وزیر تعلیم مہاراشٹر ونودتاؤڑے کاقابل ستائش اقدام، دسویں ناکام 35 ہزار سے زائدطلباء کو دلاسہ
04:02PM Fri 28 Aug, 2015
(مہاراشٹرڈائری۔۔جاوید پاشاہ) دسویں کے امتحان میں کامیابی کو مستقبل کی پہلی کامیابی کی سیڑھی کہا جاتا ہے ، اس میں کامیابی کے بعد طلباء اپنی تعلیم کس شعبہ میں ہو اس کی سمت طئے کرتے ہیں اس کے مطابق منصبوبہ بندی کرتے ہیں اس کے مطابق اپنا لائحہ عمل طئے کرتے ہیں ،لیکن دسویں ناکام طلباء کو سماج میں دیکھنے کا نظریہ بہت ہی الگ ہوتا ہے ،ناکام ہونے پر اس کو ایسا سمجھا جاتا ہے کہ اس میں ناکام ہوگیا تو وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ناکام ہوگیا ،ایسا بالکل نہیں ہے ،بہت طلباء ایسے بھی ہیں جو دسویں کے امتحان میں پہلی بار ناکام ہونے بعدانہوں دسویں کے پہلے ہی امتحان میں کامیاب طلباء سے بہتر نتائج دیئے ہیں ، اس پر ستم ظریفی یہ کہ ریاستی تعلیمی بورڈ جس پر امتحانات منعقد کرانے اور نتائج ظاہر کرنے کی ذمہ داری ہوتی ہے ،دسویں میں ناکام طلباء کو ایک سال ی سزا دیکر ان کا ایک سال رائیگاں کرتا تھا ،اس دوارن بہت سے طلبہ ترک تعلیم کردیتے ،بہت سے سے طلبہ غیر قانونی سرگرمیوں میں لگ جاتے ،دسویں ناکام طلباء کو ان کی ناکامی کی سزا ایک سال ان تعلیمی نقصان نہ ہو اس کے پیش نظر حکومت آندھرا پردیش نے اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان کا طریقہ کار رائج کیا اس کی وجہ سے آندھرامیں بہت سے طلباء کو دلاسہ ملا ان کا ایک سال نقصان سے بچ گیا ، مہاراشٹر میں بھی تعلیمی حلقوں سے جڑی ہوئی تنظیمیں اس کا بہت دنوں سے مطالبہ کرتے رہے کہ دسویں میں ناکام طلباء کو ان کی ناکامی کی سزاایک سال کی نہ دی جائے ،آندھراپردیش کی طرح اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان کا طریقہ کار یہاں پر بھی رائج کیا جائے ،لیکن حکومت میں بیٹھے ہوئے اسکولی تعلیم کے وزیر اور محکمہ تعلیمات کے افسران ،ریاستی تعلیمی بورڈ نے کبھی اس کو سنجیدگی سے نہیں لیا ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ بناکر ٹال مٹول سے کام لے تے رہے ،جس کی سزا ہمارے معصوم طلباء بھگتے رہے ،لیکن مہاراشٹر میں اقتدار کی تبدیلی کی بعد اس میں بھی تبدیلی آئی ، اسکولی تعلیم کے وزیر ونود تاؤڑے نے اعلان کیا کے دسویں میں ناکام طلباء کا جولائی ،اگسٹ میں اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان ہونگے ،اور طلباء کو دسویں کے امتحان میں ناکامی کی سزا ان کا ایک تعلیمی سال رائیگاں کرکے نہیں دیا جاسکتا ، ان کے مصمم ارادے کے سامنے محکمہ تعلیمات کے افسران اور ریاستی تعلیمی بورڈ کوئی عذر پیش نہیں کرسکے گذشتہ میں یہ کئی بہانے بناتے کے ہمارے محکمہ میں عملہ کی کمی ہے شرکت کرنے والے طلباء کی تعداد بہت زیادہ ہے ،اس لئے اڈوانسڈسپلیمنٹری امتحان منعقد کروانے میں دشواری ہوگی، ان کی باتوں میں گذشتہ حکومتوں کے وزراء بھی آجاتے ،لیکن مہاراشٹر کے اسکولی تعلیم کے وزیر کے