آئی یو ایچ ایس اور اے بی ایچ ایس کا سالانہ اجلاس؛ ذُھیب صدیقہ کو وقار اسلامیہ اور عبدالاحد کو وقار انجمن کا ایوارڈ
12:57PM Sun 15 Jan, 2017
بھٹکلیس نیوز / 15 جنوری، 17
بھٹکل / (رضوان گنگاولی) اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول اور انجمن بوائز ہائی اسکول کا سالانہ اجلاس یہاں انجمن میدان میں مشترکہ طور پر منعقد ہوا جس میں کابینی وزیر یو ٹی قادر اور دیگر علماء نے شرکت کی اور اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔اس موقع پر اسکول کے بہترین طالب علم کو دیا جانے والا ایوارڈ وقار اسلامیہ آئی ایچ ایس میں ذھیب صدیقہ کو اور وقار انجمن کا ایوارڈ انجمن بوائز ہائی اسکول کے عبدالاحد ابن مشتاق سکندر کو دیا گیا۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اغذیہ جناب یو ٹی قاد ر صاحب نے بہت ہی مفید باتیں کہیں،انہوں نے علم کو ایک مضبوط ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو موجود ہ زمانہ کی ترقیات اور ٹیکنالوجی کے تعلق سے بھرپور معلومات رکھنی چاہئے ، انہوں نے تعلیم کے ساتھ اخلاق کو بھی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھے اخلاق کے بغیر تعلیمحاصل شدہ تعلیم سے ملک ترقی کی جانب جانے کے بجائے تنزلی کی جانب جائے گا اس تعلیم سے رشوت خوری کرپشن اوردوسروں کے مال کو ہتھیانے کے منصوبے بنائے جائیں گے جو کہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنیں گے۔محترم قادر صاحب نے اساتذہ کو طلبہ پر محنت کرنے کی بات کہی اور کہا کہ یہی طلبہ ملک کا مستقبل بننے والے ہیں اگر ان کا مستقبل چمکدار ہے تو ہمارے ملک کا مستقبل بھی چمکدار رہے گا ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب نور احمد بیگ نے کہا کہ طلبہ کو اپنے اساتذہ کی قدر کرنی چاہئے اور ان کا حد درجہ احترام کرنا چاہئے کیوں کہ ماں باپ زمین پر لانے کا ذریعہ ہیں لیکن اس زمین سے عرش تک پہنچانے والے اساتذہ ہوتے ہیں۔
اعزازی مہمان کی حیثیت سے ملی کونسل کے مولانا فاروق فوزان صاحب نے طلبہ اور سرپرستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ کی زندگی کے تمام تر پہلو لائق اتباع ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر سنتیں مفید ہیں۔مولانا نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سنت کے مفہوم کو سمجھنے میں تنگ نظری کا مطاہرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف نوافل اور تہجد کا پڑھنا ہی سنتیں نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے کام آنا،پڑوسیوں کی فکر کرنا ،یتیموں سے اچھا برتاؤ کرنا،بھوکوں کو کھانا کھلانا یہ بھی اہم سنتیں ہیں جن پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں۔مولانا نے مزید کہا کہ پڑوسی اور اپنے رشتہ دار محلے والے بھوکے ہیں لیکن گھر میں مرغ مسلم کی دعوتیں اڑائی جارہی ہیں ،پڑوسیوں کے پاس اسکول کی فیس ادا کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے یہاں کھیلوں اور دوسری فضول اشیاء کے پیچھے پیسہ اڑایا جارہا ہے۔مولانا محترم نے اسے نامکمل اتباع رسول قرار دیتے ہوئے اس کو اسلام اور سنت رسول کے منافی قرار دیا اور غریب و نادار لوگوں کے ساتھ اچھا سول کرنے کی اپیل کی۔
چیف قاضی مزرکزی خلیفہ جماعت المسلمین جناب مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی صاحب نے بھی اساتذہ کے ادب کو ضروری قرار دیتے ہوئے محنت و لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی بات کہی۔
