جولائی 31: آج اردو ادب کے معروف افسانہ نگار ، ڈرامہ نگار اور ناول نگار منشی پریم چند کی سالگرہ ہے
03:07PM Sun 30 Jul, 2017
از: ابوالحسن علی بھٹکلی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منشی پریم چند کا ابتدائی سوانحی خاکہ
منشی پریم چند کا اصل نام دھنپت رائے تھا۔ وہ ۳۱ جولائی ۱۸۸۰ء کو ضلع وار انسی مرٹھوا کے ’’لمبی‘‘ نامی گاؤں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد نے آپ کا نام دھنپت رائے رکھا جبکہ آپ کے چچا نے آپ کا نام پریم چند رکھا۔ ۱۸۸۵ء میں لال پور کے مولوی صاحب کے پاس اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۸۹۵ء میں گورکھپور سے مڈل کا امتحان پاس کیا۔ بعد میں معلم کی حیثیت سے ملازمت اختیار کی اور ۱۸ روپے ماہوار تنخواہ لیا کرتے تھے۔ بعد ازاں ۱۸۹۹ء میں بنارس میں اسسٹنٹ ٹیچر کی نوکری مل گئی۔ ۱۹۰۰ء میں بیرائچ کے گورنمنٹ سکول میں تقرر ہوا اور ہر پرتاب گڑھ کے ضلع میں تبادلہ ہوا۔ الہ آباد میں جا کر آپ نے پہلی مرتبہ سنجیدگی سے لکھنا شروع کیا۔
۱۹۰۴ء میں جونیئر انگلش ٹیچر کا امتحان پاس کیا اور اسی سال الہ آباد یونیورسٹی سے اردو ہندی کا خصوصی امتحان پاس کیا۔ ۱۹۰۶ء میں آپ کی دوسری شادی ایک بیوہ ’’شیورانی دیوی‘‘ سے ہوئی ۔ ۱۹۰۹ء میں ترقی پا کر سب انسپکٹر آف سکولز ہو گئے۔ ۱۹۱۹ء میں بی۔اے کیا۔ فروری ۱۹۲۱ء میں عدم تعاون کی تحریک کے سلسلے میں ملازمت سے علیحدہ ہوئے۔ ۱۰؍اپریل ۱۹۳۶ء کو لکھنؤ میں پہلی مرتبہ انجمن ترقی پسند مصنفین کی صدارت کی۔ ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۳۶ء کو ۵۶ سال کی عمر میں وفات پائی۔
منشی پریم چند کی ابتدائی ادبی زندگی
آپ کا پہلا ناول ’’اسرارِ مابعد‘‘ رسالہ آوازِ خلق میں ۱۸؍ اکتوبر ۱۹۰۳ء کو شائع ہوا۔ ۱۹۰۷ء میں دوسرا ناول ’’کیش نا‘‘ کے نام لکھا جواب موجود نہیں۔ اس کے بعد ۵ افسانوں کا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے ۱۹۰۸ء میں منظر عام پر آیا۔ جس میں آپ نے آزادی ، حریت، غلامی اور بغاوت کے موضوعات کو چھیڑا۔ حکومتِ برطانیہ نے اس پر پابندی عائد کر دی۔ چنانچہ گورکھ پور کی حکومت نے اس کی تمام نقول حاصل کر کے جلا دیں اور آئندہ کے لیے سخت پابندی عائد کر دی۔ پریم چند نے ان افسانوں میں ’’نواب رائے‘‘ کے قلمی نام سے لکھا۔ بعد میں پریم چند کے نام سے لکھنا شروع کیا۔
منشی پریم چند کا افسانہ نگار ی میں مقام
اس بحث میں پڑے بغیر کہ اردو کا پہلا افسانہ نگار کون ہے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ اردو کا پہلا اہم اور بڑا افسانہ نگار پریم چند ہے۔ اردو ادب میں یہ ایک ایسا نام ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ہندوستان کے دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح آپ نے پیار ، محبت، عشق، ہیرو، ہیروئن جیسے سطحی موضوعات کو اپنے اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا بلکہ حقیقت پسندی کی طرف اپنے ذہن و قلم کا رُخ جمایا۔ آپ کے قلم سے ہندوستان کی مٹی کی خوشبو آتی ہے۔ آپ کی افسانہ نگاری کو چار ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔
منشی پریم چند کی افسانہ نگاری کے ادوار
ڈاکٹر مسعود حسین خان نے اپنے مضمون ’’پریم چند کی افسانہ نگاری کے دور ‘‘ میں ان کی افسانہ نگاری کے چار ادوار بتائے ہیں۔
پہلا دور : ۱۹۰۳ء تا ۱۹۰۹ء تک ابتدائی کوشش
دوسرا دور : ۱۹۰۹ء تا۱۹۲۰ء تک تاریخی اور اصلاحی افسانے
تیسرا دور : ۱۹۲۰ء تا۱۹۳۲ء تک اصلاحی اور سیاسی افسانے
چوتھادور : ۱۹۳۲ء تا۱۹۳۶ء تک سیاسی اور فکری افسانے
پریم چند کی افسانہ نگاری کا آغاز بیسویں صدی سے ہو جاتا ہے۔ ۱۹ ویں صدی کی کالونیاں ۲۰ویں صدی میں کئی نئے ادیبوں سے آشنا ہو گئی تھیں۔ اردو شاعری میں اقبال نے ایک نئی جہت اور احتجاجی لہر کا آغاز کیا۔ ۱۹ویں صدی کا معذرت خواہانہ لہجہ آہستہ آہستہ احتجاج میں بدل گیا۔ جنگِ عظیم اول ۱۹۱۴ء اور انقلاب روس ۱۹۱۷ء نے سامراجی قوتوں کے رعب میں رخنہ ڈال دیا تھا۔ پریم چند بھی اسی نیم سیاسی دور سے متاثر ہوئے۔ ’’سوزِ وطن‘‘ اسی دور کا اظہار ہے۔
