لوک عدالت ، میڈئیشن(مصالحت) اور دارالقضاء کی حقیقت کیا ہے ؟
12:45PM Sat 24 Dec, 2016
ٹمکورو:24؍دسمبر( راست) ٹمکور کے ممتاز اڈوکیٹ امتیاز احمد خان نے لوک عدالت ، میڈئیشن اور دارالقضاء کے سلسلے میں ایک تفصیلی مضمون روانہ کیا ہے جو قابلِ غو رہے ۔ سن 1988میں حکومت ہند کی جانب سے لیگل سرویس اتھارٹیس ایکٹ جاری میں آیا ، اس کے تحت عدالتوں سے فریقین میں صلح کرانے کی اور عوام کو قانونی امداد دینے کیلئے قائم کیا گیا ۔ 1994 میں سیکشن 8؍ میں ترمیم کرکے وضاحت کی گئی ہے کہ اسٹیٹ اتھارٹی دیگر معاونین کو ساتھ لے کر اس ایکٹ کے اغراض و مقاصد کو کامیاب کروائیں ۔ او راسی میں آگے یہ بات بتائی گئی ہے کہ سرکاری ادارے اور غیر سرکاری اداروں سے تعاون حاصل کرکے غریب عوام کو قانونی راہ دکھلائی جائے ۔ اس کے بعدحکومت ہند نے کوڈ آف سیول پروسیجر کو 2002میں ترمیم کرکے سیکشن 89میں (D) اس کے تحت میڈئیشن یعنی مصالحت کو نافذ کیا گیا ، اسی کے تحت ہر ضلع میں ضلعی عدالتوں کی سرپرستی میں میڈئیشن سنٹر قائم کئے گئے ہیں ۔ اور بنگلورو میں اس کا نام بنگلورو میڈئیشن سنٹر رکھا گیا ہے ۔ جو سدیّا روڈ بنگلورو میں موجود ہے او راس کی سرپرستی کرناٹکا ہائی کورٹ کے جج کرتے ہیں ۔ اس سنٹر سے کئی احباب کو فائدہ پہنچا ہے جسکے تحت فیملی کورٹ میں جو بھی مقدمہ دائر کیا جاتا ہے دونوں فریقین کی حاضری کے بعد میڈئیشن سنٹر کو جانا لازم قرار دیا گیا ہے اور یہاں پر مصالحت کی جاتی ہے جس سے کم خرچ میں اور وقت ضائع کئے بغیر فیصلہ حل ہوجاتا ہے ۔ ہر فریق جو عدالت کو آتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ وہ سچا ہے او راس کا مقدمہ سچا ہے ، سچ ہو یا جھوٹ ہو دونوں کی اپنی بات منوانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور وہاں پر یہ بات بتائی جاتی ہے کہ دونو ں اپنے اپنے طریقے پر مقدمہ جیت گئے ہیں ۔ (Win to win Policy) کے تحت کئی سینئیر اڈوکیٹس کو ٹریننگ دی گئی ہے کہ اور ٹریننگ اب بھی دی جارہی ہے ۔ یہ دونوں ایکٹ کے تحت حکومت اور عدالت یہ چاہتے ہیں کہ فریقین میں صلح ہوجائے او رآپس میں باہم تعلقات قائم رکھے جائیں ۔ دارالقضاء : رہی بات دارالقضاء کی جو مسلم پرسنل لاء بورڈ اور امارت شرعیہ کے زیر اہتمام قائم کئے گئے ہیں ،اس کا مقصد بھی یہی ہے کہ مسلمانو ں کے درمیان مصالحت کی جائے اور رشتوں کو برقرار رکھا جائے ، کیونکہ ہر نکاح میں جو پہلی آیت پڑھی جاتی ہے اور یہ سورہ نساء کی پہلی آیت ہے اس آیت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ رشتوں کو توڑنا حرام ہے ، پھر سورۂ توبہ کی آیت نمبر 17؍ میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ مومن مرد اور عورت آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ، مددگار اور معاون ہیں ، بھلائیو ں کا حکم دیتے ہیں او ربرائیوں سے روکتے ہیں ۔ حدیث مبارکہ سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ مومن مومن کیلئے دیوار کی طرح ہے جس کی ایک اینٹ دوسری اینٹ کی مضبوطی کا ذریعہ ہے اور آگے یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ مومنوں کی مثال آپس میں ایکدوسرے کے ساتھ محبت کرنے اور رحم کرنے میں ایک جسم کی طرح ہیں ۔ جسم کے ایک عضو کو تکلیف ہوتی ہے تو سارا جسم اس کا شکار ہوجاتا ہے او ربیدار رہتا ہے ۔ سورۂ الحجرات میں آیت نمبر 10 میں یہ بات بتائی جاتی ہے ’’ یاد رکھو ! سارے مسلمان بھائی بھائی ہیں ، پس اپنے دو بھائیوں میں ملاپ کرا دیا کرو او راﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کردیا جائے ۔ سورۂ نساء کی آیت نمبر 35میں یہ بات بتائی جاتی ہے کہ ’’ اگر تمہیں میاں بیوی کے د رمیان آپس کی ان بن کا خوف ہو ایک منصف مرد کے گھر والوں میں میں سے او رایک عورت کے گھر والوں میں سے مقرر کرو ، اگر وہ دونوں صلح کرانا چاہے تو اﷲ دونوں میں ملاپ کردے گا ، یقیناً اﷲ تعالیٰ پورے علم اور پوری خبر رکھنے والا ہے ‘‘ مذکورہ بالا آیتوں سے او راحادیث سے یہ بات صاف ظاہر ہوجاتی ہے کہ اﷲ او راس کے رسولؐ نے واضح کردیا ہے کہ جب بھی مومنین کے اندر جھگڑے ہوں تو دوسرے مومن کو ان میں صلح کرانے کا کام کرنا فرضِ عین بن جاتا ہے ۔ ہندوستان میں برٹش حکومت کے دور میں مسلمانوں کے مقدمات کو قاضیوں کے ذریعہ حل کرنے کیلئے قانون بنایا گیا جو قاضی ایکٹ ہے وہ ابھی تک منسوخ نہیں ہوا ہے ۔ او راسکے بعد عدالتیں قائم ہوئیں او ران عدالتوں میں مسلمانوں کے نجی معاملات قرآن و حدیث کے قوانین پر فیصلے کے جاتے رہے ، جب عدالتوں نے مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی تو اس وقت کے علمائے کرام خصوصاً مولانا شبلیؒ اور دیگر علمائے کرام کی سرپرستی میں مسلم لیڈروں کی قیادت میں مسلم پرسنل لاء 1915 میں بنایا گیا اور پھر 1937 میں شریعت اپلیکیشن ایکٹ کو نافذ کیا گیا ، آزادی کے بعدمسلم پرسنل لاء کو نافذ کیا گیا جو آج بھی جاری ہے ۔ جب بار بار ہندوستان کی عدالتوں میں مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی جاتی رہی تو مسلم پرسنل لاء بورڈ، اور علمائے کرام جگہ جگہ دارالقضاء امارتِ شرعیہ قائم کئے گئے ۔ علمائے کرام کو قضاوت کی تربیت دی گئی ہے او ران علمائے کرام کو قاضی کے عہدے کے پر مقرر کیا گیا ہے اور یہ قاضی حضرات امارتِ شرعیہ کی نگرانی میں قرآن و حدیث و سنت کے مطابق باہمی فریقین میں مصالحت کرانے کی کوشش کر رہے ہیں او رمصالحت کئے ہیں ، جب میاں بیوی میں علاحدہ ہونے کی نوبت آجاتی ہے اس وقت جو طریقہ قرآن و سنت میں بتایا گیا ہے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں ابھی تک عدالتوں میں جماعتوں کے فیصلے قاضی کے فیصلے کو اہمیت دی جارہی ہے او رابھی تمل ناڈو میں مدراس ہائی کورٹ میں دارالقضاء کو بند کرنے کیلئے ہمارے ہی ایک مسلمان بھائی کی عرضی پر فیصلہ لیا ہے جبکہ حکومت ہند ، سپریم کورٹ اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ مقدمے آپسی رضامندی سے مصالحت کروائے جائیں ۔ قانونی مصالحت یعنی میڈئیشن کو ترغیب دی جارہی ہے جبکہ دارالقضاء اسی کام کو اپنے ذمہ لے کر بخوبی انجام دے رہے ہیں ۔ او راسی کو بند کرنے کیلئے عدالت کوشاں ہے ۔ اسلئے ہم لوگ اس بات کی کوشش کریں اور صحیح بات کو مٹنظر عام پر لائیں اور عدالتوں کو بتلائیں کہ دارالقضاء ایک مصالحتاً ادارہ ہے اور بہت سارے مسلمانوں کو اس سے استفادہ ہو رہا ہے ۔ اﷲ او راس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی ہدایت ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور آپس میں مصالحت کرانا مومنو ں کا کام ہے ۔(رابطہ کریں 9886435273)