نوٹ بندی سے شادی بیاہ کا موسم بری طرح متاثر

04:05PM Tue 15 Nov, 2016

نئی دہلی، (ایف او یس ) 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کے چلن سے باہر ہونے سے فوری طور پر نقد رقم کی کمی ہو گئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی شادی بیاہ کر پانا کافی مشکل کام ہو گیا ہے۔کیا مجھے ٹینٹ والے اور سنار کو پہلے ہی پیسہ دے دینا چاہیے تھا؟مجھے روز یہی فکر رہتی ہے، نوٹ بند کرنے کے لیے حکومت کا شکریہ، میرے پاس لوگوں کو ادا کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ نقد رقم نہیں ہے۔راجندر گپتا کی شادی 24؍نومبر کو طے ہے، انہوں نے کہاکہ کل میرے دروازے پر کچھ لوگ پیسہ لینے کے لیے دستک دے رہے تھے، دروازے کے ٹھیک باہر کا ماحول دلچسپی سے بھرا ہوا ہے۔شادی کا جشن ایک برے خواب میں تبدیل ہوکر رہ گیا ہے، حالانکہ انہوں نے حکومت کے اس قدم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ نئے نوٹوں کو لانے کے بارے میں صحیح انتظام نہیں ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔انہوں نے کہاکہ آپ لوگ یہ توقع کیسے کر سکتے ہیں کہ جس کے گھر میں شادی ہونے والی ہو، وہ جا کر بینک نوٹ تبدیل کرنے کے لیے لمبی لائن میں کھڑا رہے؟ اگر وہ ایسا کرتا بھی ہے تواسے10000یااس سے کم روپے ہی ملیں گے، جس سے اس کا شادی کا خرچ نکالنے کا ہدف پورا نہیں ہوگا۔شادی بیاہ کے اس موسم میں کاروباریوں کا سب سے زیادہ کاروبار ہوتا ہے، لیکن مارکیٹ میں نقد رقم نہیں ہونے سے مسائل پیدا ہو گئے ہیں ۔قابل ذکر ہے کہ دارالحکومت میں بارات میں شامل ہونے والے کئی بینڈ اپنے گراہکو ں کو پورا پیسہ ادا کرنے کے لیے ایک ماہ کاوقت دے رہے ہیں، لیکن ابھی لوگو ں کے پاس پیشگی ادائیگی کے لیے پیسے نہیں ہے۔ٹیگور گارڈن میں شادی بیاہ کرانے والے سندھی ہیرانند بینڈ کے مالک پنکج نے کہاکہ لوگوں کے پاس نیا پیسہ نہیں ہے، اس لیے ہماراکاروبارمتاثرہورہاہے۔