ادب کے ذریعے انقلاب اور معاشرے میں تبدیلی لانے کا تصور پریم چند کی ابتدائی کہانیوں ہی سے سامنے آ گیا تھا۔ اس حوالے سے وہ مقصدی ادب کی ایسی تحریک کا تسلسل تھے جو ۱۹۵۷ء کے بعد سر سید اور ان کے رفقاء کے ہاتھوں شروع ہوئی تھی۔ آپ کی ابتدائی کہانیوں میں حقیقت نگاری کا پہلو نمایاں رہاہے۔ پریم چند اس نکتہ سے واقف تھے کہ حقیقت نگاری کا محدود تصور فن کو تباہ کر دیتا ہے۔
بقول شمیم حنفی: ’’پریم چند کہانی کی اوپری سطح پر ہی حقیقت کا التباس قائم کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے نیچے وہ آزادی چاہتے ہیں۔ ‘‘
بقول سید وقار عظیم: ’’وہ اپنی قوم اور ملک کی ہر اس چیز کو پرستانہ نظروں سے دیکھتے ہیں جو اسے دوسری قوموں سے ممتاز کرتی ہے۔ ‘‘
موضوعاتی اعتبار سے تقسیم
موضوعاتی اعتبار سے منشی پریم چند کے افسانوں کو تین بڑے حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
۱۔جب ان پرداستانوں کا اثر تھا۔
۲۔جب وہ حب الوطنی کے جذبے سے سرشار تھے۔
۳۔جب انھوں نے انسانی نفسیات کا مطالعہ طبقاتی جبر کے
حوالے سے کیا۔
پریم چند کے افسانوں میں رومانیت اور حقیقت نگاری کا امتزاج
زندگی کے خارجی معاملات اور معاشرے کی صحیح عکاسی حقیقت نگاری کہلاتی ہے جبکہ رومانیت میں زندگی کے باطنی پہلو اور وجدانی معاملات کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے رومانیت میں تخیل کی آمیزش ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر محمد عالم خان کے مطابق ’’رومانوی ادیب زندگی کی عکاسی ایک مصور کی حیثیت سے کرتاہے جبکہ حقیقت پسند، زندگی کو فوٹو گرافرکی آنکھ سے دیکھتا ہے۔ ‘‘
پریم چند کے ہاں ہمیں دونوں رویے ملتے ہیں۔ ایک طرف سماج کی سچی اور کھری تصویریں جبکہ دوسری طرف تخیل کی رنگ آمیزی ملتی ہے۔ ڈاکٹر محمد عالم خان کی رائے کے مطابق ’’پریم چند کے ہاں رومانیت کا تصور ایک سماجی پہلو لیے ہوئے ہے اور وہ زندگی کی تلخ حقیقتوں سے انحراف نہیں کرتے‘‘۔
پریم چند بنیادی طورپر طبقاتی جبر کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ فرد کی آزادی کو بھی اہم سمجھتے ہیں۔ ان کی رومانیت پر وطن پرستی کا رنگ غالب ہے جس کا اظہار ان کی ابتدائی کہانیوں سے ہوتا ہے۔ پریم چند محبت کا تصور رومانوی اثرات کے ساتھ ساتھ تلخ حقائق کا اظہار کرنے سے کتراتے ہیں۔ کیونکہ ان کا تصور محبت سماجی روایت سے منسلک ہے۔ جس میں محبت کے کئی رنگ موجود ہیں۔ جس میں حب الوطنی، کچلے ہوئے طبقات سے ہمدردی، مادی حقائق کی اہمیت کو تسلیم کرنا وغیرہ۔
بقول ڈاکٹر محمد عالم خان: ’’پریم چند خیال کو مادے پر اہمیت دیتے ہیں اور یہی وہ بنیادی فرق ہے جو ان کو اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں سے جدا کرتا ہے‘‘۔
ماضی پسندی، الم پسندی اور اضطراب و جستجو کو پریم چند کی رومانیت کے بنیادی عناصر قرار دیا جا سکتاہے۔ دوسرے افسانہ نگاروں کی طرح وہ آنکھ سے چیزوں کو نہیں دیکھتے بلکہ سماجی رویوں کے حوالے سے پہچان کراتے ہیں۔ ان کے یہاں تخیل کی بلندی ضروری ہے مگر ان کے پاؤں اپنے سماج اور زمین سے اوپر نہیں اٹھتے۔ آپ اپنا ایک نظریہ حیات رکھتے ہیں۔ وہ ماضی کے تسلسل میں حال کی پہچان کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے یہاں انقلاب اوررومان کا ایک ایسا امتزاج ملتا ہے جس کی بنیاد مثالیت، انسان دوستی اور معاشرتی اصلاح کے ساتھ ساتھ سماجی رویوں پر بھی ہے۔
پریم چند کے کردار
پریم چند کے کردار اکثر معاشرے کے ستائے ہوئے عام لوگ ہیں۔ انھوں نے ان ستائے ہوئے اور کچلے ہوئے مظلوم لوگوں خصوصاً دیہاتوں میں جاگیرداروں اور مہاجنوں کے ظلم کے مارے ہوئے لوگوں کو زبان دی۔ ان کے اندر آزادی کی تڑپ اور جدوجہد کا جذبہ پیدا کیا اور ایک نئی دنیا تعمیر کی اور طبقات سے آزاد معاشرے کا وجود ان کا بنیادی نظریہ تھا۔ وہ مثالیت اور حقیقت کے امتزاج سے اپنی افسانوی دنیا کی تخلیق کرتے ہیں۔
بقول ڈاکٹر محمد حسین: ’’انھوں نے ایسے کردار بھی ڈھالے ہیں جو فوق البشر طاقت کے ساتھ زندگی کی ساری راحتوں پر لات مارکر کسانوں اور مظلوموں کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔طعن و تشنیع سے بے پروا ہو کر سماجی خرابیوں سے لڑتے ہیں اور کسی قسم کی ذہنی اور جسمانی ضرب ان کے ماتھے پرشکن نہیں لاسکتی۔
