بی بی ایم پی 3حصوں میں تقسیم اسمبلی میں بل منظور

01:05PM Tue 21 Apr, 2015

بھٹکلیس  نیوز/21اپریل،15 ایوان میں اپوزیشن کا دھرنا بنگلورو(ایجنسی) اپوزیشن بی جے پی اور جنتادل (ایس) کی شدید مخالفت اور ہنگامہ آرائی کے درمیان اسمبلی میں اس بل کو مختصر بحث کے بعد منظوری تو مل گئی، بعد میں اسے ایوان بالا کی منظوری کیلئے بھیجا گیا، جہاں حکمران پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں۔ ایوان بالا میں اس بل کو شام کے وقت وزیر قانون جئے چندرا نے پیش کیا، آج صبح اس ترمیمی بل کی منظوری کیلئے جیسے ہی خصوصی اجلاس کا آغاز ہوا، ہنگامہ آرائی کے درمیان وزیر قانون ٹی بی جئے چندرا نے بی بی ایم پی کی تقسیم کیلئے کرناٹک میونسپل کونسل ترمیمی بل 2015 ایوان میں پیش کیا۔ مسٹر جئے چندرا نے جیسے ہی بل پیش کرنے کی کوشش کی اپوزیشن اراکین نے یکے بعد دیگرے اس کی شدید مخالفت کا سلسلہ شروع کردیا۔ بعض نے ریاست میں کسانوں کی بدحالی کا حوالہ دے کر تحریک التوا پیش کرنی چاہی تو بعض نے اس بل کو پیش کرنے کی سرے سے مخالفت کی۔ سابق وزیر داخلہ اور بی جے پی کے نائب لیڈر آر اشوک ، وشویشور ہیگڈے کاگیری ، بسوراج بومئی ، سریش کمار ، گووند کارجول وغیرہ نے اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر کے ساتھ مل کر اس بل کی شدید مخالفت کی تو دوسری طرف سابق وزیراعلیٰ ایچ ڈی کمار سوامی کی قیادت میں جے ڈی ایس اراکین نے بھی کھل کر مخالفت کی۔ حکمران اراکین نے بھی اس بل کی تائید میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ ایوان میں اس قدر شور شرابہ مچ گیا کہ کون کیا کہہ رہاتھا سنائی نہیں دیا۔ وزیر قانون کی طرف سے اس بل کو پیش کرنے کے بعد اپوزیشن کی مخالفت کے درمیان اسپیکر کاگوڈ تمپا نے کہاکہ ایوان کو یہ اختیار ہے کہ وہ کوئی بھی قانون منظور کرسکے، اس کو کوئی نہیں روک سکتا، عدالت میں جو ہوتاہے اس سے لیجسلیچر کو کچھ لینا دینا نہیں۔ جنتادل (ایس) لیڈر کمار سوامی نے بھی یہ کہنے کی کوشش کی کہ اس طرح کا بل پیش کرنے سے توہین عدالت ہوگی، اور کہاکہ یہ ترمیمی بل دور اندیشی سے عاری ہے، اسی لئے حکومت اس قانون کو منظورکرانے کی حماقت نہ کرے۔ وزیر قانون نے اس بل کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہاکہ ماہرین قانون کے مشورہ کے بعد ہی حکومت یہ ترمیم لارہی ہے، تاکہ بی بی ایم پی کے انتظامیہ کو بہتر بنانے کیلئے اسے تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکے ۔ انہوں نے کہاکہ ممبئی ، دہلی وغیرہ میں بھی سٹی کارپوریشنوں کو تقسیم کیاجاچکا ہے، پچھلے پانچ سال کے دوران بی بی ایم پی میں ہوئی مبینہ بدعنوانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے وزیرموصوف نے کہاکہ برسر اقتدار بی جے پی شہر بنگلور کے عوام کو بنیادی سہولیات تک بہم پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت شہر کے انتظامیہ کو بہتر بنانے کیلئے یہ قانون لارہی ہے۔ مسٹر کمار سوامی نے کہاکہ بی بی ایم پی کو تقسیم کرنے کا قانون غیر ضروری تھا۔ حکومت اس تقسیم کو محض اس لئے آگے بڑھانا چاہتی ہے کہ وہ انتخابات کو ٹالنے کے حق میں ہے۔ کانگریس کو یہ خوف ہے کہ بی بی ایم پی انتخابات اگر بروقت ہوگئے تو اس سے اسے بھاری نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اپوزیشن پارٹیاں ہی نہیں، بلکہ عوام کی طرف سے بھی شدید مخالفت کی پرواہ کئے بغیر ریاستی حکومت بی بی ایم پی کو تقسیم کرنے پر تلی ہوئی ہے۔برہت بنگلور مہانگر پالیکے کی تقسیم کی پرزور وکالت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سدرامیا نے  ریاستی اسمبلی میں کہاکہ خود بی جے پی اراکین اسمبلی نے بی بی ایم پی کی تقسیم پر بارہا زور دیا، اب اچانک یہ لوگ اپنے موقف سے منحرف ہوچکے ہیں، اسمبلی میں اس سلسلے میں بل کی پیشی کے بعد بحث کے دوران مداخلت کرتے ہوئے سدرامیا نے کہاکہ سابق وزیراعلیٰ جگدیش شٹر اور سابق وزیر قانون سریش کمار نے انتظامیہ تقاضوں کی بنیاد پر بی بی ایم پی کی تقسیم پر شدت سے زور دیا تھا، اب یہی لوگ بی بی ایم پی کی تقسیم کی مخالفت کررہے ہیں۔ شٹر اور سریش کمار کے بیانات کے اخباری تراشے ایوان میں پیش کرتے ہوئے سدرامیا نے ان دونوں کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہاکہ صرف سیاسی مقاصد کیلئے یہ دونوں منحرف ہوچکے ہیں۔ بی بی ایم پی انتخابات کے متعلق تنازعہ عدالت میں زیر سماعت ہونے کا حوالہ دے کر بی جے پی اراکین کی طرف سے ترمیمی بل کی پیشی کو روکنے کی کوشش پر سدرامیا نے کہا کہ ہائی کورٹ میں جو معاملہ ہے اس کا اس بل سے کچھ لینا دینا نہیں۔ سدرامیا نے کہاکہ اس سے پہلے بھی کئی اہم امور پر پچھلی حکومتوں نے لیجسلیچر کے خصوصی اجلاس طلب کئے ہیں، اسی لئے اس اجلاس کو غیر معمولی قرار دیا جانا درست نہیں ہے۔ ہنگامی حالات میں قانون کی منظوری کی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ انہوںنے کہاکہ اس سے پہلے اگر حکومت اس ضمن میںقانون پیش کردیتی تو یہ کہا جاتا کہ سیاسی بدنیتی کے تحت حکومت یہ قانون لانے جارہی ہے، پچھلے پانچ سال کے دوران بی بی ایم پی میں بڑے پیمانے پر جو بدعنوانیاں ہوئی ہیں اس سے بی بی ایم پی کا انتظامیہ پوری طرح تباہ ہوچکا ہے۔ بڑے پیمانے پر مالی بے قاعدگیاں سرزد ہوئی ہیں۔ ملازمین کو تنخواہ تک ادا کرنے کیلئے بی بی ایم پی کے پاس فنڈز نہیں ۔ان تمام نکات کو ذہن میں رکھ کر ہی بی بی ایم پی کو حکومت نے تقسیم کرنے کی پہل کی ہے۔ اس پہل سے پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ع،ح،خ