے۔ انھوں نے اپنی تاز ہ ترین شعری مجموعہ ’’پسِ دیوار‘‘ ان تمام کو تحفتاً پیش کیا۔