کرناٹک وقف بورڈ کو فعال بنانے کیلئے نئے قوانین جاری 3651 اوقافی اداروں کا سروے مکمل، پریس کانفرنس میں محمد محسن کااظہار خیال CITY
12:28PM Sun 24 Dec, 2017
بنگلور۔24دسمبر( سالار نیوز)کرناٹک وقف بورڈ کو فعال بنانے، وقف اداروں کی عظمت بڑھانے اور ان کی حفاظت کے لئے حکومت نے وقف بورڈ اور اوقافی اداروں کے لئے اب چند نئے قوانین جاری کئے ہیں۔ جن کے نتیجے میں اوقافی ادراوں کے لئے منتخب یا نامزد کئے جانے والے متولیوں کے لئے لازمی قرار دیا گیا ہے کہ وہ عہدہ سنبھالنے کے وقت حلف لیں گے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو بخوبی نبھائیں گے اور بلا لحاظ مسلک وملت مسلمانوں کی مجموعی ترقی کے لئے اس عہدہ پر رہ کر کام کریں گے۔ آج کرناٹک وقف بورڈ کے دفتر پر طلب کردہ پریس کانفرنس کے دوران محمد محسن سکریٹری اقلیتی بہبود واوقاف نے بتایا کہ حکومت میں تمام منتخب عوامی نمائندوں اور نامزد کئے جانے وائے نمائندوں اور سرکاری ملازمین کے لئے ضروری ہے کہ جب وہ کسی عہدہ کا چارج لیتے ہیں تو اس وقت انہیں حلف دلوایا جاتا ہے کہ وہ قانون اور دستور ہند کی روشنی میں پوری ایمانداری سے اپنی ذمہ داری بحسن خوبی وغیرجانبدارانہ طریقہ سے نبھائیں گے۔ اس قانون کی روشنی میں وقف کے ترمیم شدہ قانون 2013 کالم 97 اور وقف ترمیمی 2013 کالم 101 میں ترمیم کی گئی ہے اور تمام ضلع وقف کمیٹیوں اور ریاستی وقف بورڈ کو ہدایت دی گئی ہے کہ جب وہ کسی اوقافی ادارے کے متولی کی حیثیت سے منتخب یا نامزد قرار دئے جاتے ہیں وہ جمعہ کے دن نماز جمعہ کے وقت کسی مسجد میں عوام سامنے حلف لیں۔ وقف متولیوں اور دیگر اہم عہدوں پر فائز ہونے والے وقف اداروں کے لئے ایک ماڈل حلف نامہ تیار کیا گیا ہے۔ جو اس طرح سے ہے اور انہیں یہ حلف لینا پڑتا ہے کہ میں اللہ سبحانہ تعالی کے نام سے حاضرین کے روبرو صدق دل سے حلف لیتا ہوں کہ وقف قانون میں اس عہدہ کے لئے جو جواز ہیں اس کا اہل ہوں۔ میرا یقین ہے کہ یہ عہدہ اسلامی شریعت کا ایک حصہ ہے۔ وقف کی جائداد کو ایک امانت سمجھ کر ان کا وقار اور عظمت بلند کروں گا۔ اس عہدہ سے نبھانے والی ساری ذمہ داریاں اور اختیارات بنا کسی مسلک وملت اور علاقائی امتیاز کے عدل و انصاف سالمیت، راست بازی، دیانت داری، شفافیت اور غیر جانبداری کے ساتھ مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے نبھاؤں گا۔ اوقافی اداروں میں متولی کی حیثیت سے عہدہ کا چارج لیتے وقت وقف قانون 68 کے تحت نئے متولی کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے کہ وہ نئے متولی کے لئے وہ 21 باتوں کا خاص خیال رکھیں۔ سابقہ متولی ا انچارج افسر سے وہ ادارہ کی جائدادوں کا رجسٹر، لیز رجسٹر، ریکوری رجسٹر، ڈپازٹ، بینک اکاؤنٹ بک، چک بکس، وقف ڈیڈ، اکاؤنٹ رجسٹر، کیش بک، رسید بک، پیمنٹ رجسٹر، جاری کردہ رسید اور واؤچرس کی تفصیل، وقف بورڈ کو ادا کردہ رقم، سالانہ رپورٹ، آمدوخرچ کی تفصیل، ہنڈی، مساجد کے نکاح نامہ کا رجسٹر وغیرہ بھی حاصل کرکے اس کا جائزہ لے۔ ساتھ ہی وقف بورڈ نے قبرستانوں کے تعلق سے بھی ہدایت جاری کی ہے کہ ہر مسلم قبرستان کو اوقافی املاک سمجھا جائے اور اس قبرستان کو کسی مسلک سے نہ جوڑا جائے اور وہاں مسلمانوں کی تدفین کے لئے اجازت دی جائے۔ متولی کی حیثیت سے جو لوگ قبرستانوں کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں انہیں ان باتوں کا خاص خیال رکھنا ہوگا۔ اس وقت ریاست میں مسلم قبرستانوں کے لئے جگہ ملنا دشوار ہو رہا ہے۔ اور وقف بورڈ نے قبرستانوں کی حالت پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔ ایک سال قبل ریاست میں مزید 539 قبرستانوں کی جگہ کے لئے وقف بورڈ کو درخواستیں موصول ہوئی ہیں۔ قبرستانوں کے لئے 900 ایکڑ سے زیادہ کی زمین درکار ہے۔ جن علاقوں میں قبرستان نہیں ہیں وہاں قبرستانوں کے لئے جگہ حاصل کرنے روینیو ڈپارٹمنٹ سے بات کی جا رہی ہے۔ ریاست کے چند ایک علاقوں میں مسلمانوں اور غیر مسلموں کے لئے ایک ہی جگہ قبرستان بنائے گئے ہیں۔ ایسا ایک مسئلہ ہبلی۔ دھاڑواڑ میں نو نگر قبرستان کا اس وقت موجود ہے۔ ان دونوں قبرستانوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے۔ رویونیو ڈرپارٹمنٹ کے ساتھ بات چیت جاری ہے کہ ان دونوں قبرستانوں کی الگ الگ حصار بندی کی جائے۔ محمد محسن نے مزید بتایا کہ وقف اداروں کے ذریعہ مسلمانوں سے یہ گزارش بھی کی جا رہی ہے کہ قبرسانوں میں یکجا قبریں یا قبروں کی حصاربندی کرنے سے گریز کریں۔ اپنے مرحومین کے لئے اگر ایصال ثواب پہنچانا چاہتے ہیں تو پسماندگان کو چاہئے کہ وہ قبرستان کے اندر بجلی کی سہولت، وضوخانہ یا ایسی دیگر عوامی سہولت مہیا کرکے ایصال ثواب پہنچائیں۔
اوقافی اداروں کی گرانٹ
مسٹر محمد محسن نے بتایا کہ اپریل 2017 تا نومبر 2017 کے درمیان ریاست میں جملہ 3651 اوقافی اداروں کا سروے کا کام مکمل ہوا ہے اور 3421 اوقافی املاک کے کھاتہ کو اپ گریڈ کیا گیا ہے۔ اس میعاد میں ریاست میں 283 نئی اوقافی جائدادوں کا رجسٹریشن وقف بورڈ میں ہوا ہے۔ 848 اوقافی اداروں کے لئے نئی منیجنگ کمیٹی بنائی گئی ہے۔ 2220 اوقافی اداروں کے لئے اسکیم آف منیجمنٹ کو منظوری دی گئی ہے۔ اوقافی اداروں کے تحفظ کے لئے 1219 اوقافی اداروں کو 45.86 کروڑ کا گرانٹ مساجد اور قبرستانوں کی مرمت و حصاربندی کے لئے 18.06 کروڑ کا گرانٹ 1081 اوقافی اداروں کو دیا گیا ہے۔ 5؍اداروں کو ایک کروڑ کا خصوصی گرانٹ دیا گیا ہے۔ اس میعاد 435 نئے متولیوں کا تقرر کیا گیا ہے۔ پی پی ایکٹ کے تحت 555 اوقافی جائدادوں پر ناجائز قبضہ ہٹایا گیا ہے۔ 5906 پیش اماموں اور 5706مؤذنوں کے لئے 24.47 کروڑ کی رقم اعزازیہ کے طور پر دی گئی ہے۔ کرناٹک وقف بورڈ کے انتخابات کے لئے قانونی سرگرمیاں جاری ہیں۔ دوچار دنوں میں وقف بورڈ کے انتخابات کے لئے نوٹی فکیشن جاری ہوگا اور نوٹی فکیشن جاری ہونے کے بعد 40 دنوں کے اندر یا فروری کے آخر تک بورڈ کے لئے انتخابات اور پولنگ مکمل ہوجائے گا۔ اس موقع پر وقف بورڈ کے سی ای او سید ذوالفقاراللہ بھی موجود تھے