مراٹھی باشندوں کو قابو میں رکھنے پر گوا حکومت نے آبی تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے سے انکار کردیا
03:36PM Thu 20 Jul, 2017
بنگلور( بھٹکلیس نیوز):۔ ریاستی حکومت کی جانب سے ریاست میں مراٹھی باشندو ں کو قابو میں کرنے کی مخالفت میں مہادائی آبی تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس کا فیصلہ صرف عدالت کے ذریعہ سے ہی ہوگا۔ وزیر اعلیٰ سدارامیا نے گوا حکومت کو اس تنازعہ کو عدالت کے باہر سے بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کے تعلق سے گوا حکومت کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا۔گوا حکومت نے دعویٰ کیا ہے وہ مہادائی ندی کے پانی پر کسی بھی ریاست کو قبضہ کرنے کا موقعہ نہیں دیگی۔ ندی کا پانی بے کار میں ہی ضائع ہوجائے یا سمندر میں جاکر گر جائے۔اس سے حکومت کو کوئی واسطہ نہیں ہے اور پانی کے بٹوارے ہویا تقسیم کے معاملہ کو حکومت کرناٹک کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کرے گی۔ریاستی حکومت اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرکے یہاں ایک پروجکٹ شرو کرنے کے ذریعہ شمالی کرناٹک کے کئی اضلاع اور تعلقہ جا ت کو پانی کی سہولت فراہم کرانے کا فیصلہ لیا ہے اور گوا حکومت کی اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے ریاستی حکومت کا ناکامی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ سنٹرل واٹر ٹری بیونل نے دونوں ریاستوں کی حکومت کو اس تنازعہ کو عدالت کے باہر بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کے مشورہ دیا تھا جس کے تحت سدارامیا نے گوا حکومت کو مکتوب روانہ کیا تھا۔سدارامیا نے گوا کے وزیر اعلیٰ منوہر پریکر او رمہاراشٹرا کے وزیر دیویندرنڈ نواس کو بھی مکتوب روانہ کیا تھا۔گوا کے وزیر برائے آبی وسائل ونود پالیکار نے سدارامیا کو مکتوب روانہ کرکے بتایا کہ حکومت اس تنازعہ کو بات چیت کے ذریعہ حل نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازعہ کو لیکر سیاست کرنے کی ضرورت نہیں ہے اور عدالت کا آخری فیصلہ ہونے تک صبر کرنا ہوگا اور اس معاملہ میں جلد بازی کرنے سے کچھ نہیں ہوگا۔