پریم چند کااسلوب
آپ نے اپنے افسانوں میں سادہ زبان استعمال کی۔ آپ نے سنسکرت کے الفاظ کا کم استعمال کیا۔ آپ نے اکثر کرداروں کے مکالمے ان کی معاشی اور معاشرتی حیثیت کے مطابق لکھے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان کے لیے مکالمے ان کے لہجے اور تلفظ میں تخلیق کیے۔ جو آپ کے زبردست مشاہدے کا غماز ہے۔ آپ نے ہندوستان کے لوگوں کو حقیقت پسندی سے روشناس کرایا۔ اُس وقت جب ہندوستان میں مذہبی داستانیں اور مافوق الفطرت موضوعات عروج پر تھے، آپ نے بین الاقوامی، ملکی ، علاقائی، معاشرتی اور معاشی مسائل پر قلم اٹھایا۔ آپ نے ہندوستان کے دیہی موضوعات سے ساتھ ساتھ متوسط شہری کی زندگی کے مسائل پر بھی لکھا۔
پریم چند کے منتخب افسانوں پر تبصرہ
( ۱ ) کفن
یہ پریم چند ہی کا نہیں بلکہ اردو ادب کا بھی بہترین افسانہ ہے۔ یہ دو باپ بیٹوں کی کہانی ہے۔ جس میں جوان بہو زچگی کے عمل میں مر جاتی ہے۔ لاش کے لیے کفن نہیں ہوتا۔ دونوں باپ بیٹے کام چور ہوتے ہیں۔ کوئی ان کی مدد کے لیے تیار نہیں ہوتا مگر آخر کار انسانی ہمدردی کے تحت کفن کے لیے پیسے جمع ہو جاتے ہیں۔ دونوں باپ بیٹا کفن لینے نکلتے ہیں اور شراب خانے جا کر سارے پیسے خرچ کر دیتے ہیں۔
بقول ڈاکٹر محمد حسین ’’کفن میں پہلی بار پریم چند سماج کی تھوڑی بہت اصلاح کی جگہ اس کے مسلمات پر براہ راست حملہ آور ہوتے ہیں۔۔۔ آخر مردے کے کفن پر پیسہ ضائع کرنے کی بجائے مظلوم انسانوں کو جن کی زندگی جانوروں سے بدتر ہے۔ اس رقم سے دو لمحے بشاط اور خوشی میسر آ جائے تو کیا کفن دینے سے کہیں بہتر کارِ ثواب نہیں ہے‘‘۔
کفن حقیقت نگاری کے ساتھ ساتھ فنی جمالیات کی ایک عمدہ مثال ہے۔ یہ افسانہ ان کے اس نقطۂ نظر کا ترجمان ہے جو انھوں نے اپنے ایک خط میں بیان کیا۔ وہ لکھتے ہیں ’’محض واقعات کے اظہار کے لیے میں کہانیاں نہیں لکھتا۔ میں اس میں فلسفیانہ یا جذباتی حقیقت کا اظہار کرنا چاہتاہوں جب تک اس قسم کی بنیاد نہیں ملتی میرا قلم نہیں اٹھتا‘‘۔ ۱۹۳۰ء
انھوں نے کفن میں جس جرأت کے ساتھ انسانی فطرت کو بے نقاب کیا ہے وہ ان کے فن کا کمال بھی ہے اور نقطۂ نظر کااظہار بھی۔ آپ نے ’’کفن‘‘ کے بنیادی کرداروں ’’گھیسو‘‘ اور ’’مادھو‘‘ کے باطن میں گھس کر فطرت کو بے نقاب کیا۔
بقول ڈاکٹر گوپی چند نارنگ: ’’ پوری کہانی کی جان حالات کی ستم ظریقی ہے۔ جس نے انسان کو انسان نہیں رہنے دیا‘‘۔
طبقاتی نظام میں محکوم اور مجبور لوگوں کا استحصال ان کے اندر انسانی احساسات کو ختم کر دیتاہے اور ان کو حیوانی سطح پر رہنے پر مجبور کر دیتاہے۔ ’’کفن‘‘ کی یہ طنزیہ صورت حال اس درد ناک منظر سے شروع ہوتی ہے کہ جھونپڑے کے اندر جواں سال بہو دردِ زہ سے تڑپ رہی ہوتی ہے اور باہر گھیسو اور مادھوبجھے ہوئے الاؤ کے گرد بیٹھے خاموشی سے اس کے مرنے کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں۔ پریم چند کا کمال یہ ہے کہ وہ کم لفظوں میں بڑی حقیقت کو کہانی کا روپ دیتے ہیں۔
بنیادی طور پر کفن کی کہانی تین حصوں پر مشتمل ہے۔ جس میں پہلے حصے میں کرداروں کا تعارف، دوسرا حصہ بہو کی موت اور اثرات ، تیسرا حصہ غربت و افلا س کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بے حسی کا اظہار۔
پریم چند نے اردو زبان و ادب اور اس کے سرمایہ فکرکو ایک نئی جہت سے آشنا کیا۔ انھوں نے زندگی اور کائنات کو فکر و نظر کے مروجہ زادیوں سے ہٹ کر ایک نئی سطح سے دیکھا۔ ایک ایسی بلند سطح سے جہاں سے زندگی اور انسانیت کا سمندر کروٹیں لیتا اور ٹھاٹھیں مارتا نظر آتا تھا۔ وہ پہلے ادیب تھے جن کی نظر حیات انسانیت کے انبوہ میں ان مجبور اور بے بس انسانوں تک پہنچی جو قدرت کے دوسرے بے زبان مظاہر کی طرح صدیوں سے گونگے اور بے زبان تھے۔ پریم چند نے انھیں زبان دی۔
نوٹ: پریم چند کے دو افسانے ’’کفن اور سبحان بھگت‘‘ پریم چند خود یکجا نہ کر سکے جو بعد میں جعلی ایڈیشن کے ناموں سے شائع ہوئے۔
( ۲ ) حج اکبر
پریم چند طبعاً ایک غیر متعصب مصنف تھے۔ اس میں شک نہیں کہ زیادہ تر افسانوں میں ہندو کلچر پیش کیا مگر جہاں جہاں انھوں نے مسلم کلچر کے پس منظر میں کہانیاں تحریر کیں۔ ان میں ان کے مشاہدے کی گہرائی کمال پر ہے۔ جس کی عمدہ مثال افسانہ ’’ حج اکبر‘‘ ہے۔