صدر انجمن جناب عبدالرحیم جوکاکو صاحب نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹکل میں اب سب سے اعلیٰ معیار پر انجمن کے ادارے چل رہے ہیں اانہوں نے بھٹکل کے مسلمانوںسے اپیل کی کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنے بچوں کو شہر سے باہر بھیجنے کے بجائے انجمن کے اداروں میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں ۔انہوں نے گزشتہ ایک سال میں انجمن کے طلبہ کی کارکردگی کو گناتے ہوئے کہا کہ انجمن کے طلبہ بہت سے اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں جو یہاں کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔
اس اجلاس میں اپریل 2016 کے ایس ایس ایل سی امتحان میں 92.6 فیصد کے ساتھ اسکول میں پہلا مقام حاصل کرنے والے سید محمد مالکی کو مرحوم جناب ایم ایم صدیق ایوارڈ سے نوازا گیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے پانچ ہزار نقد روپیہ انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ محمد ریان ابن اسماعیل شیخ کو دھارواڑ میں منعقدہ ریاستی سطح کے پول والٹ میں اول انعام حاصل کرنے پرانعام سے نوازا گیا ۔ خبیب احمد ابن خواجہ معین الدین اکرمی کو جونئیر ادبی مقابلوں میں جنرل چمپئن شپ حاصل کرنے پر اور سید عبدالمنان ابن سید احمد انصار کو سنئیر ادبی مقابلوں میں جنرل چمپن شپ حاصل کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ فضل الرحمن ابن محمد اسماعیل کندنگوڈا کو این سی سی میں فرسٹ بیسٹ کیڈیٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔

اجلاس کا آغاز حسین قاضیا کی تلاوت سے ہوا ،جس کے بعد انجمن کے سکریٹری عبدالواجد کولا نے استقبالیہ کلمات کو پیش کیا ۔اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس شبیر دفعدار نے آئی یو ایچ ایس کی سالانہ رپورٹ پیش کی جبکہ جناب محی الدین خطالی نے انجمن بوائز ہائی اسکول کی سالانہ رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ ڈائس پر نائب صدر اول عبدالرحمن باطنؔ، جنرل سکریٹری صدیق اسماعیل، ایڈیشنل جنرل سکریٹری محمد اسحاق شاہ بندری، انجمن کے سکریٹری عبدالواجد کولا وغیرہ موجود تھے۔پروگرام کی نطامت اسکول ٹیچر مولوی عبدالحفیظ خان ندوی نے احسن طریقہ پر کی۔
اس موقع پر مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اغذیہ جناب یو ٹی قاد ر صاحب نے بہت ہی مفید باتیں کہیں،انہوں نے علم کو ایک مضبوط ہتھیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ کو موجود ہ زمانہ کی ترقیات اور ٹیکنالوجی کے تعلق سے بھرپور معلومات رکھنی چاہئے ، انہوں نے تعلیم کے ساتھ اخلاق کو بھی ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اچھے اخلاق کے بغیر تعلیمحاصل شدہ تعلیم سے ملک ترقی کی جانب جانے کے بجائے تنزلی کی جانب جائے گا اس تعلیم سے رشوت خوری کرپشن اوردوسروں کے مال کو ہتھیانے کے منصوبے بنائے جائیں گے جو کہ ملک کی ترقی میں رکاوٹ بنیں گے۔محترم قادر صاحب نے اساتذہ کو طلبہ پر محنت کرنے کی بات کہی اور کہا کہ یہی طلبہ ملک کا مستقبل بننے والے ہیں اگر ان کا مستقبل چمکدار ہے تو ہمارے ملک کا مستقبل بھی چمکدار رہے گا ۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے جناب نور احمد بیگ نے کہا کہ طلبہ کو اپنے اساتذہ کی قدر کرنی چاہئے اور ان کا حد درجہ احترام کرنا چاہئے کیوں کہ ماں باپ زمین پر لانے کا ذریعہ ہیں لیکن اس زمین سے عرش تک پہنچانے والے اساتذہ ہوتے ہیں۔
