بی ایس ایف جوان تیج بہادر کے نام سے 39فرضی فیس بک اکاؤنٹ، سیکورٹی ایجنسیوں میں مچی ہلچل
02:22PM Sat 11 Feb, 2017
نئی دہلی، 10؍فروری (آئی این ایس انڈیا )مرکزی وزارت داخلہ نے دعویٰ کیاہے کہ بی ایس ایف جوان تیج بہادر کے فیس بک پر تقریبا 3000 دوست ہیں ،جن میں سے 17-18 فیصدتقریباََ 500 پاکستانی تھے۔اس کے بعد سیکورٹی ایجنسیوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ایک سینئر افسر نے میڈیاسے کہاکہ جب تحقیقات شروع ہوئی تو اس کے فیس بک اکاؤنٹ کی بھی جانچ ہوئی، تب یہ حقیقت سامنے آئی ۔ان کے مطابق ،یہ سب دوست اس کے ویڈیو پوسٹ کرنے کے پہلے سے تھے۔بی ایس ایف کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ایک نوجوان جو اتنے پسماندہ علاقے میں تعینات ہو، اس کے اتنے پاکستانی دوست ہوں، یہ حیران کن بات ہے۔سیکورٹی ایجنسیوں کی تشویش زیادہ اس لیے بھی بڑھ گئی ہے ، کیونکہ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد کئی پوسٹ تیج بہادر کے صفحے پر پاکستانیوں نے بھی کئے جن میں ہندوستانی سیکورٹی فورسز کو خوب برا بھلا کہا گیا ۔وزارت کا کہنا ہے کہ کئی ہیش ٹیگ بھی شروع کئے گئے،جو تشویش کا باعث ہیں کیونکہ آخر میں ہر فورس میں ڈسپلن ہونا ضروری ہے۔انٹیلی جنس بیورو نے جو رپورٹ وزارت کو سونپی ہے ، اس کے مطابق تیج بہاد کے تقریبا 40فیس بک اکاونٹس سامنے آئے ہیں ،حالانکہ اس میں سے 39فرضی پائے گئے۔ایک افسر نے بتایاکہ یہ تمام اکاؤنٹ ویڈیو پوسٹ کرنے کے بعد کے ہیں۔اس سلسلہ ابھی تحقیقات چل رہی ہے کہ ان کے سرور کہاں ہیں، کیونکہ کئی اکاؤنٹ میں فرضی سرور بھی سامنے آئے ہیں۔ادھر بی ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی جانچ وہ تسلی سے کر رہی ہے۔افسر نے کہاکہ تیج بہادر نے دعوی کیا تھا کہ کئی جوان اس بات سے اتفاق رکھتے ہیں کہ بی ایس ایف میں کھانا ٹھیک نہیں مل رہا، اسی لیے ہم نے سب کو کہا ہے کہ اگر کوئی سامنے آکر یہ بات کہنا چاہتا ہے تو کہے، لیکن ابھی تک کوئی چشم دید سامنے نہیں آیا ہے۔مرکزی داخلہ سکریٹری راجیو مہرشی نے میڈیا سے کہاکہ تمام فورسز میں ڈسپلن ضروری ہے، ایک نظام ہے، اگر کسی کو شکایت ہے ،تو اس کے سامنے کرے ،نہ کہ سوشل میڈیا کے ذریعہ اپنی بات کہے۔