ڈاکٹر قمر رئیس کی تحقیق کے مطابق ’’یہ افسانہ ۱۹۱۷ء میں لکھا گیا۔ یہ ایک اصلاحی کہانی ہے لیکن براہ راست مقصدیت پریم چند کی پسند نہیں۔ وہ بنیادی طور فنی جمالیات کے قائل تھے۔ اس افسانے میں بھی ان کی مقصدیت ایک فنی پہلو کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرت پیش کرتی ہے‘‘۔ اس افسانے کی کہانی یوں ہے کہ :
’’منشی صابر حسین نچلے طبقے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا ایک ہی بیٹا نصیر ہے۔ جس کے لیے انھوں نے ایک دایہ عباسی ملازمہ رکھی ہے۔ صابر حسین کی بیوی عباسی کو مالی بوجھ سمجھتی ہے اور اسے اکثر تنگ کرتی ہے۔ ایک روز دایہ عباسی ملازمت چھوڑ کر چلی جاتی ہے۔ نصیر جو ملازمہ دایہ عباسی سے بہت مانوس ہوتا ہے یہ صدمہ برداشت نہیں کر پاتا اور بیمار ہو جاتا ہے۔ اتفاقاً اس کی ملاقات بازار میں صابر حسین سے ہو جاتی ہے۔ وہ اسے بیٹے کی بیماری کاحال سناتا ہے۔ عباسی بے قرار ہو کر اس کے ساتھ چلی جاتی ہے۔نصیر کا چہرہ اسے دیکھ کر بشاش ہو جاتا ہے۔ وہ صابر حسین کو بتاتی ہے کہ وہ حج پہ جا رہی ہے۔ مگر صابر حسین بچے کی حالت بیان کر کے اسے روک لیتا ہے۔ بعد میں جب عباسی اس سے کہتی ہے کہ تم نے مجھے حج پر جانے نہیں دیا تو صابر حسین کہتا ہے کہ تم نے میرے نصیر کو بچا کر حج اکبر کر لیا ہے۔ ‘‘
بظاہر یہ ایک سیدھی سادی کہانی ہے۔ مگر اس میں بڑی گہری معنویت اور مقصدیت چھپی ہوئی ہے۔ معاشرے میں در حقیقت اس وقت عزت کا معیار دولت ظاہری ،مال و متاع بن چکا ہے۔ تقویٰ، پرہیز گاری، صلہ رحمی، ہمدردی کو کوئی کسی مول نہیں پوچھتا ۔پریم چند نے اس تحریر سے ثابت کیا کہ کسی شخص کے مقرب ہونے کا انحصار اس بات پر نہیں کہ وہ مذہب سے کتنا لگاؤ رکھتا ہے بلکہ اس بات پر ہے کہ اس کا وجود معاشرے کے لیے کتنا سود مند ہے اور یہی نیکی کا اصل معیار ہے۔
نوٹ: حجِ اکبر منشی پریم چند کے افسانوں کے مجموعے ’’پریم بیتی‘‘ سے لیا گیا ہے۔ جس میں ۳۱ افسانے ہیں اور پہلی مرتبہ اگست ۱۹۲۰ء میں شائع ہوئے۔
پریم چند سنین کے آئینہ میں
۱۸۸۰ء : پیدائش ، اصل نام دھنپت رائے، چچا نے نام رکھا
پریم چند، ابتدائی قلمی نام نواب رائے، دوسرا قلمی نام پریم چند۔
۱۸۸۵ء : مولوی صاحب سے اردو، فارسی پڑھنا شروع کی۔
۱۸۹۳ء : چھٹی جماعت میں داخل ہوئے۔
۱۸۹۷ء : میٹرک کیا۔
۱۸۹۹ء : پرائمری سکول میں نائب معلم مقرر ہوئے۔
۱۹۰۰ء : لکھنا شروع کیا۔
۱۹۰۲ء : پہلا ناول اسرارِ مابعد۔
۱۹۰۴ء : دوسرا ناول کشانا، جونیئر انگلش ٹیچر کا امتحان پاس کیا،
ہیڈ ماسٹر بنے۔
۱۹۰۷ء : پہلی کہانی’’انمول رتن‘‘ لکھی۔
۱۹۰۸ء : سب ڈپٹی انسپکٹر مقرر ہوئے۔
۱۹۰۹ء : افسانوں کا دوسرا دور شروع ہوا، تاریخی اور اصلاحی
کہانیاں لکھیں۔
۱۹۲۰ء : تیسرا دور شروع ہوا، اصلاحی اور سیاسی کہانیاں۔
۱۹۲۱ء : ملازمت چھوڑدی۔
۱۹۲۲ء : رسالہ ’’مریادا‘‘ کی ادارت سنبھالی۔
۱۹۲۵ء : گنگاہتک مالا میں ملازمت کی۔
۱۹۲۸ء : ہندی رسالہ ’’مادھوری‘‘ کی ادارت کی۔
۱۹۳۰ء : اپنا پرچہ ’’ ھنس‘‘ نکالا۔
۱۹۳۲ء : چوتھا دور ، سیاسی اور فکری۔
۱۹۳۶ء : اکتوبر میں انتقال۔
افسانوں کے مجموعے
( ۱ )سوزِوطن(۱۹۰۸ء)،(۲)پریم دلچسپی اول (۱۹۱۵ء)، (۳)پریم دلچسپی دوم ( ۱۹۱۸ء)،(۴) پریم بتیسی (۱۹۲۰ء)، (۵) خاکِ پروانہ(۱۹۲۰ء)،(۶) خواب وخیال ( ۱۹۲۸ء)، (۷) فردوسِ خیال(۱۹۲۹ء)،(۸)پریم چالیسی(۱۹۳۰ء)، (۹) آخر تحفہ(۱۹۳۴ء)،(۱۰) زادِ راہ(۱۹۳۶ء ) ،
کتابیات
۱۔سہیل بخاری، ڈاکٹر’’افسانے کی غایت‘‘، اقسام اور ابتداء‘‘، صحیفہ سہ ماہی، جون، جولائی، اگست تیسرا سال، پہلا شمارہ، مجلس ترقی ادب لاہور، ص : نمبر۸۶
۲۔پریم چند، ’’مضامین پریم چند‘‘، مرتبہ: قمر رئیس ۱۹۶۰ء، یونیورسٹی پبلشرز مسلم یونیورسٹی علی گڑھ ، ص: نمبر ۱۷۹
۳۔سہیل بخاری ، ڈاکٹر ’’افسانے کی غایت، اقسام اور ابتداء‘‘، صحیفہ سہ ماہی، جون، جولائی، اگست تیسرا سال، پہلا شمارہ، مجلس ترقی ادب لاہور، ص : نمبر ۸۶
۴۔مسعود رضا خاکی، ڈاکٹر’’اردو افسانے کا ارتقاء۔ ۱۹۸۷ء‘‘ ، مکتبۂ خیال، اسلام پورہ، لاہور، ص: نمبر۱۱۲
