معروف اخبار نویس ، شاعر اور سابق فوجی وقار انبالوی۔۔۔ تحریر : ابو الحسن علی بھٹکلی

09:01PM Sun 25 Jun, 2017

جون 26 : آج معروف اخبار نویس ، شاعر اور سابق فوجی وقار انبالوی کی برسی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقار انبالوی ۔ حوالدار ناظم علی پاکستان کے بزرگ اخبار نویس جناب وقار انبالوی کا اصل نام ناظم علی تھا‘ فوجی حلقوں میں حوالدار ناظم علی کے نام سے جانے جاتے تھے۔ آپ22 جون 1896ء کوچنار تھل ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے ۔ پہلی عالمگیر جنگ میں دس ریکروٹ بھرتی کرانے پر بونس کے طور انہیں براہِ راست نائیک بھرتی کرلیا گیا۔ ناگ پور میں مقیم پنجاب رجمنٹ میں ان کی پہلی تعیناتی ہوئی۔ وہیں حوالدار ہوئے‘ بعد میں ان کے کمانڈر نے ان کا تبادلہ فرنٹیئر پولیس میں کرکے کوئٹہ بھیج دیا۔بعد ازاں وہ نوکری چھوڑ کر لاہور میں روزنامہ زمیندار کے سٹاف میں شامل ہوگئے۔ دوسری جنگِ عظیم میں ایک بار پھر وقار انبالوی کو میدانِ جنگ میں اترنا پڑا۔ کئی اخبار نویسوں کو بطورِ آبزرور(Observer) مختلف ممالک میں بھیجا گیا۔ وقارانبالوی کو مصر بھیجا گیا تھا جہاں وہ مصری ریڈیو سے تقریر یں نشر کرتے رہے۔ دوسری بار ریٹائرمنٹ پر نوائے وقت سے وابستہ ہوئے۔ ’’سرے راہے‘‘ کے عنوان سے مقبول سلسلہ شروع کیا۔ قطعات بھی لکھے۔ زندگی کی آخری سانس تک چاق چوبند رہے۔ وقار انبالوی 1939 سے1946 تک روزنامہ احسان لاہور کے ایڈیٹر رہے۔ روزنامہ سفینہ لاہور کے مدیر1947 سے1949 تک جبکہ روزنامہ وفاق کے ایڈیٹر 1952 سے1956ء تک رہے۔ نوائے وقت میں قطعہ نگاری اور فکاہیہ کالم نگاری1956 سے1988 تک جاری رکھی۔ صدارتی تمغۂ امتیاز کا اعزاز1984 میں ملا۔ ان کی طبع شدہ کتب میں آہنگ رزم‘زبانِ حال‘ بیانِ حال شامل ہیں جو مختلف اخبارات میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ 26 جون1988 کو وفات پائی اور سجووال شرقیہ ضلع شیخوپورہ میں تدفین ہوئی۔

بشکریہ: آئی ایس پی آر ہلال میگزین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایثارِ حُسن (وقار انبالوی )

سنہ 1931 میں فرانس کے ایک مشہور مقتدر رکن حکومت قوت بینائی سے محروم ہو گئے۔۔۔اُنہوں نے اپنی منگیتر سے کہا۔کہ میں اب اندھا ہو گیا ہوں اور اس قابل نہیں رہا کہ محبت کی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ ہو سکوں۔۔لیکن غیرت مند منگیتر نے جواب دیا۔کہ یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا ۔۔میں اپنی محبت میں‌ثابت قدم ہوں۔۔۔چنانچہ دونوں کی شادی ہو گئی۔۔

مجبورِ مشیّت

بہت گہرا ہے گرچہ دل پر الفت کا اثر پیاری مگر قدرت نے مجھ سے چھین لی حسن بصر پیاری

مری دنیائے عشرت پر اندھیرا چھا گیا یکسر اب ان آنکھوں سے کچھ آتا نہیں مجھکو نظر پیاری

میں اب بھٹکونگا مستقبل کی اُن تاریک راہوں میں جہاں کام آ نہیں ‌سکتا ہے کوئی راہبر پیاری

محبت کا تری معترف ہوں ۔ کیا کروں لیکن؟ نبھانے کی کوئی صورت نہیں آتی نظر پیاری

بن آئے کیا ۔ مشیت ہی جو محرومِ نظر کر دے ! بھُلا دے اپنے دل سے مجھکو قصہ مختصر کر دے

مُختارِ محبت

یہ مانا ! آدمی بے شک ہے مجبورِ مشیت بھی مگر تم ساتھ بینائی کے کھو بیٹھے بصیرت بھی

تعجب ہے ہوئے جاتے ہو تم مایُوس کیوں آخر؟ بھُلا دی تم نے اپنے دل سے کیا میری محبت بھی

محبت امتیازِ کور و دیدہ ور سے بالا ہے سمجھتے ہو مجھے تم۔ آہ ! کیا ننگِ محبت بھی

رہونگی میں شریکِ حال پیارے رنج و راحت میں مصیبت آپڑے تو میں اٹھاؤنگی مصیبت بھی

تمہاری شکل میرے واسطے جیسی ہے اچھی ہے! تم اندھے ہو تو کیا غم ہے محبت خود بھی اندھی ہے