حیدرآباد انکاؤنٹر معاملے کی جانچ 3 رکنی عدالتی کمیشن کرے گا: سپریم کورٹ

05:04PM Thu 12 Dec, 2019

عرضی پر غور کرتے ہوئے آج عدالت نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے کی جانے والی عدالتی جانچ کو چھ ماہ کے اندر چھ ماہ مکمل کرنا چاہئے۔سماعت کے دوران جسٹس بوبڈے نے تلنگانہ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مُکل روہتگی سے کہا کہ ”ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ(پولس) خاطی ہیں۔ہم جانچ کے احکام دے رہے ہیں اور اس میں پولس کو بھی شامل کیاجائے گا۔‘‘ جسٹس بوبڈے نے مکل روہتگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس انکاونٹر میں ملوث پولس ملازمین کے خلاف فوجداری عدالت میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی تو ہمارے لئے کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ تاہم اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں یہ پولس ملازمین بے گناہ ہین تو پھر عوام کو حقیقت معلوم ہونے دیجئے۔اس معاملہ پر حقائق کو ہم گڑھنا نہیں چاہتے۔اس معاملہ کی جانچ ہونے دیجئے۔اس پر آپ کیوں مزاحمت کررہے ہیں؟‘‘
 عرضی پر غور کرتے ہوئے آج عدالت نے کہاکہ سپریم کورٹ کی جانب سے کی جانے والی عدالتی جانچ کو چھ ماہ کے اندر چھ ماہ مکمل کرنا چاہئے۔سماعت کے دوران جسٹس بوبڈے نے تلنگانہ حکومت کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر وکیل مُکل روہتگی سے کہا کہ ”ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ آپ(پولس) خاطی ہیں۔ہم جانچ کے احکام دے رہے ہیں اور اس میں پولس کو بھی شامل کیاجائے گا۔‘‘ جسٹس بوبڈے نے مکل روہتگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ ’’اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ اس انکاونٹر میں ملوث پولس ملازمین کے خلاف فوجداری عدالت میں قانونی چارہ جوئی کی جائے گی تو ہمارے لئے کرنے کے لئے کچھ بھی نہیں رہے گا۔ تاہم اگر آپ یہ کہہ رہے ہیں یہ پولس ملازمین بے گناہ ہین تو پھر عوام کو حقیقت معلوم ہونے دیجئے۔اس معاملہ پر حقائق کو ہم گڑھنا نہیں چاہتے۔اس معاملہ کی جانچ ہونے دیجئے۔اس پر آپ کیوں مزاحمت کررہے ہیں؟‘‘
 واضح رہے کہ حیدرآباد میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری کے بعد اس کو جلا کر مار دیا گیا تھا۔ پولس نے اس جرم کے لئے چار لوگوں کو گرفتار بھی کر لیا تھا۔ گرفتاری کے بعد ان ملزمین پر پولس نے الزام لگایا تھا کہ جب انھیں جائے وقوع پر واقعہ کو سمجھنے اور شواہد جمع کرنے کے لئے لے جایا گیا تو انہوں نے بھاگنے کی کوشش کی اور پولس پر حملہ کیا جس کے رد عمل میں پولس نے ان پر فائرنگ کی جس میں وہ مارے گئے۔ اس انکاؤنٹر میں ملزمین کے مارنے پر کئی جانب سے سوال اٹھائے گئے تھے جبکہ ایک بڑے طبقہ نے اس کارروائی پر پولس کی تعریف کی تھی اور جشن منایا تھا۔واضح رہے کہ خود سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا نے اس واقعہ کے بعد اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر بدلہ لینے کے لیے کچھ کیا جائے تو وہ انصاف نہیں ہے۔