۵۔پیارے لال شاکر میرٹھی، ’’مبادیات افسانہ نگاری‘‘، ادبی دنیا، فروری ۱۹۴۰ء رسالہ ادبی دنیا ، لاہور جلد:۱۰ نمبر ۲، ص: نمبر ۴۴
۶۔مسعود رضا خاکی، ’’اردو افسانے کاارتقاء ۱۹۸۷ء‘‘ مکتبۂ خیال اسلام پورہ لاہور، ص: نمبر ۱۱۲
۷۔عبادت بریلوی ، ڈاکٹر ’’تنقیدی زاویے۔۱۹۵۱ء‘‘، مکتبۂ اردو ، لاہور، ص: نمبر ۲۳۵
*پریم چند، فکر و فن۔ ڈاکٹر قمر رئیس
*پریم چند کا تنقیدی مطالعہ۔ مرتبہ مشرف احمد
*اردو افسانے کا ارتقاء۔ ڈاکٹر مسعود رضا خاکی
*اردو افسانے میں رومانی رجحانات۔ ڈاکٹر محمد عالم خان
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک افسانہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نجات
(منشی پریم چند)
دکھی چمار دروازے پر جھاڑ رہا تھااور اس کی بیوی جھُریا گھر کو لیپ رہی تھی۔دونوں اپنے اپنے کام سے فراغت پا چکے تو چمارِن نے کہا۔
’’تو جا کر پنڈت با با سے کہہ آؤ ۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے جائیں ‘‘۔دُکھی : ہاں جاتا ہوں لیکن یہ تو سوچ کہ بیٹھیں گے کس چیز پر؟‘‘
جُھریا: کہیں سے کوئی کھٹیا نہ مل جائے گی۔ٹھکرانی سے مانگ لانا‘‘۔
دُکھی: تو توُ کبھی کبھی ایسی بات کہہ دیتی ہے کہ بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ بھلا ٹھکرانے والے مجھے کھٹیا دیں گے؟ جاکر ایک لوٹا پانی مانگو تو نہ ملے۔ بھلا کھٹیا کون دے گا۔ ہمارے اوپلے،ایندھن،بھوسا لکڑی تھوڑے ہی ہیں کہ جو چاہے اٹھا لے جائے اپنی کھٹولی دھو کر رکھ دے۔ گرمی کے تو دن ہیں۔ان کے آتے آتے سوکھ جائے گی۔
جُھریا: ہماری کھٹولی پر وہ نہ بیٹھیں گے۔دیکھتے نہیں کتنے دھرم سے رہتے ہیں ۔
دُکھی نے کسی قدر مغموم لہجے میں کہا۔’’ہاں یہ بات تو ہے۔ مہوے کے پتے توڑ کر ایک پتل بنا لوں ،تو ٹھیک ہو جائے۔ پتل میں بڑے آدمی کھاتے ہیں۔وہ پاک ہے ۔لاتو لاٹھی،پتے توڑ لوں‘‘۔
جُھریا: پتّل میں بنا لوں گی۔تم جاؤ لیکن ہاں انہیں سیدھا بھی جائے اور تھالی ۔چھوٹے بابا تھالی اٹھا کر پٹک دیں گے۔وہ بہت جلد غصہ میں آجاتے ہیں ۔ غصّہ میں پنڈتانی تک کو نہیں چھوڑتے ۔ لڑکے کو ایسا پیٹا کہ آج تک ٹوٹا ہاتھ لیے پھرتا ہے۔پتّل میں سیدھا بھی دے دینا مگر چھونا مت ۔ بھوری گونڈکی لڑکی کو لے کر شاہ کی دکان سے چیزیں لے آنا۔سیدھا بھرپور ،سیر بھر آٹا،آدھ سیر چاول،پاؤ بھر دال،آدھ پاؤ گھی،نمک،ہلدی اور تیل میں ایک کنارے چار آنہ کے پیسے رکھ دینا۔
گونڈکی کی لڑکی نہ ملے تو پھرمہا جن کے ہاتھ پیر جوڑ کر لے آنا۔تم کچھ نہ چھونا ورنہ گجب ہو جائے گا۔
ان باتوں کی تاکید کر کے دکھی نے لکڑی اٹھالی اور گھاس کا ایک بڑا سا گٹھا لے کر پنڈت جی سے عرض کرنے چلا۔
خالی ہاتھ بابا جی کی خدمت میں کس طرح جاتا ۔نذرانے کے لیے اس کے پاس گھاس کے سوا اور کیا تھا۔ اسے کالی دیکھ کر تو بابا جی دور ہی سے دھتکار دیتے۔
پنڈت گھاسی رام ایشور کے پرم بھگت تھے۔ نیند کھلتے ہی ایشوراپاسنا میں لگ جاتے،منہ ہاتھ دھو تے آٹھ بجے،تب اصلی پوجا شروع ہوتی۔ جس کا پہلا حصہ بھنگ کی تیاری تھی۔اس کے بعد آدھ گھنٹہ تک چند ن رگڑ تے۔پھر آئینے کے سامنے ایک تنکے سے پیشانی پر تلک لگاتے ۔چندن کے متوازی خطوط کے درمیان لال روئی کا ٹیکہ ہوتا۔ پھر سینہ پر ،دونوں بازوؤں پر چند ن کے گول گول دائرے بناتے اور ٹھاکر جی کی مورتی نکال کر اسے نہلاتے۔ چندن لگاتے ،پھول چڑھاتے ،آرتی کرتے اور گھنٹی بجاتے ۔دس بجتے بجتے وہ پوجن سے اٹھتے اور بھنگ چھان کر باہر آتے ۔ اس وقت دوچار دروازے پر آ جاتے۔
ایشور اپاسنا کافی الفور پھل مل جاتا۔ یہی ان کی کھیتی تھی۔آج وہ عبادت خانے سے نکلے تو دیکھا دکھی چمار گھاس کا ایک گٹھا لئے بیٹھا ہے۔انہیں دیکھتے ہی کھڑا ہو ا ورنہایت ادب سے ڈنڈوت کر کے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ایسا پُر جلال چہرہ دیکھ کراس کا دل عقیدت سے پرہو گیا۔ کتنی تقدس مآب صورت تھی ۔چھوٹاسا گول مول آدمی۔ چکنا سر، بھولے ہوئے رکسار، روحانی جلال سے منور آنکھیں اس پر روئی اور چندن نے دیوتاؤں کی تقدس عطا کر دی تھی۔ دکھی کو دیکھ کر شیریں لہجہ میں بولے۔
’’آج کیسے چلا آیا رے دُکھیا؟‘‘ دُکھی نے سر جھکا کر کہا۔’’بٹیا کی سگائی کر رہا ہوں مہاراج!ساعت شگن بچارنا ہے ۔ کب مرجی ہو گی؟‘‘ گھاسی۔’’آ ج تو مجھے چھٹی نہیں ۔شام تک آجاؤں گا‘‘۔
