گؤ رکشا کے نام پر تشدد معاملہ،سپریم کورٹ سخت،راجستھان،ہریانہ اوریوپی حکومت کو سپرریم کورٹ کا توہین عدالت نوٹس جاری
03:03PM Mon 29 Jan, 2018
دہلی۔راجستھان ،ہریانہ اور اتر پردیش میں مبینہ گورکشکوں کے حملے روکنے میں ناکامی کو لیکر سپریم کورٹ نے بیحد سخت رخ اپناتے ہوئے تینوں ریاستوں کےچیف سکریٹریز توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا ہے۔اس معاملے میں تشار گاندھی نے سپریم کورٹ میں دائراپنی عرضی میں الزام لگایا تھا کہ کورٹ کے حکم کے باوجود ریاستی حکومتیں گؤرکشکوں پر لگام لگانے ناکام رہی ہیں۔گاندھی نے کہا عرضی میں سپریم کورٹ کے گزشتہ حکم بعد سے مبینہ گؤرکشکوں کے ذریعہ کئے ایسے ہی سات حملوں کا بھی ذکر کیا ہے۔
بتادیں کہ راجستھان میں گؤ رکشکو ں کے ذریعہ پہلوخان کا پیٹ ۔پیٹ کر قتل کئے جانے کے معملے میں سماعت کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے گز شتہ سال ستمبر میں کہا تھا ۔"گؤرکشکوں کے نام پر تشدد میں ملوث لوگوں کو قانون کے شکنجے میں لانے کی ضرورت ہے"کورٹ نے ریاستی حکومتوں کو ایسے معاملوں کے متاثروں کو معاوضہ دینے کی ہدایت دی تھی۔
سپر یم کورٹ نے گؤ رکشکوں کے نام پر تشددکرنے والوں پر لگام کیلئے ہر ضلع میں نوڈل افسر تعینات کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کے ان احکام پر اب تک عمل نہیں ہواہے۔ایسے میں سپریم کورٹ نے بھی سخت رخ اپناتے ہوئے تینوں ریاستوں کے چیف سکریٹریزکو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا اور ان سے 3اپریل تک اپنا جواب دینے کو کہا ہے۔