اعزازی مہمان کی حیثیت سے ملی کونسل کے مولانا فاروق فوزان صاحب نے طلبہ اور سرپرستان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ کی زندگی کے تمام تر پہلو لائق اتباع ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام تر سنتیں مفید ہیں۔مولانا نے اس موقع پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں سنت کے مفہوم کو سمجھنے میں تنگ نظری کا مطاہرہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اس کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ صرف نوافل اور تہجد کا پڑھنا ہی سنتیں نہیں ہیں بلکہ لوگوں کے کام آنا،پڑوسیوں کی فکر کرنا ،یتیموں سے اچھا برتاؤ کرنا،بھوکوں کو کھانا کھلانا یہ بھی اہم سنتیں ہیں جن پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں۔مولانا نے مزید کہا کہ پڑوسی اور اپنے رشتہ دار محلے والے بھوکے ہیں لیکن گھر میں مرغ مسلم کی دعوتیں اڑائی جارہی ہیں ،پڑوسیوں کے پاس اسکول کی فیس ادا کرنے کے لئے پیسہ نہیں ہے یہاں کھیلوں اور دوسری فضول اشیاء کے پیچھے پیسہ اڑایا جارہا ہے۔مولانا محترم نے اسے نامکمل اتباع رسول قرار دیتے ہوئے اس کو اسلام اور سنت رسول کے منافی قرار دیا اور غریب و نادار لوگوں کے ساتھ اچھا سول کرنے کی اپیل کی۔
چیف قاضی مزرکزی خلیفہ جماعت المسلمین جناب مولانا خواجہ معین الدین اکرمی مدنی صاحب نے بھی اساتذہ کے ادب کو ضروری قرار دیتے ہوئے محنت و لگن کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے کی بات کہی۔
صدر انجمن جناب عبدالرحیم جوکاکو صاحب نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹکل میں اب سب سے اعلیٰ معیار پر انجمن کے ادارے چل رہے ہیں اانہوں نے بھٹکل کے مسلمانوںسے اپیل کی کہ اعلیٰ تعلیم کے لئے اپنے بچوں کو شہر سے باہر بھیجنے کے بجائے انجمن کے اداروں میں ہی اپنے بچوں کو تعلیم دلائیں ۔انہوں نے گزشتہ ایک سال میں انجمن کے طلبہ کی کارکردگی کو گناتے ہوئے کہا کہ انجمن کے طلبہ بہت سے اعلیٰ مناصب پر فائز ہیں جو یہاں کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔
اس اجلاس میں اپریل 2016 کے ایس ایس ایل سی امتحان میں 92.6 فیصد کے ساتھ اسکول میں پہلا مقام حاصل کرنے والے سید محمد مالکی کو مرحوم جناب ایم ایم صدیق ایوارڈ سے نوازا گیا اور ساتھ ہی ساتھ اسے پانچ ہزار نقد روپیہ انعام دیا گیا۔ اس کے علاوہ محمد ریان ابن اسماعیل شیخ کو دھارواڑ میں منعقدہ ریاستی سطح کے پول والٹ میں اول انعام حاصل کرنے پرانعام سے نوازا گیا ۔ خبیب احمد ابن خواجہ معین الدین اکرمی کو جونئیر ادبی مقابلوں میں جنرل چمپئن شپ حاصل کرنے پر اور سید عبدالمنان ابن سید احمد انصار کو سنئیر ادبی مقابلوں میں جنرل چمپن شپ حاصل کرنے پر اعزاز سے نوازا گیا۔ فضل الرحمن ابن محمد اسماعیل کندنگوڈا کو این سی سی میں فرسٹ بیسٹ کیڈیٹ کے اعزاز سے نوازا گیا۔
سالانہ جلسہ میں 36سالوں تک خدمات انجام دے کر ریٹائرڈ ہونے والے فرسٹ گریڈ اسسٹنٹ محمد شریف سید کی بھی تہنیت کی گئی اسی طرح 30 سال تک تدریسی خدمات انجام دینے والے کنڑا ٹیچر پرکاش سنجیو کیرانی کی بھی عزت افزائی کی گئی۔

اجلاس کا آغاز حسین قاضیا کی تلاوت سے ہوا ،جس کے بعد انجمن کے سکریٹری عبدالواجد کولا نے استقبالیہ کلمات کو پیش کیا ۔اسلامیہ اینگلو اردو ہائی اسکول کے صدر مدرس شبیر دفعدار نے آئی یو ایچ ایس کی سالانہ رپورٹ پیش کی جبکہ جناب محی الدین خطالی نے انجمن بوائز ہائی اسکول کی سالانہ رپورٹ پڑھ کر سنائی۔ ڈائس پر نائب صدر اول عبدالرحمن باطنؔ، جنرل سکریٹری صدیق اسماعیل، ایڈیشنل جنرل سکریٹری محمد اسحاق شاہ بندری، انجمن کے سکریٹری عبدالواجد کولا وغیرہ موجود تھے۔پروگرام کی نطامت اسکول ٹیچر مولوی عبدالحفیظ خان ندوی نے احسن طریقہ پر کی۔