دکھی :’’نہیں مہاراج !جلدی مرجی ہو جائے ۔سب سامان ٹھیک کر کے آیا ہوں۔ یہ گھاس کہاں رکھ دوں؟‘‘
گھاسی: اس گائے کے سامنے ڈال دے۔ اور ذرا جھاڑ ودے کر دروازہ تو صاف کر دے۔ یہ بیٹھک بھی کئی دن سے لیپی نہیں گئی۔ اسے بھی گوپر سے لیپ دے ۔ تب تک میں بھوجن کر لوں۔ پھر ذرا آرام کر کے چلوں گا۔ہاں یہ لکڑی بھی چیر دینا۔ کھلیان میں چار کھانچی بھوسہ پڑا ہے اسے بھی اٹھا لانا اور بھوسیلے میں رکھ دینا۔دکھی فوراًحکم کی تعمیل کرنے لگا۔ دروازے پر جھاڑ و لگائی۔ بیٹھک گور سے لیپا۔ اس وقت بارہ بج چکے تھے۔پنڈت جی بھوجن کرنے چلے۔ دکھی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اسے بھی زور کی بھوک لگی۔ لیکن وہاں کھانے کو دھرا ہی کیا تھا۔گھر یہاں سے میل بھر تھا۔ وہاں کھانے چلا جائے تو پنڈت جی بگڑ جائیں۔ بے چارے نے بھوک دبائی اور لکڑی پھاڑنے لگا۔
لکڑی کی موٹی سی گرہ تھی جس پر کتنے ہی بھگتوں نے اپنا زور آزما لیا تھا۔ وہ اسی دم خم کے ساتھ لوہے سے لوہا لینے کے لئے تیار تھی ۔دکھی گھاس چھیل کر بازار لے جاتا۔ لکڑی چیرنے کا اسے محاورہ نہ تھا۔ گھاس اس کے کھرپے کے سامنے سر جھکا دیتی تھی۔
یہاں کس کس کر کلہاری کا بھر پور ہاتھ جماتا لیکن اس گرہ پر نشان تک نہ پڑتا۔ کلہاڑی اچٹ جاتی۔ پسینہ سے تر تھا۔ہانپتا تھا۔ تھک کر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر اٹھتا تھا۔ہاتھ اٹھائے نہ اٹھتے تھے ۔ پاؤن کانپ رہے تھے۔
ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔پھر بھی اپنا کام کئے جاتا تھا۔ اگر ایک چلم تمباکو پینے کو مل جاتا تو شاید کچھ طاقت آجاتی۔ اس نے سوچا۔یہاں چلم اور تمباکو کہاں ملے گا۔ برہمنوں کا گاؤں ہے۔ برہمن ہم سب نیچ جاتوں کی طرح تمباکو تھوڑا ہی پیتے ہیں۔ یکا یک اسے یاد آیا کہ گاؤں میں ایک گونڈ بھی رہتا ہے۔ اس کے یہاں ضرور چلم تمباکو ہو گی۔ فوراًاس کے گھر دوڑا ۔
خیر محنت سپھل ہوئی۔اس نے تمباکو اور چلم دی ۔لیکن آگ وہاں نہ تھی۔
دکھی نے کہا’’آگ کی فکر نہ کرو بھائی، پنڈت جی کے گھر سے آگ مانگ لوں گا۔ وہاں تو ابھی رسوئی بن رہی تھی‘‘۔
یہ کہتا ہوا وہ دونوں چیزیں لے کر چلا اور پنڈت جی کے گھر میں دالان کے دروازہ پر کھڑا ہو کر بولا۔’’مالک ذرا سی آگ مل جائے تو چلم پی لیں‘‘۔ پنڈت جی بھوجن کر رہے تھے ۔ پنڈتانی نے پوچھا۔۔’’یہ کون آدمی آگ مانگ رہا ہے؟‘‘
’’تو دے دو‘‘
پنڈتانی نے بھنویں چڑھا کر کہا۔’’تمہیں تو جیسے پوڑی پیڑ ے کے پھر میں دھرم کرم کی سدھ بھی نہ رہی۔
چمار ہوا، دھوبی ہوا،پاسی ہو۔منہ اٹھائے گھر میں چلے آئے۔ پنڈت کا گھر نہ ہوا،کوئی سرائے ہوئی۔ کہہ دو ڈیوڑھی سے چلا جائے ورنہ اسی آگ سے منہ جھلسا دوں گی۔ بڑے آگ مانگنے چلے ہیں‘‘۔
پنڈت جی نے انہیں سمجھا کر کہا۔’’اندر آگیا تو کیا ہوا۔ تمہاری کوئی چیز تو نہیں چھوئی،زمین پاک ہے۔
ذرا سی آگ کیوں نہیں دے دیتیں۔کام تو ہمارا کر رہا ہے۔ کوئی لکڑہارا یہی لکڑی پھاڑتا تو کم از کم چار آنے لیتا۔
پنڈتانی نے گرج کر کہا۔’’وہ گھر میں آیا ہی کیوں؟‘‘پنڈت نے ہار کر کہا ۔’’ سسرے کی بد قسمتی‘‘۔ پنڈتانی:اچھا اس وقت تو آگ تو دے
دیتی ہوں لیکن پھر جو اس گھر میں آئے گا تو منہ جھلس دو گی۔دکھی کے کانوں میں ان باتوں کی بھنک پڑ رہی تھی۔بیچارہ پچھتا رہا تھا۔نا حق چلا آیا ۔سچ تو کہتی ہیں پنڈت کے گھر چمار کیسے آئے۔یہ لوگ پاک صاف ہوتے ہیں۔تب ہی تو اتنا مان ہے۔چر چمار تھوڑے ہی ہیں۔اسی گاؤں میں بوڑھا ہو گیا ۔ مگر مجھے اتنی عقل بھی نہ آئی۔
اسی لئے جب پنڈتانی جی آگ لے کر نکلیں تو جیسے اسے جنت مل گئی۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر زمین پر سر جھکاتا ہوا بولا۔پنڈتانی ماتا!مجھ سے بڑی بھول ہو ئی کہ گھر میں چلا آیا ۔چمار کی عقل ہی تو ٹھہری۔ اتنے مورکھ نہ ہوتے تو سب کی لات کیوں کھاتے؟ پنڈتانی چمٹے سے پکڑ کر آگ لائی تھی۔
انہوں نے پانچ ہاتھ کے فاصلہ پر گھونگھٹ کی آڑ سے دکھی کی طرف آگ پھینکی ۔ ایک بڑی سی چنگاری اس کے سر پر پڑ گئی۔ جلدی سے ہٹ کر جھاڑے لگا۔