فیصلہ کے سامنے انہوں نے اپنا سر جھکادیا ، اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحانات کامیابی کے ساتھ ریاست کے 09ڈیویژنوں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے ، اس امتحان میں ریاست کے 01لاکھ39ہزار 329طلباء نے شرکت کی ،اس میں سے 35ہزار343 طلباء کامیاب ہوئے ،اس کے علاوہ دومضامین میں ناکام طلباء کو ATKTکی سہولت ملی ،اس لحاظ سے جملہ 57ہزار517طلباء امسال گیارہویں جماعت میں اسی سال داخلہ لینے کے اہل قراردیئے گئے ، اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان کے نتائج کا فیصد 25.37فیصد رہا ،اس کے پیش نظر اسکولی تعلیم کے محکمہ نے ان ناکام طلبہ مستقبل میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کیا ہے حکومت کے اس فیصلہ سے ان طلباء کا ایک سال رائیگاں جانے سے بچ گیا ،حکومت کے اس اقدام کی ستائش کی جانی چاہیے ،اسکے علاوہ دسویں کے امتحان کے نتائج کا اعلان آئندہ سال مئی کے مہینہ میں کیا جائیگا ،عام طور پر یہ نتائج جون کے مہینہ کے آخری دنوں میں جاری کئے جاتے ہیں ،اور جون میں ہی کالج میں داخلوں کا آغاز ہوتا ہے ،مئی میں نتائج کے اعلان کامقصد اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان کو جلد منعقد کروانا ہے تاکہ جلد اس کے نتائج کا اعلان کرکے طلباء کو کالج میں داخلہ کی راہ کو ہموار کیا جاسکے ، اسکولی تعلیم کے کابینی وزیر ونود تاؤڑے کا یہ فیصلہ درست ہے ،اب بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ دسویں کے امتحان مین اتنی بڑی تعداد میں طلباء ناکام کیوں ہوتے ہیں یہ سوال اپنی جگہ پر قائم ہے،جماعت ہفتم اور جماعت نہم میں تعلیم حاصل کرنے والے طلباء، ریاضی ، سائنس،اور انگریزی کے مضامین میں کمزور ہوتے ہیں،ان مضامین کے اساتذہ طلباء کو اس کی بہتر ڈھنگ سے محنت نہیں کراتے ، اس ان مضامین میں طلبہ کی عدم دلچسپی ہوتی ہے کیونکہ ان کو یہ مضامین مشکل نظر آتے ہیں ، سرپرست بھی اس بھرم میں رہتے ہیں کہ ان کا بچہ اسکول کو پابندی سے جارہا ہے بس اس کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ،ان کا اثر ان طلبہ کے دسویں کے نتیجہ پر ہوتا ہے ، وہ زیادہ تر طلباء ان مضامین میں ناکام ہوجاتے ہیں، اس لیئے ماہرین تعلیمات کا ریاستی حکومت سے اصرار ہے کہ وہ نہم جماعت کا امتحان فروری میں منعقد کرواکر دسویں جماعت کی تدریس جلدشروع کرے تاکہ جلد از جلد دسویں کے نصاب کی تکمیل ہو اور طلباء کو پڑھائی کے لئے زیادہ سے زیادہ وقت میسر ہو ، ،اور اساتذہ کو بھی اس دوران کمزور طلبہ پر محنت کرنے کے لئے زیادہ وقت ملے، ،اگر یہ کوشش کامیاب ہوتی ہے تو دسویں کے امتحان میں ناکام طلبہ کا فیصد بہت حد تک کم ہوجائیگا ، اسکولی تعلیم کے وزیر ونود تاؤڑے واقعی تعریف کے قابل ہیں جنہوں نے اڈوانسڈ سپلیمنٹری امتحان منعقد کرواکر ایک کامیاب پہل کی ہے جس سے ریاست کے 39ہزار طلبہ کو دلاسہ ملا ہے ،جن کا قیمتی ایک سال رائیگاں جانے سے بچ گیا ۔