بابری مسجد کے مسئلہ پر پرسنل لاء بورڈ کے موقف کے ساتھ ملی کونسل ہے

03:56PM Tue 18 Apr, 2017

نئی دہلی۔(بھٹکلیس نیوز) آل انڈیا ملی کونسل نے ممبئی سے جاری اس بیان پر سخت استعجاب کا اظہار کیا ہے جو ملی کونسل کے حوالے سے ہندی روزنامہ ’’دینک جاگرن‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ کونسل سے جاری بیان میں جنرل سکریٹری، آل انڈیا ملی کونسل ڈاکٹر محمد منظور عالم نے یہ واضح کیا ہے کہ 17؍ اپریل 2017 کے ہندی روزنامہ میں ایم۔ اے۔ خالد ممبئی کا جو بیان بابری مسجد کی آراضی کے تعلق سے ممبئی کے نامہ نگار اوم پرکاش تیواری نے شائع کرایا ہے، وہ انتہائی غلط، بے بنیاد اور شرمناک ہے۔ آل انڈیا ملی کونسل اس پر اپنے شدید استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتی ہے کہ ملی کونسل کے حوالے سے متعلقہ شخص کا بیان کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے اور کونسل کی جانب سے وہ مطلقاً مجاز ہی نہیں کہ اس قسم کا بیان دے۔ کونسل متعلقہ شخص کے خلاف ضروری تادیبی کارروائی کرے گی۔ جنرل سکریٹری کونسل نے پرزور انداز میں یہ واضح کیا کہ ملی کونسل کا اس کی تاسیس سے ہی متفقہ فیصلہ ہے کہ بابری مسجد کے قبضے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ جو کچھ بھی فیصلہ کرے گا، ملی کونسل ایسے معاملات میں بورڈ کے فیصلہ کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کسی کو بھی یہ حق نہیں ہے کہ وہ ملی کونسل کا نام منسوب کر کے اپنے مفادات کے حصول کے لیے کوئی مذموم کوشش کرے۔ ملی کونسل کا یہ واضح موقف ہے کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے یہ اور اس طرح کے معاملات میں جو بھی فیصلہ ہو، کونسل کا یہ دینی واخلاقی فریضہ ہو گا کہ وہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ساتھ جائے۔