اس کے دل نے کہا۔یہ ایک پاک برہمن کے گھر کو ناپاک کرنے کا نتیجہ ہے بھگوان نے کتنی جلدی سزا دے دی۔اسی لئے تو دنیا پنڈتوں سے ڈرتی ہے۔اور سب کے روپے مارے جاتے ہیں۔برہمن کے روپے بھلا کوئی مار تو لے۔ گھر بھر کا ستیا ناس ہو جائے۔ ہاتھ پاؤں گل گل گرنے لگیں۔
باہر آکر اس نے چلم پی اور کلہاڑی لے کر مستعد ہو گیا۔کھٹ کھٹ کی آوازیں آنے لگیں۔سر پر آگ پڑ گئی تو پنڈتانی کو کچھ رحم آگیا۔ پنڈت جی کھانا کھا کر اٹھے تو بولیں۔’’اس چمر ا کو بھی کھانے کو دے دو۔ بے چارا کب سے کام کر رہا ہے۔ بھوکا ہو گا‘‘۔ پنڈت نے اس تجویز کو فنا کر دینے کے ارادے سے پوچھا۔ ’’روٹیاں ہیں‘‘۔
پنڈتانی: دو چار بچ جائیں گی۔ پنڈت: دو چار روٹیوں سے کیا ہو گا؟یہ چمار ہے۔ کم از کم سیر چڑھا جائے گا۔
پنڈتانی کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔’’ارے باپ رے۔ سیر بھر،تو پھررہنے دو‘‘۔پنڈت جی نے اب تیر بن کر کہا۔’’کچھ بھوسی چوکر ہو تو آٹے میں ملاکر موٹی موٹی روٹیاں توے پر ڈال دو۔سالے کا پیٹ بھر جائے گا۔
پتلی روٹیوں سے ان کمینوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔ انہیں تو جوار کا ٹکڑا چاہئیے‘‘۔
پنڈتانی نے کہا۔’’اب جانے بھی دو،دھوپ میں مرے ‘‘۔
دکھی نے چلم پی کر کلہاڑی سنبھالی۔دم لینے سے ذرا ہاتھوں میں طاقت آگئی تھی ۔تقریباً آدھ گھنٹہ تک پھر کلہاڑی چلاتا رہا۔ پھر بے دم ہو کر وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔اتنے میں وہی گونڈ آ گیا۔بولا’’بوڑھے دادا جان کیوں دم دیتے ہو۔تمہارے پھاڑے یہ گانٹھ نہ پھٹے گی۔نا حق ہلکان ہوتے ہو‘‘۔
دکھی نے پیشانی کا پسینہ صاف کر کے کہا۔’’بھائی ابھی گاڑی بھر بھوسہ ڈھونا ہے‘‘۔
گونڈ:کچھ کھانے کو بھی دیا یا کام ہی کرونا جانتے ہیں۔جا کے مانگتے کیوں نہیں ؟‘‘
دکھی: تم بھی کیسی باتیں کرتے ہو۔ بھلا برہمن کی روٹی ہم کو پچے گی؟ گونڈ:پچنے کو تو پچ جائے گی۔ مگر ملے تو۔ خود تو مونچھوں پر تاؤ دے کر کھانا کھایا اور آرم سے سو رہے ہیں۔
تمہارے لیے لکڑی پھاڑنے کا حکم لگا دیا۔ زمیندار بھی کچھ کھانے کو دیتا ہے۔ یہ ان سے بھی بڑھ گئے ۔ اس پر دھرماتما بنتے ہیں۔
دکھی نے کہا۔’’بھائی آہستہ بولو ۔ کہیں سن لیں گے تو بس!‘‘ یہ کہہ کر دکھی پھر سنبھل پڑااور کلہاڑی چلانے لگا۔ گونڈ کو اس پر رحم آگیا۔ کلہاڑی ہاتھ سے چھین کر تقریباً نصف گھنٹہ تک جی توڑ کر چلاتا رہا لیکن گانٹھ پرذرا بھی نشان نہ ہو۔
بالآخر اس نے کلہاڑی پھینک دی اور یہ کہہ کر چلاگیا۔’’یہ تمہارے پھاڑے نہ پھٹے گی۔ خواہ تمہاری جان ہی کیوں نہ نکل جائے‘‘۔
دکھی سوچنے لگا۔ یہ گانٹھ انہوں کہاں سے رکھ چھوڑی تھی کہ پھاڑے نہیں پھٹتی۔میں کب تک اپنا خون پسینہ ایک کروں گا۔ ابھی گھر پر سو کام پڑے ہیں۔کام کاج والا گھر ہے۔ایک نہ ایک چیز گھٹتی رہتی ہے۔ مگر انہیں اس کی کیا فکر؟چلوں جب تک بھوسہ ہی اٹھا لاؤں ۔ کہہ دوں گا آج تو لکڑی نہیں پھٹی۔ کل آکر پھاڑ دوں گا۔
اس نے ٹوکرا اٹھایا اور بھوسہ ڈھونے لگا۔کھلیان یہاں سے دو فرلانگ سے کم نہ تھا۔اگر ٹوکرا خوب بھر بھر کر لاتا تو کام جلد ہوجاتا ۔مگر سر پر اٹھاتا کون؟ خود اس سے نہ اٹھ سکتا۔
اس لیے تھوڑا تھوڑا لاتا تھا۔ چار بجے بھوسہ ختم ہوا۔ پنڈت کی نیند بھی کھلی،منہ ہاتھ دھو کے پان کھایا اور باہر نکلے۔ دیکھا تو دکھی توکرے پر سر رکھے سو رہا ہے۔زور سے بولے۔’’ارے دکھیا !تو سو رہا ہے۔ لکڑی تو ابھی جوں کی توں پڑی ہے۔ اتنی دیر تو کیا کر رہاتھا؟مٹھی بھر بھوسہ اٹھانے میں شام کر دی ۔ اس پر سو رہا ہے۔ کلہاڑی اٹھا لے اور لکڑی پھاڑ ڈال ۔ تجھ سے ذرا بھر لکڑی نہیں پھٹتی۔پھر ساعت بھی ویسی ہی نکلے گی۔مجھے دوش مت دینا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں جہاں نیچ کے گھر کھانے کو ہوا اس کی آنکھ بدل جاتی ہے‘‘۔
دکھی نے پھر کلہاڑی اٹھائی۔جو باتیں اس نے پہلے سوچ رکھی تھیں ، وہ سب بھول گیا۔ پیٹ پیٹھ میں دھنسا جاتا تھا۔دل ڈوبا جاتا تھا۔ پر دل کو سمجھا کر اٹھا ۔ پنڈت ہیں ۔ کہیں ساعت ٹھیک نہ بچاریں تو پھر سفینہ ناس ہو جائے ۔ تب ہی تو ان کا دنیا میں اتنا مان ہے۔ ساعت ہی کا تو سب کھیل ہے۔ جسے چاہیں بنا دیں، جسے چاہیں بگاڑدیں گے۔پنڈت جی گانٹھ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے اور حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ ہاں مارکس کے۔اور مس کے مار۔ ایسے زور سے مار ،تیرے ہاتھوں میں جیسے دم ہی نہیں ۔ لگا کس کے۔ کھڑا کھڑا سوچنے کیا لگتا ہے۔
