کشمیر کا3روز بعد فضائی اور زمینی رابطہ بحال،لوگوں نے سکھ کا سانس لیا
04:03PM Mon 9 Jan, 2017
سرینگر۔(بھٹکلیس نیوز)کشمیر میں تازہ برف باری کے تیسرے دن وادی کا بیرونی دنیا سے فضائی و زمینی رابطہ بحال ہوگیا ہے اورسرینگر سے18پروازوں کی ملک کے مختلف شہروں کو اڑان ،سرینگر جموں شاہراہ کھل گئی،1500سے زائد گاڑیوں کو ٹنل سے آر پار جانے دیا گیا۔دھرچندی گڑھ نشین برف اور برفانی تودے کے تحقیقی مرکز ایس اے ایس سی جموں وکشمیر کے کئی اضلاع میں اگلے 24گھنٹوں کے دوران برفانی تودے گر آنے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے بالائی علاقوں میں لوگوں کو اپنی نقل وحرکت محدود کرنے کی ہدایت جاری کی ہے ۔محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کہا کہ آئندہ ایک ہفتہ تک موسم خشک رہے گا اور اس دوران بارش اور برف باری کے واضح امکانات نہیں ہیں تاہم یخ بستہ ہواؤں کے اٹھنے سے سردی میں اضافہ ہوگا۔ آئرپورٹ کے ایس ایس پی منظور احمد نے بتایا 2دن کے بعدسرینگر ہوائی اڈے پرفضائی رابطہ بحال ہوا اور 18پروازوں نے اڑانیں بھریں ۔ انہوں نے کہ ان پروازوں میں1ہزار سیاحوں کے علاوہ6ہزار مسافروں نے سفر کیا ۔ برفانی تودے کے تحقیقی مرکز ایس اے ایس سی نے فانی تودے گرآنے کی وارننگ جاری کرتے ہوئے بالائی علاقوں میں لوگوں کواپنی نقل وحرکت محدودکرنے کی ہدایت دی ۔ ادارے نے اس سلسلے میں باضابطہ طور وارننگ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ بارہمولہ ، کپوارہ ، بانڈی پورہ ، کشتواڑ ، راجوری ، ڈوڈہ ، پونچھ اور ریاسی اضلاع کے بالائی علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران درمیانہ اور بھاری نوعیت کے برفانی تودے گر سکتے ہیں۔ اس لئے بالائی علاقوں میں رہنے والے لوگ اگلے 2 روز کیلئے اپنی نقل و حرکت کو محدود رکھیں ۔ ادھرشمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ سے عازم جان کے مطابق ضلع میں حالیہ برف باری سے عام زندگی متاثر ہوئی لیکن ضلع انتظامیہ کی بروقت کارروائی سے بجلی کا نظام اور پانی کی فراہمی پہاڑی علاقوں کے سوا تمام ضلع میں بحال کردی۔بانہال سے محمد تسکین کے مطابق جواہر ٹنل کے آرپار بھاری برفباری سے پیدا ہوئی پھسلن اور بارشوں سے رام بن اور بانہال کے سیکٹر میں گر آئی پسیوں کی وجہ سے دو روز تک بند رہنے کے بعد جموں سرینگر شاہراہ گاڑیوں کی آمدورفت کیلئے جزوی طور کھول دی گئی ۔ شاہراہ سے برف اور پسیاں صاف کرنے کے بعد تین روز سے بٹوٹ ,رام بن اور بانہال کے درمیان درماندہ پڑے ٹریفک کو ترجیحی بنیادوں پر چلنے کی اجازت دی گئی اور شام چار بجے بعد بانہال , لور منڈہ اور قاضی گنڈ میں جموں جانے والی 150 سے زائد مسافر گاڑیوں کو جموں کی طرف چلنے کی اجازت دی گئی ۔ڈی ایس پی ٹریفک نیشنل ہائے بانہال نہار رنجن نے نمائندے کو بتایا کہ اتوار کی صبح سے ہی جواہر ٹنل کے ار پار برف اور پسیوں اور پتھروں کو شاہراہ سے صاف کیا گیا اور بعد میں پچھلے تین روز سے شاہراہ کے مختلف مقامات پر درماندہ پڑی بیشتر گاڑیوں کو یکطرفہ ٹریفک کی صورت میں وادی کشمیر کی طرف جانے کی اجازت دی گئی - انہوں نے کہا کہ اتوار کی شام پانچ بجے تک بٹوٹ اور بانہال کے درمیان درماندہ پڑے 6سو سے زائید مال بردار گاڑیوں سمیت3سو کے قریب مسافر گاڑیوں کو جواہر ٹنل پار کرایا گیا ۔ نہار رنجن نے مزید بتایا کہ شام چار بجے بعد بانہال اور قاضی گنڈ میں درماندہ پڑی 2سوکے قریب مال اور مسافر گاڑیوں کو بھی جموں کی طرف جانے کی اجازت دی گئی ۔ادھر محکمہ موسمیات کے مطابق گذشتہ24گھنٹوں کے دورا ن وادی کے سیاحتی مقام پہلگام سمیت گلمرگ اور کوکرناگ میں تازہ برف باری ہوئی۔پہلگام میں 10سنٹی میٹر تازہ برف ریکارڑ کی گئی جبکہ کل رات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی3.2ڈگری سلشیس ریکارڑ کیا گیا ۔تاہم لداخ کے پہاڑی علاقے لہیہ وادی کی سب سے سرد ترین جگہ رہی جہاں کل تات کا کم سے کم درجہ حرارت منفی8.0ریکارڑ کیا گیا ۔شمالی کشمیر میں مشہور سیاحتی مقام گلمرگ لہیہ کے بعد منفی7.6ڈگری درجہ حرارت سے سرد ترین مقام رہا۔ادھر سرینگر اور قاضی گنڈ میں کل رات کا کم سے کم درجہ حرات منفی0.3ڈگری ریکارڑ کیا گیا ۔ ادھر کشمیر یونیورسٹی نے 9 جنوری بروز سومواراور10جنوری بروز منگل لئے جانے والے تمام امتحانات کو ملتوی کردیا ہے۔