ہاں بس پھٹا ہی چاہتی ہے،اس سوراخ میں‘‘۔ دکھی اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔ نہ معلوم کوئی غیبی طاقت اس کے ہاتھوں کو چلا رہی تھی۔ تھکان ،بھوک ،پیاس،کمزوری سب کے سب جیسے ہو اہو گئی تھیں۔ اسے اپنے قوت بازو پر خود تعجب ہو رہا تھا۔ ایک ایک چوٹ پہاڑ کی مانند پڑتی تھی۔ آدھ گھنٹے تک وہ اسی طرح بے خبری کی حالت میں ہاتھ چلاتا رہا۔ حتیٰ کہ لکڑی بیچ سے پھٹ گئی اور دکھی کے ہاتھ سے کلہاڑی چھوٹ کر گر پڑی ۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھی چکر کھا کر گر پڑا۔ بھوکا پیاسا تکان خوردہ جسم جواب دے گیا۔ پنڈت جی نے پکارا ۔ اٹھ کر دو چار ہاتھ اور لگا دے۔ پتلی پتلی ہو جائیں ‘‘۔
پنڈت جی نے اب اسے دق کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ اندر جا کر بوٹی چھانی ۔
حا جات ضروری سے فارغ ہوئے ،نہایا اور پنڈتوں کا لباس پہن کر باہر نکلے۔ دکھی ابھی تک وہیں پڑا تھا۔
زور سے پکارا۔’’ارے دکھی !کیا پڑے ہی رہو گے ۔ چلو تمہارے ہی گھر چل رہا ہوں سب سامان ٹھیک ہے نا؟‘‘ دکھی پھر بھی نہ اٹھا۔ اب پنڈت جی کو کچھ فکر ہوئی۔پاس جاکر دیکھا تو دکھی اکڑا ہوا پڑا تھا ۔
بدحواس ہو کر بھاگے اور پنڈتانی سے بولے۔’’دکھیا تو جیسے مر گیا‘‘۔ پنڈتانی جی تعجب انگیز لہجے میں بولیں ۔’’ابھی تو لکڑی چیر رہا تھا!؟‘‘
ہاں لکڑی چیرتے چیرتے مر گیا ۔اب کیا ہو گا؟‘‘ پنڈتانی نے مطمئن ہو کر کہا ۔’’چمروٹے میں کہلا بھیجو مردہ اٹھا لے جائیں‘‘۔
دم کے دم میں یہ خبر گاؤں بھر میں پھیل گئی۔گاؤں میں زیادہ تر برہمن ہی تھے۔صرف ایک گھر گونڈ کا تھا۔لوگوں نے ادھر کا راستہ چھوڑ دیا۔ کنویں کا راستہ ادھر ہی سے تھا۔پانی کیونکر بھرا جائے؟چمار کی لاش پاس ہو کر پانی بھرنے کون جائے ۔ ایک بڑھیا نے پنڈت جی سے کہا۔
’’مردہ کیوں نہیں اٹھواتے ۔کوئی گاؤں میں پانی پیے گا یا نہیں؟‘‘ ادھر گونڈ نے چمرونے میں جاکر سب سے کہہ دیا۔’’خبردار مردہ اٹھانے مت جانا۔ ابھی پولیس کی تحقیقات ہو گی۔
دل لگی ہے کہ ایک غریب کی جان لے لی ۔ پنڈت ہوں گے تو اپنے گھر ہوں گے۔ لاش اٹھاؤ گے تو تم بھی پکڑے جاؤ گے۔
اس کے بعد ہی پنڈت جی پہنچے ۔پر چمرونے میں کوئی آدمی لاش اٹھانے کو تیار نہ ہوا۔ ہاں دکھی کی بیوی اور لڑکی دونوں ہائے ہائے کرتی وہاں سے چلیں اور پنڈت جی کے دروازے پر آکر سر پیٹ کر رونے لگیں ۔ ان کے ساتھ دس پانچ اور چمارنیں تھیں۔کوئی روتی تھی،کوئی سمجھاتی تھی،پر چمارایک بھی نہ تھا۔پنڈت جی نے ان سب کو بہت دھمکایا،سمجھایا،منت کی۔ پر چماروں کے دل پر پولیس کاایسا رعب چھایا کہ ایک بھی مان نہ سکا ۔ آخر نا امید ہو کر لوٹ آئے۔
آدھی رات تک رونا پیٹنا جاری رہا۔دیوتاؤں کا سونا مشکل ہو گیا۔مگر لاش اٹھانے کوئی نہ آیا۔ اور برہمن چمار کی لاش کیسے اٹھاتے ؟بھلا ایسا کسی شاستر پوران میں لکھا ہو ، کہیں کوئی دکھا دے۔
پنڈتانی نے جھنجھلاکر کہا۔’’ان ڈائنوں نے تو کھوپڑی چاٹ ڈالی۔ ان سبھوں کا گلا بھی نہیں تھکتا‘‘۔ پنڈت نے کہا۔’’چڑیلوں کو رونے دو۔ کب تک روئیں گی۔جیتا تھا تو کوئی بات نہ پوچھتا تھا۔مر گیا تو شورو غل مچانے کے لئے سب آپہنچیں‘‘۔ پنڈتانی:چمار وں کا رونا منحوس ہوتا ہے؟
پنڈت: ہاں بہت منحوس ۔
پنڈتانی : ابھی سے بو آنے لگی۔ پنڈت : چمار تھا سسرا کہیں کا ۔ ان سبھوں کو کھانے پینے میں کوئی بچار نہیں ہوتا۔
پنڈتانی:ان لوگوں کو نفرت بھی معلوم نہیں ہوتی۔
پنڈت:سب کے سب بھرشٹ ہیں۔ رات تو کسی طرح کٹی مگر صبح بھی کوئی چمار نہ آیا۔ چمار نی بھی رو پیٹ کر چلی گئی۔بدبو پھیلنے لگی۔
پنڈت جی نے ایک رسی نکالی۔ اس کا پھندہ بنا کر مردے کے پیر میں ڈالا اور پھندے کو کھینچ کر کس دیا۔ابھی کچھ کچھ اندھیرا تھا۔پنڈت جی نے رسی پکڑ کر لاش کو گھسیٹنا شروع کیا اور گھسیٹ کر گاؤں سے باہر لے گئے۔
وہاں سے آ کر نہائے ،درگاپٹھ پڑھا اور سر میں گنگا جل چھڑکا۔ ادھر دکھی کی لاش کو کھیت میں گیدڑ ،گدھ اور کوے نوچ رہے تھے۔ یہی اس کی تمام زندگی کی بھگتی ،خدمت اور اعتقاد کا انعام تھا۔